#کالم

امریکہ ایران پر قابو پالے گا ؟؟(اول قسط )

Untitlesssdddd 1

پیر مشتاق رضوی تحریر و تجزیہ ۔

ایران امریکہ تنازعہ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حتمی نتیجے تک پہنچنے کو بہت مشکل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ماضی میں بھی حقیقی اور پائیدار معاہدے کرنا مشکل ثابت ہوا ہے اور اس بار بھی حالات اب تک بہت حوصلہ افزا نہیں ہیں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن ایران نے اپنے دفاع کے لیے مضبوط حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ ایران کی موجودہ صورتحال امریکی جارحیت کے تاریخی پس منظر کا تسلسل ہے، جو سرد وگرم جنگ پروپیگنڈے، معاشی پابندیوں اور پراکسی وار،متعدد فوجی آپریشنز پر مبنی ہے تقریبا” نصف صدی قبل 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب آیا، جسے انقلاب اسلامی ایران بھی کہا جاتا ہے۔ جب ایران آیت اللہ خمینی کی قیادت میں انقلابی گروپوں نے امریکہ نواز شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ایران کو اسلامی جمہوریہ بنا دیا۔1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد امریکا نے ایران پر پابندیاں عائد کیں۔1995ء میں امریکا نے ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافہ کیا، جس میں ایران کے تیل کی برآمدات پر پابندی شامل تھی۔2012ء۔میں امریکہ نے ایران کے مرکزی بنک پر پابندیاں عائد کیں، جس سے ایران کی بین الاقوامی تجارت متاثر ہوئی۔2015ء میں امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد پابندیوں میں کچھ نرمی کی، لیکن 2018ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدے سے علیحدگی کے بعد پابندیاں دوبارہ عائد کیں۔2020ء میں امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافہ کیا، جس میں ایران کے تیل کی برآمدات پرمزید پابندی شامل تھی۔2025ء میں امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کیں، یہ پابندیاں ایران کی معیشت اور خاص طور پر تیل کی برآمدات پر سخت منفی اثرات ڈال رہی ہیں، امریکی پابندیوں کے ساتھ گذشت پانچ دھائیوں سے ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت بھی جاری ہے لیکن ایرانی قوم کے پایہ اسقلال میں کبھی کمی نہ آئی اور ایران کی "مرگ بر امریکہ ‘اور "مرگ بر اسرائیل’ کی پالیسی پوری قوت و جوانمردی کے ساتھ جاری ہے امریکہ نے ایران پر کئی بار حملے کیے ہیں1980ء میں ایران عراق جنگ کے دوران امریکہ نے ایران کے خلاف عراق کی مدد کے لیے ایرانی فوجی اہداف پر حملے کئے۔1987ء-1988ء کے دوران ایران-عراق جنگ کے آخری سالوں میں، امریکہ نے ایران کے خلاف بحری محاصرہ کیا اور ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے۔1990ء اور1991ء میں خلیج جنگ کے دوران، امریکہ نے ایران کے خلاف عراق کی حمایت کے لیے فوجی اہداف پر حملے کیے۔2011ء میں امریکہ نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ یمن میں امریکی سفارتخانے پر حملے میں ملوث ہے، جس کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں مڑید اضافہ کیا۔2020ء میں امریکہ نے عراق میں ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں شہید کر دیا، جس کے بعد ایران نے امریکہ کے خلاف جارحانہ اقدامات کیے۔ اسی طرح ایران متعدد بار صہیونی جارحیت کا نشانہ بنا
اسرائیل نے ایران پر کئی بار حملے کیۓ2011ء میں اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے تواتر کے ساتھ حملے کئےگذشتہ سال 2025ء میں اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات پر حملے کیے، جس میں جوہری تنصیبات، فوجی اہداف اور شہری علاقے شامل تھے 2025ء میں اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات پر حملے کیے، جس میں جوہری تنصیبات، فوجی اہداف اور شہری علاقے شامل تھے۔ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام کو حتم کرنے لیے کیے گئے تھے۔ اسرائیلی حملوں میں تہران، اصفہان، شیراز اور دیگر شہروں کو نشانہ بنایا گیا، حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے کیے، جس میں سینکڑوں ڈرونز اور میزائل حملے شامل تھے۔
2025ء میں امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات، فوجی اہداف اور شہری علاقوں پر حملے کیے۔ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل تباہ کرنے ا ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے تھے ایران نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ وہ کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا، جبکہ امریکہ ہر قیمت پر ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے تیار ہے
ایران کے پاس اپنی فوجی طاقت ہے، اور اس نے کہا ہے کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔ اس کے علاوہ، ایران کے پاس میزائل ذخیرہ ہے، اور اس نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا
پاکستان نے ھمیشہ ایران پر امریکی حملوں اور پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
پاکستان نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی بھی مذمت کی کہ یہ حملے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں پاکستان نے ایران کے پرامن سول نیوکلیئر پروگرام اور اپنے دفاع کے مکمل حق کی حمایت کی کہ پاکستان ایران کے مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا
ایرانی قوم نے اسرائیلی جارحیت، امریکی حملوں اور پابندیوں کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا ہے۔ ایران کی حکومت اور عوام نے مشترکہ طور پر اپنے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کا دفاع کیا ہے۔ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں آبنأئے ہرمز کو بند کرنے اور امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اب ہر امریکی شہری یا فوجی ہدف ہے ( جاری ہے۔۔۔۔۔)

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے