#کالم

فصیلوں کی عظمت اور باسیوں کی محبت 

Untitled 5 1

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان  

چولستان کی وسعتوں میں اگر کوئی جگہ سب سے زیادہ پہچانی جاتی ہے تو وہ قلعہ ڈیراور ہے ۔ایک ایسا قلعہ جس کی فصیلیں دور سے کسی داستان کا استعارہ لگتی ہیں ۔ قلعہ ڈیراور صرف تاریخی یادگار ہی نہیں بلکہ ایک زندہ بستی کا مرکز ہے ۔جہاں آج تک آبادی اس لیے قائم ہے کہ یہاں کے لوگوں نے اپنی دھرتی نہیں چھوڑی انہوں نےدیگر اٹھائیس برباد شدہ قلعوں کی طرح  نقل مکانی کو اپنامقدر تسلیم نہیں کیا ۔چولستان کی وسعتوں میں جب سورج آگ برساتا ہے تو ریت سونا نہیں انگارہ محسوس ہوتی ہے ۔اسی تپتے صحرا "روہی” کے بیچ فخر سے سراٹھاۓ کھڑا یہ قلعہ ڈیراور آج پاکستان ہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل سیاحت کی ایک تاریخی علامت سمجھی جاتی ہے ۔

کہتے ہیں کہ اس قلعے کی بنیاد ایک راجپوت حکمران نے رکھی تھی اور اس کی تعمیر کے لیے اوچشریف سے انسانی زنجیر بنا کر ایک ایک اینٹ یہاں تک  پہنچی تھی ۔مگر بعد ازاں اسے عباسی نوابوں نے اپنی شان کا نشان بنایا ۔خصوصا” نواب صادق محمد خان عباسی کے دورمیں اس کی موجودہ عظمت مزید نمائیاں ہوئی ۔یہ صرف اینٹوں اور مٹی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ یہ طاقت ،تہذیب اور تسلسل کی علامت ہے ۔یہ بادشاہوں اور نوابوں کی آخری آرام گاہ بھی ہے ۔یہی قلعہ آج چولستان جیپ ریلی کا مرکز بن چکا ہے ۔جی ہاں ! ریت کے اس سمندر میں چند دنوں کی گہما گہمی ،گاڑیوں کے انجنوں کی گھن گرج ،رنگین جھنڈیاں ،آتش بازی اور کیمروں کی چمک   ،آسمان پر اڑتے گلائیڈر ،نوجوانوں کا جوش و خروش ،ملکی وغیر ملکی مہمانوں کی آمد یوں لگتا ہے جیسے چولستان جاگ اٹھا ہے ۔اور اختتام پر  پھر اچانک خاموشی جیسے یہ ریلی یا میلہ نہیں ایک خواب تھا جو بکھر گیا ۔چولستان جیپ ریلی ہرسال سیاحت ،ایڈونچر اور ترقی کے حکومتی دعوں کا استعارہ بن کر آتی ہے ۔بہاولپور ،احمدپورشرقیہ کے شہر اور راستوں کی رونقیں بڑھتی ہیں ۔نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی نظریں اورتوجہ مرکوز ہوتی ہیں ۔پھر ایک خوبصورت خیمہ بستی یا ٹینٹ سٹی آباد ہوتی ہے ریگستان کی ریت رنگ برنگ گاڑیوں کے ٹائروں سے اڑتی ہے تو منظر کسی فلم کا سین  سا لگتا ہے مگر جیسے  ہی جیت کی ٹرافی لے کر گاڑیوں کے پہیے واپس اپنے شہروں کا رخ کرتے ہیں چولستان اور قلعہ ڈیراور پھر اپنی اصل حالت میں لوٹ آتا ہے ۔  ٹینٹ اکھڑ جاتے ہیں ،اسٹیج اتر جاتی ہے ۔روہی پر پیاس ،گرمی ،بنیادی سہولیات کی کمی اور بھولی بسری بستیوں کی خاموشی چھا جاتی ہے ۔راستے اور ٹیلے ویران دکھائی دیتے ہیں ۔روہی کی فضا یہاں کے مقامی  دکھ بھرے سازوں میں ڈوب جاتی ہے ۔ 

چولستان ریلی ہر سال بہاولپور کی شناخت بن کر آتی ہے ۔ملکی وغیر ملکی سیاح اس ریت کو ایڈونچر کی سرزمین سمجھتے ہیں اور چولستان کے مقامی لوگ اسے  اپنے لیے نعمت اور رونق کہتے ہیں  ۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوتی ہیں ،انتظامیہ اور ادارے کارکردگی کے دعوےکرتے ہیں اور چند دنوں کے لیے چولستان خبروں اور میڈیا کی زینٹ بن جاتا ہے ۔چولستان خصوصی قلعہ ڈیراور کے باسیوں کے لیے یہ ایک وقتی  تماشا ہے شاید زندگی نہیں ہے کیونکہ اس دوران قلعہ ڈیراور مرکزی حیثیت اختیار کر لیتا ہے ۔یہ چولستان  وہ خطہ ہے جہاں آج بھی کئی بستیاں صاف پانی کے لیے میلوں سفر کرتی ہیں ۔جہاں آج بھی انسان اور جانور ایک جگہ سے پانی پیتے ہیں ،جہاں بچے اسکول سے زیادہ چراگاہوں میں جانور چراتے ہیں جہاں بیماری کا مطلب شہر تک طویل اور مشکل سفر ہوتا ہے ۔میرے ایک دوست مہر فیض محمد جن کا تعلق بھی قلعہ ڈیراور سے ہے کہتے ہیں کہ  ان کے نزدیک سوال یہ نہیں کہ جیپ ریلی کیوں ہوتی ہے ؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ اس جیپ ریلی کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ کیا یہ جیپ ریلی یہاں کے مقامی باشندوں کے لیے ترقی کی سوچ بیدار کر پاتی ہے ؟ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا کبھی اس عارضی ٹینٹ سٹی یا خیمہ بستی کی جگہ کوئی بڑا مستقل ہسپتال یا  آبادی کے لیے کوئی رہائشی کالونی بنانے کا سوچا گیا ؟ کیا ان عارضی واٹر ٹینکرزکی جگہ مستقل واٹر سپلائی اسکیم بن سکتی ہے ؟ کیا سولر انرجی کے منصوبے اس ریگستان کو روشن نہیں کرسکتے ؟ چولستان صرف سیاحت کا مقام نہیں یہ روہی کے لوگوں کی دھرتی ہے ،یہ اونٹ بانوں کی تہذیب ہے ،یہ صبر کی وہ تصویر ہے جو ہر گرمی میں نئے عزم کے ساتھ جیتی ہے ۔چولستا ن کےدیگر اٹھائیس قلعے آج خاموش کھنڈرات بن چکے ہیں وجہ صرف وقت نہیں ،پانی کی کمی اور بنیادی سہولتوں کا فقدان بھی ہے ۔جہاں پانی نہ ہو وہاں بستیاں کب اور کیسے سانس لے سکتی ہیں ؟ مگر ڈیراور کے آس پاس کے لوگوں نے اپنی مٹی کی محبت میں صبر کو ہجرت پر ترجیح دی اور انہوں نے اس گرم ریت سے ہمیشہ رشتہ جوڑے رکھا اور امید کا دامن تھامے رکھا ۔

وہ سوال یہ بھی کرتے ہیں کہ جیپ ریلی کے دنوں میں یہاں سڑکیں درست اور ہموار کی جاتی ہیں عارضی کیمپ اور خیمے  لگتے ہیں پانی کے ٹینکر آتے ہیں اور سیکورٹی کے انتظامات مکمل ہوتے ہیں تو کیا یہی سب کچھ مستقل بنیادوں پر نہیں ہو سکتا ؟ اگر ایونٹ کے لیے انفرااسڑکچر کھڑا کیا جاسکتا ہے تو مستقل کیوں پانی کا انتظام ممکن نہیں ہے ؟اگر ہزاروں گاڑیوں کی آمدورفت ممکن ہو سکتی ہے تو مقامی آبادی کے لیےایک بڑا ہسپتال کیوں نہیں بن سکتا ؟ اگر سیاحوں کے لیے روشنی کا انتظام ہو سکتا ہے تو بستیوں میں سولر توانائی کیوں نہیں پہنچ سکتی ؟ قلعہ ڈیراور کی اونچی فصیلیں گواہ  ہیں کہ انہوں نے  سلطنتوں کا عروج وزوال دیکھا ہے۔ چولستان کے باقی قلعے ویران اس لیے ہوۓ کہ لوگوں نےخشک سالی کی باعث ہجرت کرلی اور ڈیراور اس لیے آج بھی آ باد ہے کہ یہاں کے لوگوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود  اپنی مٹی سے وفا کی ہےاور اپنے آباواجداد کی قبروں کی حفاظت کو فرض جانا ۔آج  قلعہ ڈیراور کی فصیلیں صدیوں سے اس لیے مضبوطی سے کھڑی ہیں کہ انہیں یہاں کے لوگوں کا سہارا ملا اور آج یہاں کا باسی بھی سہارا چاہتا ہے ۔وقت آگیا ہے کہ جیپ ریلی کی مرکزیت صرف ایونٹ تک محدود نہ رہے بلکہ ترقی کی مرکزیت بھی یہی قلعہ بنے ۔قلعہ ڈیراور کو سیاحتی علامت کے ساتھ ساتھ انسانی فلاح کا نمونہ بنایا جاۓ کیونکہ دھرتی نہ چھوڑنے والوں کو سہولتیں دینا ان کا حق ہے ۔جنہوں نے یہاں کی تہذیب اور ثقافت کو آج بھی سنبھال رکھا ہے ۔روہی  چولستان کے یہ بیٹے صدیوں سے بھوک پیاس کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اپنی زمین اور ثقافت سے جڑے ہیں ۔یہاں کے صحرائی گیت یہاں کے مقامی فنکاروں نے زندہ رکھے ہوۓ ہیں ۔اس دور جدید میں بھی یہ اپنے مٹی اور لکڑیوں کے گوپوں میں گرمی اور سردی برداشت کرتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں مگر روہی میں موجود اس صحرائی قلعہ کو چھوڑکر نہیں جاتے ۔اب یہ پھر ایک سال تک جیپ ریلی کی رونق کا انتظار کریں گے ۔ان کی آنکھیں پھر ان نظاروں کی منتظر رہیں گیں جو صرف سال میں ایک مرتبہ ہی ان کا نصیب بنتے ہیں ۔مہر فیض محمد کے سوالوں کا جواب تو میرۓ پاس نہیں ہے مگر یہ یقین ضرور ہے کہ ایک دن یہاں کے حالات بدلیں گے کیونکہ صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے ۔”پیوستہ رہ شجر سےامید بہار رکھ "

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے