#کالم

”ڈاکٹر فضیلت بانو ۔ تخلیق و تنقید کی روشن مثال “

Untitled 134df

تحریر ۔انجینئر ظفر محی الدین
ڈاکٹر فضیلت بانو اردو ادب ، تحقیق اور تدریس کی دنیا میں ایک ایسا معتبر نام ہیں جن کی شخصیت ہمہ جہت اور خدمات بے مثال ہیں وہ نہ صرف ایک سنجیدہ اور محنتی محققہ ہی نہیں بلکہ ایک جاندار نقاد تخلیق کار اور بچوں کے ادب کی روح رواں بھی ہیں ۔ان کی شخصیت کے مختلف پہلوان کے علمی ذوق ، تحقیق کی باریک بینی اور ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور اور تہذیبی آگاہی کو بھی نمایاں کرتے ہیں جن لوگوں نے ان کے ساتھ علمی اور تحقیقی سفر میں وقت گزارا وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا انداز تحقیق کتنا منفرد ہے ۔ مقام تشکر ہئے کہ انہوں نے بحسن و خوبی یہ علمی سفر طے کیا ہے اور اپنی سنجیدہ طبعیت اور علمی ذوق کی بدولت اردو تحقیق کا سر یقینابلند تر کر دیا ہے ۔ ان کی محنت اور ژرف نگاہی تحقیق کے کٹھن مرحلوں کو اس سہولت کے ساتھ طے کرتی ہے کہ نئے امکانات اور نئی جہتیں کھلتی چلی جاتی ہیں ۔ ان کی تحقیقی خدمات ادب کے طلبہ و اساتذہ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں ۔ ڈاکٹر فضیلت بانو نے نہایت باریک بینی سے پنجاب آرکائیوز میں محفوظ قدیم اخبارات کا مطالعہ کیا اور ان کی تدوین و تحقیق پر بھرپور محنت کی ۔ یہ کام اپنی نوعیت کا منفرد اور اردو ادب کے متعلقین کے لیے نہایت اہم ہے ۔ اس تحقیق سے ماضی کے کئی ان دیکھے اور ان کہے گوشے سامنے آتے ہیں اور صحافت کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ڈاکٹر فضیلت بانو نے اپنی تحقیق کے ذریعے اردو تحقیق و تنقید کو نئی وسعت عطا کی ہے اور اس کے نتائج آنے والے محققین کے لیئے زادِ راہ ہیں ۔ بلا شبہ ڈاکٹر فضیلت بانو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ۔ ان کے ہاں زندگی آمیز رویہ بہتے ہوئے آبجو کی مانند ہے ان کے تخلیقی امیج اور ذہانت اسلوب کی باریکیوں سے آشنا ہے جبکہ ان کا تنقیدی رویہ اپنی روش کے اعتبار سے بے مثال ہے ۔ ان کا اصل میدان تحقیق ہے اور اسی میں ان کی محنت اور دور بینی اس قدر نمایاں ہے کہ مشکل سے مشکل مرحلہ سہولت کے ساتھ عبور کر لیتی ہیں اور نئے جہاں دریافت کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کی تحقیق ادب کی نئی جہتوں اور سمتوں میں نہ صرف رہنمائی کرتی ہے بلکہ راہ سازی بھی کرتی ہے ۔ شعیب مرزا کے بقول ڈاکٹر فضیلت بانو پھول میگزین کی بہترین لکھاریوں میں شمار ہوتی ہیں ۔ ان کی تحریریں بچوں اور بڑوں دونوں میں یکساں مقبول ہیں ۔ ان کی لکھی گئی کہانیاں انعامی کہانیاں ثابت ہوئیں اور وہ ادب اطفال کی سیکرٹری جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ بچوں کی کانفرنسز اور سیمینارز میں ان کے مقالے اور علمی گفتگو بہت اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کی شخصیت دل آویز ہے اور ان کا انداز نگارش بھی منفرد اور دلکش ہے ۔ وہ خود کہتی ہیں کہ آغاز تو شاعری سے کیا تھا اور کالج کے زمانے میں ایک شام غزل میں اپنی غزل پڑھنے پر بہت داد بھی ملی، مگر رفتہ رفتہ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ان کی طبعیت نثر کے زیادہ قریب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زیادہ تر تخلیقات نثر کی صورت میں سامنے آئیں 2008سے انہوں نے باقاعدگی سے بچوں کے ادب پر خاطر خواہ کام کیا اور ان کی کہانیوں پر مشتمل کتاب بھی منظر عام پر آچکی ہے ۔ ان کے علاوہ پنجابی زبان میں بھی ان کی تحریریں اور کالم باقاعدگی سے چھپتے رہتے ہیں ۔ ان کے افسانوں اور کہانیوں کے موضوعات زیادہ تر بچوں کی اخلاقی تربیت ان کے مسائل اور ان کی عمر کے تقاضوں کے مطابق نفسیاتی پہلوﺅں پر مرکوز ہوتے ہیں جبکہ افسانوں میں وہ عورت کے ساتھ معاشرتی رویوں کو اجاگر کرتی ہیں وہ اس حقیقت کی جانب توجہ دلاتی ہیں کہ عورت کو زندگی کے ہر موڑ پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ معاشرے کے تلخ رویوں کو جمالیاتی توازن کے ساتھ نبھانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ کبھی کامیاب ہوتی ہیں اور کبھی ناکام لیکن ہمت نہیں ہارتیں ۔ ڈاکٹر فضیلت بانو کے نزدیک عورت اپنی تمام تر ذمہ داریوں کے ساتھ جدوجہد جاری رکھتی ہے اور کبھی زندگی کی حقیقیتوں سے فرار اختیار نہیں کرتی بلکہ اپنے گھر اور بچوں کے لیے اپنا آپ قربان کردیتی ہے ۔ ڈاکٹر فضیلت بانو کی تحقیقی اور تنقیدی خدمات کا دائرہ وسیع ہے انہوں نے ایم فِل میں عطاالحق قاسمی ، مستنصر حسین تارڑ اور انتظار حسین کے سفر ناموں میں تہذیبی عناصر پرمقالہ لکھا جس سے ان کی تہذیبی و ثقافتی رجحان کی واضح جھلک ملتی ہے ۔ ان کا پی ایچ ڈی مقالہ پنجاب آرکائیوز میں موجود قدیم اردو اخبارات کے تحقیقی و تنقیدی جائزے پر مشتمل ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی تحقیقی مقالے لکھے جو مختلف یونیورسٹیوں اور تحقیقی جرائد میں شائع ہوئے ان میں جام جہاں نما اردو کا پہلا اخبار ” مثنوی کدم راﺅ پدم راﺅ کی ترتیب و تنظیم “ ” رام بابو سکینہ اور اردو ادب کی تاریخ “ ” قراہ العین حیدر ایک مایہ ناز ادیبہ “ صوبائی اسمبلی پنجاب اور قانون اردو کے ارتقائی مراحل ” تصوف صوفیاءکی نظر میں“ اردو میں تراجم نگاری” شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا” اردو میں نظم نگاری کی روایت اقبال کی فکری اساس قائد اعظم اردو ادب رومانویت کے فکری مباحث متنی تنقید اور تدوین متن ” اردو ہندی تنازعہ بحوالہ عائشہ جال “ اردو شاعری کا دورزریں ” تراودھ پنج اخبار کی ادبی خدمات “ اشفاق احمد ایک ہمہ جہت شخصیت اور سیرت النبی شبلی نعمانی ( جدید اصولوں کی روشنی میں ) شامل ہے ۔ ڈاکٹر فضیلت بانو نے مختلف جرائد اور رسائل میں علمی تحقیقی و تنقیدی مضامین لکھے اور ان کی ادب کے مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالی ۔ ان کی تحریریں محض ادبی ذوق کی تسکین تک محدود

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے