بنگلہ دیش کے عام انتخابات
أج کا اداریہ
بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں خالدہ ضیاء ( مرحومہ)کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کو واضح برتری حاصل ہوگئی ہے صدر آصف علی زرداری نے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے۔
طارق رحمان نے پہلی مرتبہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی انتخابی مہم کی قیادت کی ہے اور پہلی بار قومی پارلیمانی انتخابات میں حصہ بھی لیا ہے۔
انتخابات سے قبل اپنی والدہ کی وفات کے صرف ایک ماہ بعد انھیں پارٹی کا چیئرمین نامزد کیا گیا تھا اور انھوں نے بھرپور طریقے سے نہ صرف انتخابی مہم چلائی بلکہ تنظیمی سرگرمیوں کی قیادت بھی کی۔
بی این پی بھی انھیں جماعت کے ’اکلوتے رہنما‘ کے طور پر پیش کر رہی ہے، حالانکہ ان کے سیاسی مخالفین طارق رحمان کے ماضی کے کرپشن کے الزامات اور تعلیمی قابلیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
طارق رحمان اور ان کی جماعت نے ان کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں سابقہ عوامی لیگ کی حکومت کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
لندن میں تقریباً 17 سال سیاسی پناہ میں گزارنے کے بعد وہ گذشتہ دسمبر میں ڈھاکہ واپس آئے تھے اور ان کی جماعت نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا۔
بی این پی کی دیرینہ حریف جماعت عوامی لیگ ان انتخابات میں حصہ نہیں لیا کیونکہ ان پر موجودہ انتظامیہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی ایک بڑی حریف جماعت بن کر اُبھری ہے۔
طارق رحمان کو 2007 میں بنگلہ دیش کی فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ 18 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ ستمبر 2008 میں رہا ہوئے اور اپنے خاندان کے ساتھ لندن منتقل ہو گئے۔
تقریباً 17 سال بعد وہ 25 دسمبر کو ڈھاکہ واپس آئے۔ حالانکہ اپنی آمد سے چند دن پہلے طارق رحمان نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنی واپسی کے بارے میں ایک غیر یقینی کی سی صورتحال پیدا کر دی تھی۔
ان کی اس پوسٹ نے نومبر کے آخر میں ایک بحث کا طوفان برپا کر دیا تھا۔ ان کی والدہ خالدہ ضیا بیمار تھیں اور ایسے میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’ہر بچے کی طرح مجھے بھی اس مشکل وقت میں اپنی والدہ کی محبت اور لمس حاصل کرنے کی شدید خواہش ہے۔ لیکن میرے پاس فیصلہ سازی کی طاقت لامحدود نہیں ہے اور نہ ہی مکمل طور پر میرے قابو میں ہے۔ اس نازک مسئلے پر تفصیل سے بات کرنے کی گنجائش بھی محدود ہے۔ ہمارا خاندان پُرامید ہے کہ جیسے ہی یہ سیاسی حقیقت ہماری توقعات کی سطح تک پہنچے گی میرے
وطن واپسی کے طویل انتظار کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘
25 دسمبر کو واپسی کے چند دن اور 30 دسمبر کو خالدہ ضیا کی وفات کے دس دن بعد انھیں نو جنوری کو بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں باضابطہ طور پر پارٹی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔
2002 میں خالدہ ضیا نے انھیں پارٹی کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل کے طور پر نامزد کیا۔ بعد میں سنہ 2009 میں انھیں پارٹی کی پانچویں قومی کانفرنس میں سینیئر وائس چیئرمین کے طور پر نامزد کیا گیا۔
سیاسی تجزیہ کار محی الدین احمد نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ’بی این پی کی قیادت کے لیے چیئرمین کی حیثیت سے طارق رحمان کا آنا تقریباً ناگزیر تھا۔‘
انہوں نے کہا ’2018 میں خالدہ ضیا کی گرفتاری کے بعد سے پارٹی طارق رحمان کی ہی قیادت میں چل رہی تھی۔ ان کے قیادت سنبھالنے کے بارے میں کبھی کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔‘
ایک اور سیاسی تجزیہ کار اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر محمد مجیب الرحمان کہتے ہیں کہ طارق رحمان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ پارٹی کو متحد رکھنے اور اسے مشکل حالات میں بھی بیرونِ ملک سے ٹوٹنے سے بچانے میں کامیاب رہے۔
’ویسے بھی وہ ہمیشہ سیاسی عمل میں شامل رہے ہیں۔ انھوں نے ملک سے باہر رہتے ہوئے بھی پارٹی کو قائم رکھنے میں کامیابی دکھائی ہے۔ وطن واپسی کے بعد وہ پہلے سے کہیں زیادہ پختہ نظر آتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پختگی انتخابات کے بعد ان کے سیاسی فیصلوں میں کس حد تک جھلکتی ہے۔‘
بطور پارٹی چیئرمین طارق رحمان نے 22 جنوری کو سلہٹ میں پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا اور ان کی بیٹی اور اہلیہ بھی متعدد انتخابی تقاریب میں شریک نظر آئیں تھیں۔
طارق رحمان بنگلہ دیش کے پہلے فوجی حکمران ضیا الرحمان اور سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے ہیں۔ بی این پی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ 20 نومبر 1965 کو پیدا ہوئے تھے۔
تاہم ان کے انتخابی حلف نامے میں درج ہے کہ ان کی پیدائش 20 نومبر 1968 کو ہوئی تھی۔
ان کی پارٹی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ انھوں نے ابتدائی تعلیم ڈھاکہ کے بی اے ایف شاہین کالج میں مکمل کی اور پھر 1980 کی دہائی میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لیا۔
اس بار الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے حلف نامے میں طارق رحمان کی تعلیمی قابلیت ‘اعلیٰ ثانوی’ درج کی گئی ہے۔
بی این پی کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ضیا الرحمان کا خاندان بھی آزادی کی جنگ کے دوران کئی دیگر فوجی افسران کے خاندانوں کے ساتھ قید میں رہا۔ اس وقت ان کے دونوں بیٹے طارق رحمان اور آنجہانی عرفات رحمان بھی قید میں تھے۔ ضیا الرحمان پاکستانی فوج میں افسر تھے جو بعد میں بغاوت کا حصہ بن گئے تھے۔
پارٹی کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق طارق رحمان نے فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کے خلاف تحریک میں بھی حصہ لیا اور سنہ 1988 میں باضابطہ طور پر بی این پی میں اس وقت سرگرم ہوئے جب وہ بوگرا ضلع بی این پی کے گابٹولی اُپازِلا یونٹ کے رکن بنے۔
تاہم کچھ پارٹی رہنماؤں اور چیئرپرسن کی مشاورتی کونسل کے ارکان کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کا پارٹی کی سیاست میں باضابطہ سفر سنہ 1991 کے پارلیمانی انتخابات سے شروع ہوا اور اس وقت وہ ان پانچ حلقوں کی نگرانی کر رہے تھے جہاں خالدہ ضیا نے کامیابی حاصل کی تھی۔
تاہم






