#کالم

اِنَّا نَرٰكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ: خواب، کردار اور انسانیت کا آئینہ

Untitled 3

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
انسان کی زندگی میں خواب صرف رات کی خاموش خواہشات نہیں ہوتے۔ خواب وہ روشنیاں ہیں جو روح کے اندر جلتی ہیں، راستے دکھاتی ہیں اور بعض اوقات تقدیر کے ان راہوں پر لے جاتی ہیں جہاں انسان خود کبھی چلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ حضرت یوسفؑ کا خواب بھی ایسا ہی ایک الہامی پیغام تھا، جو نہ صرف ایک خواب تھا بلکہ ایک زندگی کی راہنما ایک کردار کی کسوٹی اور انسان کے اخلاق کا آئینہ بھی تھا۔
یہ خواب حضرت یوسفؑ نے اپنی خواہش سے نہیں دیکھا۔ یہ الہام تھا اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک پیغام۔ اور الہامی خواب ہمیشہ آسان راستے کا وعدہ نہیں کرتے۔ وہ انسان کے صبر، تحمل اور کردار کی جانچ لیتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ کے خواب نے بھی ان کی زندگی میں ان تمام مراحل کو چنا جو شخصیت کو نکھارتے ہیں. کنواں، محل، قید خانہ اور تخت۔ مگر ان تمام حالات میں جو مستقل رہا وہ مقام یا اختیار نہیں، بلکہ حضرت یوسفؑ کا طرزِ عمل تھا۔
سب سے پہلے خواب پر ردِعمل آیا ایک باپ کا۔ حضرت یعقوبؑ نے خوشخبری کے ساتھ احتیاط بھی سکھائی۔ انہوں نے جان لیا تھا کہ یہ خواب معمولی نہیں اور غیر معمولی خواب غیر معمولی آزمائشوں کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے حضرت یوسفؑ کو نصیحت کی کہ اس راز کو چھپایا جائے کیونکہ حسد اندھا کر دیتا ہے اور بعض اوقات زخم اپنوں کے ہاتھوں ہی سب سے گہرا ہوتا ہے۔ یہاں تقدیر اور تدبیر کا نازک رشتہ بھی واضح ہوتا ہے۔ باپ کی تدبیر اپنی جگہ مگر تقدیر کا راستہ الگ اور خواب کا پورا ہونا لازم۔
خواب کی پہلی سیڑھی کنواں تھا۔ یہ ایک اندھیرا، ایک تنہائی اور بے بسی کا لمحہ تھا۔ وہ لمحہ جب انسان سب کچھ کھو دیتا ہے، مگر اپنے رب پر یقین برقرار رکھتا ہے۔ کنویں کی گہرائی میں حضرت یوسفؑ نے یہ سیکھا کہ حقیقی طاقت حالات پر قابو پانے میں نہیں، بلکہ اپنے یقین صبر اور اخلاق پر قائم رہنے میں ہے۔
کنویں سے نکل کر حضرت یوسفؑ عزیزِ مصر کے محل پہنچے۔ بظاہر یہ بلندی، عزت اور آسائش تھی مگر یہی وہ مقام تھا جہاں کردار کی حقیقت کو آزمائش کی نگاہ سے پرکھا گیا۔ اختیار اور طاقت کے قریب ہونا نفس کی آزمائش اور انسانی جذبات کی کشمکش۔ قرآن نے یہاں حضرت یوسفؑ کے حسنِ کردار کی تعریف کی، نہ کہ حسنِ صورت کی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں بہت سے لوگ اپنی اخلاقی حدود سے پھسل جاتے ہیں مگر حضرت یوسفؑ نے ثابت کیا کہ اصل بلندی مقام میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔
اس کے بعد زندگی کا وہ مرحلہ آیا جسے اکثر لوگ ناکامی سمجھتے ہیں: قید خانہ۔ ایک ایسا مقام جہاں امیدیں دم توڑ دیتی ہیں، خواب کمزور پڑ جاتے ہیں، اور انسان خود کو بھولنے لگتا ہے۔ مگر حضرت یوسفؑ کے لیے قید خانہ بھی کردار کی ایک اور گواہی بن گیا۔ قیدیوں نے فرمایا:
اِنَّا نَرٰكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ
یہ جملہ کسی لمحے کا تاثر نہیں، بلکہ مسلسل رویے کا نتیجہ ہے۔ یہ ان لمحوں کی کمائی ہے جب کوئی دیکھ نہیں رہا، جب فائدہ سامنے نہیں، جب صبر آسان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ الفاظ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کی زبان سے بھی نکلے، حالانکہ وہی بھائی ان کے زخموں کے سبب بنے تھے۔ یہ کردار کی وہ طاقت ہے جو دشمن کی زبان سے بھی اعتراف کروا لیتی ہے۔
محل ہو یا قید خانہ اقتدار ہو یا محرومی حضرت یوسفؑ کا طرزِ عمل یکساں رہا۔ نہ غرور نہ انتقام، نہ شکوہ، نہ بدگمانی۔ یہی یکسانیت اصل کامیابی ہے۔ حالات بدلتے ہیں، مقام بدلتا ہے دنیا کی رائے بدلتی ہے، مگر کردار کا بدلنا انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
آج کے انسان بھی خواب دیکھتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ ہم خواب کو صرف بلندی، شہرت اور کامیابی سے جوڑ دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ خواب کا راستہ سیدھا نہیں ہوتا۔ کبھی یہ اوپر لے جاتا ہے کبھی نیچے۔ کبھی تعریف ملتی ہے، کبھی الزام۔ کبھی ہم چوٹی پر ہوتے ہیں کبھی کسی کھائی میں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ خواب ہمیں کہاں لے گیا، اصل سوال یہ ہے کہ ہم وہاں کیسے رہے۔
کیا ہم مشکل میں بھی دیانت دار رہے اختیار میں بھی منصف تنہائی میں بھی سچ کے ساتھ؟ محرومی میں بھی شکر گزار؟ اصل گواہی ان سوالات کے جواب میں چھپی ہوتی ہے۔ ہم اکثر چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری کامیابی کو سراہیں ہماری عقل کی تعریف کریں ہمارے عہدے کا احترام کریں۔ مگر حضرت یوسفؑ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سب سے بڑی تعریف یہ نہیں کہ آپ کامیاب ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ محسن ہیں وہ شخص جو ہر حال میں اچھا رہتا، سوچتا اور کرتا ہے۔
اِنَّا نَرٰكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ایک آئینہ ہے۔ یہ جملہ ہر اس شخص سے سوال کرتا ہے جو خواب دیکھتا ہے کیا تمہارا رویہ بھی اتنا مضبوط ہے کہ حالات بدل جائیں مگر تم نہ بدلو؟ کیا تمہارے دشمن بھی تمہارے کردار کے معترف ہو سکیں. کیا تمہارے زخم تمہیں تلخ نہیں بلکہ بہتر انسان بنائیں؟ یہ گواہی کنویں کے اندھیروں میں قید خانہ کی تنہائی میں اور اختیار کے امتحان میں لکھی جاتی ہے۔
حضرت یوسفؑ کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اخلاق اور کردار صرف اچھے وقت میں ثابت نہیں ہوتے بلکہ مشکل وقت مخالفت اور آزمائش کے وقت میں حقیقت کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ہر انسان اپنے خواب کے لیے محنت کر سکتا ہے، مگر ہر انسان اپنی محنت کے ذریعے شخصیت کا معیار قائم نہیں کر سکتا۔ کردار کی بلندی خواب کی بلندی سے زیادہ اہم ہے۔
کیا ہم بھی اپنے خوابوں میں حضرت یوسفؑ کی طرح استقامت اور شفافیت کو اپناتے ہیں؟ کیا ہم اپنے طرزِ عمل سے اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے مثال قائم کرتے ہیں؟ یا ہم صرف مقام، دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں. حقیقت یہ ہے کہ خواب تو بہت سے لوگ دیکھتے ہیں مگر خواب کو کردار کے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے