#کالم

شناختی کارڈ بنوانا،ھماری قومی ذمہ داری ۔۔۔ !!

Untitlesssdddd 1

پیرمشتاق رضوی

نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مطابق ملک کی 97 فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔نادرا نے اس حوالے سے سالانہ رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کرادی ہے جس کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ شہریوں کی تعداد 22 کروڑ 70 لاکھ ہے اور ملک کی 97 فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے، رجسٹرڈ افراد میں 48 فیصد خواتین اور 52 فیصد مرد شامل ہیں۔ نادرا کی پورٹ کے مطابق کے مطابق 3 کروڑ 19 لاکھ بچوں کی پیدائش کا اندراج یونین کونسلز میں ہو چکا ہے تاہم یہ بچے تاحال نادرا سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ نادرا کے بائیومیٹرک ڈیٹا بیس میں 17 کروڑ شہریوں کے چہروں کی شناخت موجود ہے جبکہ ایک ارب 68 کروڑ فنگر پرنٹس اور 70 لاکھ افراد کی آنکھوں کا ڈیٹا محفوظ ہے۔نادرا کی رپورٹ کے مطابق مجموعی رجسٹریشن میں 11 فیصد اضافہ ہوا، بچوں کی رجسٹریشن میں 18 فیصد جبکہ خواتین کی رجسٹریشن میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں نادرا کے 938 رجسٹریشن سینٹرز فعال ہیں، سال 2025ء کے دوران 75 نئے رجسٹریشن سینٹرز اور 138 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کی رجسٹریشن اور سہولت کو بھی وسعت دی گئی۔ پاک آئی ڈی ایپلیکیشن نادرا کی 15 فیصد ذمہ داری سنبھال چکی ہے اور اس کی ڈاؤن لوڈز کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے
پیدائش سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کی مشروط سہولت فراھم کردی گئی ہے قومی شناختی نظام میں تقریباً 98.3 فیصد بالغ آبادی کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود تقریباً 1.7 فیصد بالغ افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ بالغ ہونے کے باوجود شناختی کارڈ نہ بنوانے والے شہریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے، اور بعض ایسے اضلاع جہاں مقامی حکومت کے اداروں سے پیدائش کی سول دستاویزات بنوانے والوں کی تعداد کم ہے، وہاں شناختی کارڈ نہ بنوانے والوں میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ نادرا مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش کا سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پہلی بار رجسٹریشن کرتا ہے اس کی غیرموجودگی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔
سال 2025ء کی سالانہ رپورٹ کی تیاری کے دوران نادرا نے ادارۂ شماریات پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں، قومی کمیشن برائے بہبودِ اطفال و ترقی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ دس برس کے رجسٹریشن کے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیااس تجزیے میں آبادی کے رجحانات، مختلف اضلاع اور اصناف کے درمیان فرق کا جائزہ لے کراس خلاء کے اسباب کی نشاندہی کی گئی اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے۔ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے ایک منظم اور قانونی بنیاد پر مبنی سہولت متعارف کرانے کی ہدایت جاری کی، جس کی منظوری بعد ازاں نادرا اتھارٹی بورڈ نے بھی دے دی ۔ اسی تناظر میں نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کے لیے ایک مخصوص سہولت متعارف کرائی ہے، جو 31 دسمبر 2026ء تک مؤثر رہے گی۔ اس طریقۂ کار کے تحت ایسے افراد جن کے پاس مقامی حکومت کا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو، انہیں تصدیق کی شرائط پوری ہونے پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکے گا۔ یہ سہولت نادرا آرڈیننس اور قومی شناختی کارڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کی ان شقوں کے تحت دی جا رہی ہے جو نادرا کو رجسٹریشن میں اضافے کی غرض سے مخصوص حالات میں متبادل تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔اس سہولت کے تحت شناختی کارڈ صرف ان افراد کو جاری کیا جائے گا جن کی شناخت نادرا کے موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر متعین کی جا سکے اور پہلے سے رجسٹرڈ خاندان کے قریبی افراد کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہو جائے۔ اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خاتون کے لیے مقامی حکومت کا مستند نکاح نامہ، والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، شوہر کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، اور والدین میں سے کسی ایک اور شوہر کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی غیر شادی شدہ خاتون کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کے حامل والد یا والدہ کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔24 سال سے زائد عمر کے مرد درخواست گزار کے لیے ضروری ہو گا کہ والدین میں سے کسی ایک کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو اور کم از کم ایک بہن یا بھائی بھی رجسٹرڈ ہو، جبکہ والدین میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
اگر کسی درخواست گذار کے والد اور والدہ دونوں یا شوہر وفات پا چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو تو مجاز افسر ریکارڈ کی بنیاد پر جانچ کے بعد بائیو میٹرک کی تصدیق سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔محدود مدت کی یہ سہولت تصدیق کے ان مراحل کی تکمیل سے مشروط ہو گی۔ مزید سہولت کے لیے اس طریقۂ کار کے تحت نارمل کیٹیگری میں نان اسمارٹ شناختی کارڈ کسی فیس کے بغیر جاری کیا جائے گا۔
قومی شناختی نظام میں اندراج کے بعد ولدیت، تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش ناقابلِ تنسیخ اور ناقابلِ تبدیلی ہوں گے۔ نادرا کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت تمام معلومات کی درستی کو یقینی بنائیں۔ ان شرائط پر پورا اترنے والے اہل درخواست گزار مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے اپنا شناختی کارڈ بنوائیں اور اپنی قومی ذمہ داری نبھائیں کیونکہ شناختی کارڈ ھماری قومی پہچان ہے
علاوہ ازیں نئی اپڈیٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 44 کے تحت قومی شناختی کارڈ قواعد 2002 اور پاکستان اوریجن کارڈ قواعد 2002 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ ترامیم S.R.O. 330(I)/2026 اور S.R.O. 331(I)/2026 کے ذریعے 24 فروری 2026 کو گزٹ آف پاکستان میں شائع کی گئیں۔
ان اصلاحات کے ذریعے پاکستان کے شناختی دستاویزاتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے کیو آر پر مبنی تصدیق کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، ڈیجیٹل خدمات میں توثیقی کنٹرول کو مضبوط بنایا گیا ہے،

شناختی کارڈ بنوانا،ھماری قومی ذمہ داری ۔۔۔ !!

مامتا کی تلاش

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے