#کالم

ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ: جنگ کی انسانی قیمت اور امن کی ضرورت

Untitled 3

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے یہ تلخ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوتی۔ یہ محض ایک عارضی حل نہیں بلکہ انسانی تاریخ پر ایسا زخم چھوڑ دیتی ہے جو برسوں بلکہ نسلوں تک مندمل نہیں ہو پاتا۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں اور جوابی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ لڑائیاں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعووں کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ نقصان عام شہری اٹھا رہے ہیں، وہ شہری جو نہ جنگ چاہتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں ان کی کوئی شمولیت ہوتی ہے۔
اگر ہم اس المیہ کو عالمی منظر نامے پر دیکھیں، تو صاف نظر آتا ہے کہ دنیا اس وقت کئی محاذوں پر جل رہی ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان جاری طویل جنگ نے یورپ کے امن کو ہلا کر رکھ دیا ہے، لاکھوں افراد اپنی جان اور گھر بار سے محروم ہوئے ہیں، اور معصوم بچے اسکول جانے کے بجائے خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے ایک پوری نسل کو محاصرے، تشدد اور بے بسی کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور کیا ہے۔ سوڈان کی خانہ جنگی نے ریاستی ڈھانچے کو تباہ کر دیا، لاکھوں افراد فاقہ کشی، بیماری اور بے گھری میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یمن کی طویل اور نظر انداز کی گئی جنگ نے نہ صرف انفراسٹرکچر کو تباہ کیا بلکہ ایک پوری نسل کو بمباری، قحط اور بیماری کے درمیان جوان کر دیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی نے خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے، اور یہ کشیدگیاں نہ صرف انسانی زندگیوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ عالمی معیشت، تجارت اور سیاسی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔
یہ تمام جنگیں اور تنازعات ایک مشترکہ حقیقت سامنے لاتے ہیں: عام انسان سب سے بڑا نقصان اٹھاتا ہے۔ جنگ کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا وار انسانی جان پر پڑتا ہے۔ معصوم بچے جو اپنی زندگی کی ابتدائی خوشیوں، کتابوں، کھیل اور خوابوں کے حق دار ہوتے ہیں، وہ بموں کی گھن گرج اور گولیوں کی آواز میں آنکھ کھولتے ہیں۔ اسکول، جو علم کے مراکز ہونے چاہئیں، ملبے کے ڈھیر بن جاتے ہیں، اور ہسپتال، جو زندگی بچانے کے لیے قائم کیے گئے تھے، خود نشانہ بن جاتے ہیں۔ عورتیں، جو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں، اپنے بچوں کو بچانے کے لیے بے گھر، بے سہارا اور صدموں سے بھرپور زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ بوڑھے لوگ، جو اپنی زندگی کے آخری حصے میں سکون اور تحفظ چاہتے ہیں، دربدر ہونے، قطاروں میں کھڑے ہونے اور امداد کے انتظار میں دن گزارتے ہیں۔
جنگ صرف جسمانی ہلاکتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ ذہنی اور نفسیاتی زخم بھی چھوڑتی ہے۔ خوف، اضطراب، ڈپریشن اور صدمے ایک اجتماعی حقیقت بن جاتے ہیں اور پورے معاشرے کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ بچے جو جنگ میں اپنے والدین کھو دیتے ہیں، نفرت، انتقام اور تشدد کے جذبات کے ساتھ جوان ہوتے ہیں۔ اس طرح تشدد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ پیدا ہوتا ہے، جو نسلوں تک جاری رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگیں معاشی تباہی بھی لاتی ہیں۔ زراعت تباہ ہو جاتی ہے، صنعتیں بند ہو جاتی ہیں، روزگار ختم ہو جاتا ہے، اور مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے۔ ریاستی وسائل تعلیم، صحت اور فلاح کے بجائے ہتھیاروں اور فوجی اخراجات پر خرچ ہونے لگتے ہیں، جس کا نتیجہ غربت، بھوک اور سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے۔
پناہ گزینوں کا بحران بھی جنگ کا ایک ہولناک پہلو ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے گھروں، زمینوں اور شناختوں کو چھوڑ کر سرحدوں کے پار جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کیمپوں میں غیر انسانی حالات میں زندگی گزارتے ہیں، نہ مناسب تعلیم میسر ہوتی ہے، نہ صحت کی سہولت، اور نہ مستقبل کا کوئی واضح راستہ۔ یہ عارضی بے گھری اکثر مستقل محرومی میں بدل جاتی ہے۔ بچوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے، تعلیم سے دور رہتے ہیں، اور مستقبل کی امید کمزور ہو جاتی ہے۔ خواتین کو اپنی حفاظت کے لیے ہر دن جدوجہد کرنی پڑتی ہے، اور بوڑھے افراد نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہوتے ہیں۔
عالمی برادری اکثر جنگوں پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ قراردادیں منظور ہوتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں، مگر عملی طور پر طاقتور ممالک کے مفادات، اسلحے کی تجارت اور سیاسی مفاد انسانی جانوں پر غالب آ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جنگیں ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتی ہیں، اور عالمی سطح پر عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے بھی جنگ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر انسانی جان سب سے قیمتی ہے تو پھر کسی بھی مقصد، نظریے یا سرحد کے نام پر معصوم انسانوں کا قتل کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگوں سے نہ کبھی حقیقی امن ملا ہے اور نہ حقیقی انصاف، بلکہ ہر جنگ اپنے بعد مزید نفرت، عدم استحکام اور نئے تنازعات کو جنم دیتی ہے۔
ایران اور اسرائیل کی موجودہ کشیدگی اس بات کی واضح مثال ہے کہ طاقت کے مظاہرے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور علم میں بے مثال ترقی کے باوجود اگر دنیا اب بھی اختلافات کو حل کرنے کے لیے بم، میزائل اور بندوق کا سہارا لے رہی ہے تو یہ ترقی نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ اصل حل طاقت کے مظاہرے میں نہیں بلکہ مکالمے، سفارت کاری، انصاف اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ اختلافات کا ہونا فطری ہے، مگر انہیں حل کرنے کا راستہ جنگ نہیں بلکہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے