#کالم

بسنت بہار

talema23

تسنیم کوثر

فروری کا مہینہ خوشگوار ہواؤں اور کھلتے پھولوں کا مہینہ ہے۔یہ مہینہ اپنے سنگ بہاروں کی نوید لاتا ہے اور دلوں کو سرشار کر جاتا ہےتو ایسے لیکن اب کے تو فروری کی آمد اک نئے رنگ ،نئے ڈھنگ سے ہوئی ہے۔جتنی شدت سے فروری کا انتظار 2026 میں کیا گیا ہے اور جس شان سے فروری کا استقبال 2026 میں ہوا ہے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس خوشی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو دو دہائیوں سے اپنے اس ثقافتی تہوار پر پابندی کا دکھ جھیل رہے تھے اور اس پابندی کی وجہ سے فروری کا مہینہ ان کے لیے باعث کشش رہا تھا اور نہ ہی باعث مسرت کیونکہ ان کے قدیم ثقافتی تہوار پہ پابندی جو لگا دی گئی تھی اور اس پابندی نے پتنگ بازی کے شوقین بچے ،بوڑھے اور جوان سبھی کو ملول کر رکھا تھا ۔ آئی بسنت ،پالا اڑنت والی کہاوت بھی بے معنی ہو کر رہ گئی تھی اور کان بو کاٹا کی صداؤں کو ترس گئے تھے۔ بسنت جو ہمارا ایک ثقافتی تہوار تھا اس رنگا رنگ تہوار کا ناتا خوشگوار ہواؤں اور کھلتے پھولوں کے ساتھ جڑا تھا۔ بہار کی آمد کے ساتھ ہی بسنت کا تہوار بہت جوش و خروش سے منایا جاتا تھا ۔اس حوالے سے طوطئ ہند امیر خسرو کے گیت ہمارے کانوں میں اب بھی رس گھولتے تھے اور ماضی کی یاد دلاتے تھے سکل بن پھول رہی سرسوں
امبوا بورائے ،ٹیسو پھوٹے
کوئل بولے ڈار ڈار
اور گوری کرت سنگھار آج سے بیس برس اس تہوار کی آمد دلوں کو شاد کر جاتی تھی گھروں اور چھتوں کو خوب سجایا جاتا تھا۔ اپنے پیاروں کو بھی سندیسے بھیج دیے جاتے تھے ۔ نیلگوں آسمان رنگا رنگ پتنگوں سے بھر جاتا تھا اور ہر طرف بو کاٹا ،بو کاٹا کی صدائیں سنائی دیتی تھیں۔ روایتی کھانے بنتے تھےاور دوسرے ،شہروں دوسرے ملکوں سے لوگ لاہور کا رخ کرتے تھے۔ ہمارے اپنے کرشن نگر والے گھر میں کراچی،اوکاڑہ اور ساہیوال سے بہت سے عزیز و اقارب اور ان کے دوست احباب بسنت منانے آیا کرتے تھے۔ ان دنوں بسنت تفریح کا ایک خوبصورت ذریعہ اور رنگوں، روایتوں اور خوشیوں کی علامت ہوا کرتی تھی مگر پھر جانے کیا ہوا ؟ کسی کی ایسی نظر لگی کہ بہار کی مناسبت سے منایا جانے والا یہ تہوار ایک خونی تہوار بن گیا۔ اس ثقافتی تہوار کو شیشے اور دھات کی بنی ہوئی ڈور نے لہو رنگ بنا ڈالا ۔اس ڈور سے اڑائی جانے والی پتنگیں انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گئیں۔آتے جاتے راہی اس دھاتی ڈور کا نشانہ بننے لگے اور گردنیں کٹنے لگیں۔تنبیہہ کے باوجود جنونی باز ہی نہیں آئے اور اس تہوار کو لے بیٹھے۔ آج سے بیس برس قبل بسنت پر لگائی گئی اس پابندی کا مقصد ان حادثات کو روکنا تھا اور لوگوں کو زخمی ہونے سے بچانا تھا مگر پابندیوں کے بعد بھی جب دھاتی ڈور کا استعمال بند نہ کیا گیا تو اس تہوار پر پابندی لگا دی گئی مگر پابندی کے باوجود چوری چھپے کہیں کہیں پتنگ بازی ہوتی رہی لیکن سرکاری طور پر یہ رنگا رنگ تہوار پابندیوں کے حصار میں رہا ۔شائقین بسنت کے من میں لڈو تب پھوٹے جب اس برس پنجاب حکومت نے کچھ نئے قوانین بنا کر بسنت منانے کی منظوری دے ڈالی تو زندہ دلان لاہور کے میں دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔دو دہائیاں پہلے ممنوع قرار دیا جانے والا یہ تہوار پابندیوں کی قید سے آزاد ہو کر لوگوں کے دل شاد کر گیا اور اب ہر طرف بسنت کا شور ہے۔ پتنگوں، ڈور اور گڈیوں کا زور ہے۔جن کی خرید و فروخت حکومت کی زیر نگرانی شروع ہو چکی ہے اس تہوار کو جوش وخروش کے ساتھ منانے کے لیے لاہور کی قدیم چھتیں اپنی باہیں پھیلائے ہوئے ہیں اور ان کی مہنگے داموں بکنگ ہو رہی ہے ۔ یہ تہوار جوں جوں قریب آ رہا ہے۔ لوگوں کی خوشی دیدنی ہے۔ مختلف ڈیزائن اور رنگوں کی پتنگیں تیار ہو رہی ہیں۔ پونا تاوا، ایک تاوا اور ڈیڑھ تاوا اڑانے کی اجازت ملنے پر شائقین خوشی سے بے حال ہیں۔ خواتین بھی اس تہوار کے لیے رنگا رنگ لباس تیار کروا رہی ہیں اور بسنت کا تہوار منانے کے لئے اپنی سکھیوں، سہیلیوں سے رابطے کر رہی ہیں۔انواع و اقسام کے روایتی کھانوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ دوسرے شہروں سے آنے والے بھی سامان باندھے اڈاری مارنے کو تیار بیٹھے ہیں۔لاہوری اپنی تیاری مکمل کر چکے ہیں۔اب 6 فروری سے 8 فروری تک آسمان رنگا رنگ پتنگوں اور گڈیوں سے بھر جائے گا ۔ لاہور شہر کی سڑکوں کی طرح آسمان پر پتنگوں سے ٹریفک جام رہے گی۔ دو دہائیوں کے بعد پابندی سے آزاد اس بسنت میں جہاں اور بہت سی گہما گہمی دیکھنے کو ملے گی وہاں ایک خوشگوار اضافہ جنریشن زی کی شمولیت سے بھی ہو گا ۔جنریشن زی وہ نسل ہے جس کی زندگی میں بسنت کا تہوار پہلی بار منایا جا رہا ہے۔ اس نسل کے لیے ڈیجیٹل دنیا سے نکل کر کھلی ہوا میں رنگ برنگی پتنگوں کی بہار دیکھنے کایہ پہلا موقع ہے اور وہ حیرت و استعجاب میں ڈوبے اس رنگین تہوار کے منتظر ہیں ہماری دعا ہے کہ شائقین بسنت اس تہوار کو منانے کی اجازت ملنے کا بھرم قائم رکھیں اور پر امن طریقے سے حکومت کے طے کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق بسنت منائیں۔ خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے کی کوشش کریں تا کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ رونما نہ ہونے پائے۔ ہماری خواہش ہے کہ جس دلیرانہ طریقے سے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے اس تہوار کو منانے کی اجازت دی ہے اس کا بھرم رکھا جائے اور مستقبل میں بھی یہ رنگا رنگ تہوار پابندیوں کی زد میں آنے سے محفوظ رہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے