سارے چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی !
ناصف اعوان
اٹھہتر برس سے جو لوگ اپنی مرضی کرتے چلے آرہے ہیں انہیں اب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو وہ انتظامیہ کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں مگر انتظامیہ‘ انتظامیہ ہوتی ہے اس کے پاس اختیارات ہوتے ہیں ہر نوع کی طاقت ہوتی ہے لہذا وہ کسی بھی رکاوٹ کو عبور کر جاتی ہے ۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت مل بھر میں نئے نئے منصوبے شروع کر رہی ہے یا کر چکی ہے ۔ان کا فائدہ عوام کو پہنچے گا پہنچ رہا ہے مگر ایسے بھی ہیں جو ان منصوبوں سے ناخوش ہیں کیونکہ ان کو فائدہ حالتِ کّل سے حاصل ہو رہا تھا ۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی بھی ساعت ساکت نہیں ہوتی گھڑی کی سوئیاں مسلسل آگے کی طرف حرکت کرتی ہیں لہذا حکومتی اقدامات سے متعلق انہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے وہ پریشان بھی ہوں تو بھی حکومت نے جو سوچ لیا ہے اس پر عمل کرکے رہنا ہے۔
خاص کر پنجاب کی وزیر اعلیٰ جو نت نئے قوانین اور منصوبے بنارہی ہیں ان کو عملی جامہ پہنا کر رہے گی۔ ان کے بہت سے منصوبے حیران کن بھی ہیں کہ آج تک کسی حکومت نے درزیوں کے حوالے سے کوئی قانون نہیں بنایا تھا وہ اب تک سلائی کے جتنے پیسے مانگتے تھے دینا پڑتے ۔ اگرچہ چوری چھپے وہ پہلے کی طرح وصول کریں گے مگر ان کی شکایت بھی ہو سکتی ہے اور پھر انہیں جرمانہ بھی ہوسکتا ہے ۔اس طرح جب ہر شعبے میں بڑھتی ہوئی گرانی کو نیچے لایا جائے گا تو مجموعی طور سے صورت حال خوشگوار ہو جائے گی بشرطیکہ یہ سلسلہ رکے نہیں ۔
ہم اپنے کالموں اور ٹی وی پروگراموں میں اکثر یہ بات کرتے آرہے ہیں کہ جب تک صنعتی میدان میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی غربت جہالت اور بھوک ختم نہیں ہوں گے لہذا اس طرف توجہ دی جائے۔ کم از کم پنجاب حکومت نے اس پہلو پر غور کر لیا ہے کہ اس نے سو دن سو صنعتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ظاہر ہے اب اس سے بے روزگاری کم کرنے میں مدد ملے گی جو نوجوان فارغ التحصیل ہیں انہیں یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ حکومت ان کے بارے میں کچھ نہیں سوچتی کچھ۔ ہی کرتی ؟
پورے صوبے میں سڑکوں کو کشادہ کرنے کے ساتھ خوبصورت بنایا جارہا ہے کہ ان کی اطراف میں گرین بیلٹ بچھائی جارہی ہے ۔ اب یہ بات بھی کتنی منفرد ہے کہ یہ جو پان کی پیک جگہ جگہ پھینکی جاتی ہے اس کے لئے بھی قانون بن گیا ہے ۔گلی محلوں کی سطح پے صفائی ستھرائی کی مہم کو ایک منظم انداز سے چلایا جا رہا ہے آج تک ایسا نہیں ہوا تھا ۔ چھوٹے سے لے کر بڑے مسائل تک کو دیکھا جا رہا ہے اور یہ بتدریج حل ہوتے جائیں گے ۔
بہرحال یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ حکومت کو جو ماہر نفسیات میسر ہیں وہ بڑے ذہین ہیں انہیں معلوم ہے کہ لوگوں کی ہمدردیاں کیسے حاصل کی جاتی ہیں انہیں یہ بھی علم ہے کہ کچھ لوگ جنہیں پرانی عادتیں تبدیل کرنے میں دشواری یش آرہی ہے وہ آخر کار قانون کے دھارے میں شامل ہو جائیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ قانون سے کے لئے ہونا چاہیے ۔ اقربا پروری سے اجتناب برتا جائے ۔یہ جو تاثر عام ہے کہ حکمران اپنی تجوریاں بھرتے ہیں زائل ہونا چاہیے ۔
یہاں ہم یہ عرض کر دیں کہ ابھی تک ملاوٹ کے خاتمے کےلئے کوئی ماسٹر پلان نظر نہیں آیا ۔ ہر چیز ناخالص اور غیر معیاری ہے ۔ دودھ کی مثال دی جا سکتی ہے کہ اس میں زہریلے مادے شامل کیے جا رہے ہیں ۔ اس کی فروخت کرنے والوں کو جرمانے ہی نہیں بیچ چوراہے میں کوڑے بھی مارے جائیں یہ تو کسی کی جان دشمنی ہے لہذا اس طرف فی الفور متوجہ ہوا جائے عوام کے دل میں حکومت کی قدر و قیمت بڑھ جائے گی ۔
دیکھیے لوگ اپنے مسائل کی بنیاد پر کسی کو اپنا حکمران بناتے ہیں یا کوئی کسی ”دوسرے“ راستے سے بھی وہ وزیر اعظم بنتا ہے تو اس سے انہیں فلاح و بہبود کی ہی توقع ہوتی ہے مگر اگر وہ اقتدار کے نشے میں مست رہتا ہے تو وہ اس سے اپنا رُخ پھیر لیتے ہیں ۔ موجودہ حکومت (پنجاب اور مرکز) کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ ماضی میں عوامی بھلائی کے کاموں سے بڑی حد تک صرف نظر کرتی رہی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے پی ٹی آئی کی جانب منہ کر لیا مگر وہ بھی جب ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی تو انہوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ ” بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا“ کے مصداق اگر اس کی حکومت نہ جاتی تو اسے مقبولیت نہیں ملتی۔ اب مگر جب عوامی بھلائی کے منصوبے دھڑا دھڑ بن رہے ہیں اور ایسے ایسے بن رہے ہیں کہ ہمارے گمان میں بھی نہیں تو لوگوں کی رائے تبدیل ہو رہی ہے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی آئندہ بھی رہے مگر شاید ایسا ممکن نہیں کیونکہ سیاسی صورت حال بدل رہی ہے ؟
مگر موجودہ حکومت کو اپنی مقررہ مُدت پوری کرنی چاہیے اس دوران اگر وہ ملکی تعمیر و ترقی کے لئے مزید کوششیں اور اقدامات کرتی ہے تو عام انتخابات میں بدلتی صورت حال اس کے حق میں بھی جا سکتی ہے کیونکہ عوام چہرے نہیں کام دیکھتے ہیں ۔
بہر کیف یہاں کی سیاست غیر سنجیدہ اور غیر مستحکم ہوتی ہے لہذا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کیا ہو جائے مگر سیاست کے اس کھیل میں عوام کی حالت بہتر نہیں ہو سکی وہ بنیادی مسائل سے چھٹکارا نہیں پا سکے لہذا اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سب کو مل کر چلنا ہوگا ۔ہمارے معروضی حالات بھی ٹھیک نہیں بیرونی ممالک سے سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جو منصوبے شروع کیے گئے ہیں ان کے لئے بھاری قرضہ لیا گیا ہے لہذا انہیں اتارنے کے






