#کالم

اخوت یونیورسٹی قصور اور قومی اہل قلم کانفرنس 2026ء

راؤ غلام مصطفی

تحریر:راؤ غلام مصطفی
Email:rgmustafa555@yahoo.com

اکادمی ادبیات اطفال اور بچوں کے مقبول عام میگزین پھول کے زیر اہتمام عرصہ دس سال سے بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے قومی اہل قلم کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس کانفرنس میں منتخب ادیبوں کی پذیرائی کے لئے ادبی خدمات پر ایوارڈز، سرٹیفکیٹس اور تحائف دئیے جاتے ہیں۔ہر سال ملک بھر سے چنیدہ ادب پرور احباب اس کانفرس میں شریک ہوتے ہیں۔جو برادرم شعیب مرزا کی بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے محنت،لگن ،صادق جذبے اور اپنے مقصد سے بے مثل اخلاص کو نمایاں کرتا ہے۔محترم شعیب مرزا بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے مصروف عمل ہیں۔بچوں کا ادب وہ تخلیقی سرمایہ ہے۔جو خاص طور پر کم عمر قارئین کی ذہنی سطح،نفسیاتی ضروریات اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھ کر تخلیق کیا جاتا ہے۔اس میں کہانیاں، نظمیں، ناول،ڈرامے،لطیفے،معلوماتی مضامین اور تصویری کتب شامل ہوتی ہیں۔بچوں کا ادب نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ کردار سازی،تخیل کی پرورش اور زبان کی نشوونما میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔بچوں کے مشہور رسائل نے نسلوں کی ذہنی آبیاری کی ہے۔اردو میں بچوں کا ادب ابتدا میں زیادہ تر اخلاقی اور اصلاحی نوعیت کا تھا۔لیکن بدلتے حالات کے تقاضوں نے اس میں سائنسی اور تخیلاتی موضوعات بھی شامل کر دیئے ہیں۔ڈیجیٹل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ بچوں کے ادب کی صورتیں بھی بدل گئی ہیں۔اب ای بکس اور انٹرایکٹو کہانیاں عام ہو چکی ہیں۔لیکن اس کے باوجود مطبوعہ کتاب کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔کیوں کہ مطالعہ بچوں کی توجہ اور یکسوئی میں اضافہ کرتا ہے۔بچوں کا ادب کسی بھی معاشرے کی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔یہ نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ بچوں کو ایک باشعور ،با اخلاق اور تخلیقی انسان بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔اور بامقصد بچوں کا ادب تخلیق کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تا کہ آنے والی نسلیں بہتر اقدار اور وسیع النظر سوچ کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔دسویں قومی اہل قلم کانفرنس 2026ء کا انعقاد کا انتخاب اس بار زندہ دلان لاہور کی دھرتی سے چالیس کلو میٹر دور بابا بلھے شاہ کے شہر قصور کا کیا گیا۔بانی و چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب کی خواہش پر اخوت یونیورسٹی قصور میں اس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ بابا بلھے شاہ کا شہر جہاں عشق حقیقی، مذہبی رواداری
اور انسان دوستی کو نمایاں کرتا ہے۔وہیں قصور کی ادبی محفلیں،مشاعرے اور عرس کے اجتماعات اس شہر کو ایک روحانی اور ادبی مرکز بناتے ہیں۔قصور جہاں ادب،ثقافت اور صوفی روایات کا مرکز ہے۔وہیں یہ شہر انسان دوستی اور مواخات کی زندہ مثال بھی بن چکا ہے۔اگر آپ لاہور سے قصور کا سفر کریں۔تو تقریبا چالیس منٹ کی مسافت پر مصطفٰی آباد(للیانی) ٹول پلازہ آتا ہے۔جہاں سے بی آر بی نہر بھی گزر رہی ہے۔ یہ نہر جرآت، بہادری اور دفاع کی علامت سمجھی جاتی ہے۔65ء اور 71ء کی جنگوں میں جب دشمن لاہور پر غلبے کی خواہش کے ساتھ اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنے کے لئے حملہ آور ہوا تھا۔پاک دھرتی کے سرحدی و نظریاتی محافظ بی آر بی نہر پر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔اور دشمن کے ناپاک عزائم کو راکھ اور خاک کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔اس نہر سے ملحقہ پختہ سڑک سے جب آپ جانب مشرق دو کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں۔وہاں آپ کو بی آر بی بہتی نہر کا دلفریب منظر جہاں تازگی اور جرآت و بہادری کا احساس دلاتا ہے۔وہیں وسیع و عریض پر فضا ماحول میں اخوت یونیورسٹی کی دیدہ زیب عمارت بھی نظر آتی ہے۔جو پر سکون ماحول، سرسبز و شاداب لان،کشادہ کلاس رومز، جدید طرز کی لیبارٹریاں،نظم و ضبط،با اخلاق منظم سیکورٹی نظام اور طلبہ کو بہترین سہولیات فراہم کرتی ہے۔قصور میں واقع یہ اخوت یونیورسٹی ملک کے معروف فلاحی ادارے اخوت فاؤنڈیشن کا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے۔اور یہ کالج مستحق اور ذہین طلبہ کو مکمل مفت(بلا معاوضہ)معیاری تعلیم اور رہائش فراہم کرتا ہے۔شاید میں کبھی اس مواخات کے ماحول کے منظر کو مطالعہ کی حد تک جان پاتا۔لیکن اس کانفرنس کے انعقاد نے عملی طور پر اس ماحول کو پرکھنے کا موقع فراہم کیا۔جب ہم اخوت یونیورسٹی پہنچے تو اخوت کالج کے ایڈمنسٹریٹر میجر(ر)اعظم کمال نے خوش آمدید کہا۔ کانفرنس ہال میں ملک بھر سے آئے خواتین و مرد حضرات ادیبوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔یہ اکادمی ادبیات اطفال، ماہنامہ پھول اور اخوت کی بے مثل کاوش کا نتیجہ تھا۔یہ کانفرنس تین سیشن پر مشتمل تھی۔کانفرنس سے بانی و چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب،اکادمی ادبیات اطفال کے چیئرمین شعیب مرزا،تسنیم جعفری،پروفیسر مسرت کلانچوی،ممتاز صحافی ندیم نظر،پروفیسر ڈاکٹر فضلیت بانو، جامعہ پنجاب شعبہ فارسی کی ہیڈ پروفیسر عظمی زریں،ممتاز کالم نگار ڈاکٹر حسن فاروقی،اخوت یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹر میجر(ر)اعظم کمال کے علاؤہ دیگر ممتاز علمی و ادبی شخصیات نے خطاب کیا۔اس بار ڈاکٹر ہارون رشید تبسم نے خطاب نہیں کیا۔کیوں وہ علیل تھے اور علالت کے باعث چند دن قبل وہ قلم قبیلہ کو داغ مفارقت دے گئے۔وہ عظیم استاد،دانشور،ادیب،سو سے زائد کتب کے مصنف اور نازش سرگودھا تھے۔ان کی رحلت سے دل رنجیدہ ہے۔ ان کی کانفرنس میں عدم شرکت سے تشنگی کا احساس رہا۔بہر حال قلم قبیلہ کے لئے ان کا انتقال سانحہ ہے۔ان کا خلا کبھی ختم نہیں ہو سکتا کیوں کہ پروفیسر ڈاکٹر ہارون رشید تبسم دنیا میں ایک ہی تھا جس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ اللہ تعالٰی انہیں غریق رحمت کرے اور پسماندگان کو ہمت اور صبر سے نوازے(آمین)۔دسویں قومی اہل قلم کانفرنس 2026ء نے شرکاءکو اس اخوت یونیورسٹی قصور کے انسان دوست مواخاتی ماحول کو پرکھنے کا موقع فراہم کیا۔ اخوت فاؤنڈیشن کے بے شمار فلاحی پروگرامز ہیں جن پر عملی طور پر کام ہو رہا ہے۔اخوت کالج ایک ایسا پروجیکٹ ہے۔جو مستحق طلبہ کو میرٹ پر سو فیصد اسکالر شپ(مکمل فیس،رہائش، کھانا،کتابیں وغیرہ)مفت فراہم کرتا ہے۔اخوت کالج صرف تعلیم کے زیور سے طلبہ کو آراستہ نہیں کرتا۔ بلکہ طلبہ کی کردار سازی میں بھی کلیدی کردار کا حامل ادارہ ہے۔جہاں اخلاقی تربیت، انسانی اقدار، بھائی چارہ،ایثار،محبت اور باہمی احترام کی جھلک آپ کو ملے گی۔قومی

اخوت یونیورسٹی قصور اور قومی اہل قلم کانفرنس 2026ء

28/02/2026 Daily Sarzameen Lahore

اخوت یونیورسٹی قصور اور قومی اہل قلم کانفرنس 2026ء

مامتا کی تلاش

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے