#کالم

ٹیکس زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں ؟

new desingerrfs

ناصف اعوان

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قومی خزانہ طویل عرصے سے خالی چلا آرہا ہے آگرچہ حکومتیں اسے بھاری قرضے لے کر بھرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر یہ پھر بھی نہیں بھر رہا وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ جو لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں اس کا استعمال اپنی ذات پر بے دریغ کرتے ہیں علاوہ ازیں نیچے سے اوپر تک جس کا جتنا بس ہوتا ہے وہ بھی اس سے اپنی جیبیں بھرتا ہے لہذا اب جب کہ ملکی اخراجات روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں اور حکومت بھاری ترین قرضے لے رہی ہے تو بھی اس کی اداسی نہیں جا رہی جس سے لگ رہا ہے کہ یہ کبھی بھی نہیں بھرے گا کیونکہ اربوں کھربوں کی ہیرا پھیری خزانہ کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ظاہر ہے ملکی نظام چلانے کے لئے سرمایہ چاہیے ہوتا ہے جس کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پرتا ہے یعنی وہ قرضہ دے کر معیشت کے گاڑی کو دھکا لگاتے ہیں۔ افسوس‘ مگر یہ ہے کہ معاشی حالات خراب تر ہونے کے باوجود ذاتی تجوریاں بھرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔اب حالت یہ ہے کہ ہر بچہ قریباً تین لاکھ کا مقروض ہے اور اس میں اضافہ تو ہو سکتا ہے کمی نہیں‘ کیونکہ بد عنوانی کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا ۔ وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی سکینڈل سامنے آجاتا ہے لہذا ایسی صورت میں کیسے خزانہ بھرے اور کیسے غربت بے روزگاری ختم ہو اگر ہمارے حکمران چاہیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے مگرشاید وہ ٹھیک کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے انہیں دلچسپی اسی میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح تختِ حکمرانی مل جائے اور وہ عوام کی دولت کو سمیٹ کر باہر لے جائیں وہاں کاروبار کریں محل تعمیر کریں اور موج مستی کریں جو حکمران قیمتی سے قیمتی لباس زیب تن کرنے کی خواہش رکھتے ہوں وہاں ترقی ممکن ہی نہیں عوام کا بھلا سوچنا ان کے نزدیک ضروری نہیں لہذا ان کے خلاف باتیں تو ہوں گی ان سے نفرت بھی ہو گی کہ غریبوں کے بچے بنیادی خوراک کو ترسیں ان میں خون کی کمی ہوتی رہے اور ان پر قرضہ برابر چڑھتا جائے جس کی فکر ان کے کرتا دھرتاؤں کو نہ ہو۔
بہر حال یہ درست ہے کہ کوئی بھی ملک یہاں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے خزانے پر ناقابل برداشت بوجھ پڑ رہا ہے اس بوجھ کو کم کرنے کے لئے ہمارے بڑے دماغوں نے مسائل میں گِھرے عوام پر مزید ٹیکس لگانے کا آغاز کیا ہے جس پر عمل درآمد ہو چکا ہے کبھی کسی چیز پر اور کبھی کسی پر ٹیکس لگ رہا ہے ۔اب انہوں نے بجلی کی قیمت بڑھا دی ہے سو یونٹس اور دو سو یونٹس پر فکسڈ ٹیکس لگا دیا گیا ہے اسی طرح تین سو یونٹس سے اوپر بھی فکسڈ ٹیکس عائد کر دئیے گئے ہیں ۔ اس اقدام کے پیچھے آئی ایم ایف ہے وہ جو انہیں کہتا ہے اس پر وہ من و عن عمل کرتے ہیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ لوگ تو پہلے ہی بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں وہ کیا کچھ بیچ کر ان بلوں کو ادا کرتے ہیں مگر انہیں کیا وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ جن لوگوں نے ان بلوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے سولر پینل سسٹم لگایا تھا ان سے بھی ٹیکسوں کی وصولی کی جا رہی ہے تاکہ وہ بد دل ہو کر واپڈا کی بجلی استعمال کرنے لگیں ایسا کیوں ہے ؟ جس جس دور میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے معاہدے کیے گئے تھے سولرسسٹم نے ان کو رقوم کی ادائی مشکل کر دی ہے مگر یہ زیادتی نہیں کہ وہ بجلی پیدا بھی نہ کریں مگر اربوں ڈالر وصول کریں اب اتنے ڈالر جمع نہیں ہو رہے لہذا حکومت نے پیسا اکٹھا کرنے کے لئے ایک طرف ٹیکس لگا دئیے ہیں تو دوسری جانب سولر سسٹم کو ناکام بنانے کا تہیہ کر لیا ہے؟
وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں کہ جن کی حکومتیں انہیں بجلی مفت فراہم کرتی ہیں اگر کچھ وصول بھی کیا جاتا ہے تو نہ ہونے کے برابر پھر وہ اپنے عوام کو تعلیم صحت کی سہولتیں بھی مفت فراہم کرتی ہیں روزگار دینا بھی اس کی زمہ داری ہوتی ہے وہ ریلیف دیتی ہیں تکلیف نہیں دیتیں مگر ہمارے ہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے کہ جتنی بھی لوگوں کو اذیت دی جائے کم ہے ۔اب جب وہ محسوس کرتے ہیں اور شکوہ شکایت کرتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ یہ نازک صورت حال کو سمجھتے نہیں ۔اج تک ہم نے نہیں دیکھا کہ کوئی سُکھ کی گھڑی آئی ہو مشکلات ہی مشکلات اور دکھ ہی دکھ نظر آئے ہیں۔ خیر بجلی کی قیمت میں اصافہ سے بجلی چوری کا رجحان بھی بڑھے گا ۔اب تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ ایسا کرنا ان کا حق ہے کیونکہ حکومت جب عام آدمی کی حالت کو مد نظر نہیں رکھتی تو اسے اپنی بقا کے لئے کچھ تو کرنا ہے لہذا آئی پی پییز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو ختم کرکے نئے سرے سے عوام دوست معاہدے کیے جائیں تاکہ بجلی سستی ہو صنعتوں کا پہیہ بھی حرکت میں آئے ۔اس وقت تو زیادہ تر ملیں فیکٹریاں بند ہیں جو چل رہی ہیں ان کی پیداوار انتہائی کم ہے اس طرح ہماری برآمدات سکڑ سمٹ رہی ہیں جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں لہذا اس کو توانا بنانے کے لئے ٹیکسوں کی یلغار بے سود ہے اس کے لئے بد عنوانی کمیشن خوری سرکاری اخراجات میں کمی لانا ہوگی سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ چھوٹی بڑی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جس کے لئے بجلی سستی دینا ہو گی یہ جو قرضے اور ان کی ادائی کے لئے ٹیکسوں کے پہاڑ کھڑے کیے جا رہے ہیں ان سے اجتناب برتنا چاہیے تب جا کر ملک آگے بڑھے گا۔
یہ کیسی بات ہے کہ وطن عزیز کو قائم ہوئے اٹھہتر برس ہو چکے ہیں مگر

ٹیکس زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں ؟

فریاد جو سنی نہیں جا رہی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے