#کالم

سردار عبدالرب نشتر —— عظیم راہنما

new desing25

حکیم راحت نسیم سوہدروی
hknasem@gmail.com

تحریکِ پاکستان، پھر تعمیر، ترقی اور استحکامِ پاکستان کے لیے جن عظیم المرتبت افرادِ ملت کے نام ہماری قومی تاریخ کا عنوانِ جلی ہیں، ان میں ایک درخشاں نام سردار عبدالرب نشتر کا ہے۔ بلاشبہ وہ اُن راہنماؤں میں شامل ہیں جو آج بھی ملک و ملت کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ہمیں اُن جیسے قومی راہنما میسر آتے تو آج پاکستان دنیا میں بلند مقام و مرتبہ پر فائز ہوتا، قائدِاعظمؒ کا اسلامی و فلاحی مملکت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو چکا ہوتا اور ہم یوں آئی ایم ایف کے محتاج نہ ہوتے۔

سردار عبدالرب نشتر فکر و عمل کی یکجا تصویر تھے۔ وہ اپنے اعلیٰ کردار کی حسین نقش گری چھوڑ گئے اور ہماری نئی نسل کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔ تحریکِ پاکستان اور بعد ازاں تعمیر، ترقی اور استحکامِ پاکستان کے لیے اپنے شب و روز وقف کرنے والے عظیم راہنماؤں کا جب بھی تذکرہ ہوگا، سردار عبدالرب نشتر کا نام نمایاں طور پر سامنے آئے گا۔

سردار عبدالرب نشتر 13 جون 1899ء کو صوبۂ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں ایک متمول تاجر عبدالمنان خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدا ہی سے انہیں علم و ادب، شاعری اور تصوف سے گہری دلچسپی تھی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد جامعہ پنجاب اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ اس علمی ماحول نے ان کی شخصیت کو مزید نکھارا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے وکالت کے پیشے کا آغاز کیا اور ساتھ ہی قومی مسائل اور سیاست میں دلچسپی لینے لگے۔

اسی زمانے میں وہ مولانا محمد علی جوہر سے متاثر ہوئے جو تحریکِ خلافت کی قیادت کر رہے تھے۔ یہی وہ تحریک تھی جس نے مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کی اور کارکنوں کی ایک بڑی جماعت تیار کی۔ انہی کارکنوں نے آگے چل کر تحریکِ پاکستان کی راہ ہموار کی۔ سردار عبدالرب نشتر نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی جدوجہد کے باعث سیاسی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

قائدِاعظم محمد علی جناحؒ نے جب لندن سے واپسی پر آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور اسے ایک عوامی جماعت کی صورت دی تو سردار نشتر کو بھی مسلم لیگ میں شامل ہونے کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ 1937ء میں وہ قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ 1942ء میں جب ڈاکٹر خان کی صوبۂ سرحد میں کانگریسی حکومت ختم ہوئی تو قائدِاعظم کے ایما پر بننے والی نئی حکومت میں مسلم لیگی وزیر کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ اپنی انتھک جدوجہد اور شاندار خدمات کے باعث وہ جلد ہی آل انڈیا مسلم لیگ کی صفِ اوّل کی قیادت میں شمار ہونے لگے۔

قائدِاعظم کو ان پر کامل اعتماد تھا۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1945ء میں لارڈ ویول کے زیرِ اہتمام مسلم لیگ اور کانگریس کے مابین مذاکرات میں مسلم لیگ کی نمائندگی قائدِاعظم کے ساتھ سردار عبدالرب نشتر نے کی۔ یہ انتخاب قائد کے اعتماد اور باہمی قربت کا واضح ثبوت تھا۔

1946ء کے تاریخی انتخابات، جو آل انڈیا مسلم لیگ نے قیامِ پاکستان کے نام پر لڑے، سردار عبدالرب نشتر نے مسلمان قوم میں بیداری پیدا کرنے اور انتخابی کامیابی کے لیے پورے برصغیر کا دورہ کیا۔ پھر جب صوبۂ سرحد میں الحاقِ پاکستان کے لیے ریفرنڈم ہوا تو انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور مسلم لیگ کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد جب برطانوی حکومت نے ہندوستان میں عبوری حکومت قائم کی اور مسلم لیگ بھی اس میں شامل ہوئی تو قائدِاعظم نے سردار عبدالرب نشتر کو وزیرِ مواصلات نامزد کیا۔ انہوں نے یہ ذمہ داری نہایت احسن طریقے سے نبھائی۔

تقسیمِ ہند کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اثاثوں کی تقسیم کے لیے قائم کمیٹی میں انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد قائدِاعظم نے انہیں ملک کا پہلا وزیرِ مواصلات مقرر کیا، بعد ازاں انہیں گورنر پنجاب بنایا گیا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جب مسلم لیگ کی قیادت مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی سردار نشتر تک پہنچی تو انہوں نے ایک بار پھر مسلم لیگ کو عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی۔

ان کی اصول پسندی کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک قریبی دوست—جو کبھی ان کے کابینہ ساتھی تھے—نئے وزیرِ اعظم محمد علی بوگرا کی طرف سے وزارت یا کسی اہم سفارت کی پیشکش لے کر آئے۔ سردار نشتر نے صاف جواب دیا:
“میں نہ وزارت کا بھوکا ہوں اور نہ سفارت کے عیش کا طلب گار۔”

یہ کہہ کر انہوں نے یہ شعر پڑھا:

بس اتنی سی خطا پر رہبری چھینی گئی ہم سے
کہ قافلے ہم سے منزل پر لُٹوائے نہیں جاتے

یہ پیشکش دراصل انہیں جمہوری جدوجہد سے ہٹانے کی ایک کوشش تھی، کیونکہ انہوں نے گورنر جنرل غلام محمد کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف کھل کر آواز بلند کی تھی۔ اسمبلی کی تحلیل کے بعد جب کوئی وکیل مولوی تمیز الدین خان کا مقدمہ لینے کو تیار نہ تھا، سردار عبدالرب نشتر نے ذاتی حیثیت میں اس مقدمے کی پیروی کی اور جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کی۔

گورنر پنجاب کی حیثیت سے ان کا عوامی طرزِ عمل مثالی تھا۔ وہ بغیر پروٹوکول بازاروں اور سڑکوں پر نکل آتے، عام لوگوں سے ملتے، چھابڑی فروشوں سے بات کرتے اور موقع پر ہی مسائل کے حل کے احکامات جاری کر دیتے۔ ممتاز ادیب مولانا صلاح الدین احمد اور انتظار حسین نے ان کی اس عوام دوستی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

ان کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ گورنر ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے بچوں کو ایچی سن کالج میں داخل نہ کرایا۔ ان کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھتے اور سائیکل پر اسکول و کالج جایا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں سے کہا تھا:
“لاکھوں پاکستانیوں کی طرح تم بھی اپنی اصلیت نہ بھولو۔”

ٹیلی فون کے استعمال میں بھی وہ حد درجہ محتاط تھے۔ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے ان کے پاس ایک پارٹی اور ایک ذاتی فون تھا، اور وہ دونوں کے استعمال میں سخت فرق رکھتے تھے۔ اسی اصول

سردار عبدالرب نشتر —— عظیم راہنما

کھیل کو سانس لینے دیجئے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے