امریکہ میں طاقت کی لابیز ایک نئی صف بندی.
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
عالمی سیاست میں امریکہ کے کردار کو سمجھنا ہمیشہ سے ایک پیچیدہ اور متنازع سوال رہا ہے۔ بظاہر یہ ریاست ایک مضبوط جمہوری نظام کی حامل ہے، جہاں آئین، پارلیمان، عدلیہ اور عوامی رائے کو فیصلہ سازی کا بنیادی ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ انتخابات ہوتے ہیں اقتدار منتقل ہوتا ہے، اور ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر اس ظاہری جمہوری ڈھانچے کے پیچھے ایک اور حقیقت بھی موجود ہے جس پر وقتاً فوقتاً بحث ہوتی رہی ہے، اور وہ ہے طاقتور لابیز، کارپوریٹ مفادات اور اسٹریٹجک نیٹ ورکس کا اثر و رسوخ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست کا سنجیدہ طالب علم بار بار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ امریکہ میں اصل فیصلے کون کرتا ہے عوام یا سرمایہ.
یہ سوال کوئی نیا نہیں۔ امریکی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں طاقت کے مختلف مراکز نمایاں ہوتے رہے ہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں نظریاتی تقسیم نے امریکی پالیسیوں کو شکل دی۔ بعد ازاں مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، توانائی کے مفادات اور جغرافیائی سیاست نے فیصلہ سازی پر گہرا اثر ڈالا۔ پھر نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ نے داخلی آزادیوں سے لے کر خارجہ حکمتِ عملی تک سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ مگر ان تمام ادوار میں ایک عنصر مسلسل موجود رہا وہ گروہ اور نیٹ ورکس جو ریاستی فیصلوں پر براہِ راست یا بالواسطہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
امریکی سیاست میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والا اثر عام طور پر اس لابی سے منسوب کیا جاتا ہے جسے اسرائیل کے مفادات کے گرد گھومتا ہوا سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس معاملے کو محض مذہبی یا نسلی عینک سے دیکھنا نہ صرف سطحی تجزیہ ہے بلکہ خطرناک بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک وسیع سیاسی اور اسٹریٹجک اتحاد ہے، جس میں مختلف امریکی حلقے، ادارے، تھنک ٹینکس سیاسی جماعتیں اور میڈیا نیٹ ورکس شامل ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات محض جذباتی وابستگی کا نتیجہ نہیں بلکہ سرد جنگ کی سیاست، مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن، انٹیلیجنس تعاون اور عسکری اشتراک جیسے عوامل سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں اس اثر کو ناقدین اور حامی، دونوں تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس اثر کو کسی ایک مذہب یا قوم کے ساتھ نتھی کرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ خود مسئلے کی پیچیدگی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری طرف وہ طاقت ہے جسے امریکی سیاست میں نسبتاً زیادہ کھلے انداز میں تسلیم کیا جاتا ہے اور وہ ہے ملٹری انڈسٹری اور دفاعی لابی۔ سابق صدر ڈوائٹ آئزن ہاور نے برسوں پہلے جس “ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس” سے خبردار کیا تھا وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور دکھائی دیتا ہے۔ دفاعی بجٹ، اسلحہ ساز کمپنیاں، عسکری معاہدے اور جنگی ٹیکنالوجی یہ سب ایک ایسے معاشی نظام کا حصہ بن چکے ہیں جس کا فائدہ ایک غیر مستحکم دنیا سے جڑا ہے۔ جنگیں، تنازعات اور کشیدگیاں اس صنعت کے لیے منافع کے دروازے کھولتی ہیں۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں سے لے کر حالیہ عالمی تنازعات تک دفاعی صنعت کو ہونے والے معاشی فوائد کوئی خفیہ حقیقت نہیں۔ خود امریکی میڈیا اور تعلیمی اداروں میں اس بات پر کھل کر بحث ہوتی رہی ہے کہ کس طرح بعض خارجہ پالیسیاں اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔
لیکن حالیہ برسوں میں، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی عروج کے بعد، یہ بحث ایک نئے رخ پر آ گئی ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ شاید امریکی سیاست میں ایک تیسری قسم کی لابی نمایاں ہو رہی ہے، جو نہ تو روایتی نظریاتی جنگوں پر یقین رکھتی ہے اور نہ ہی مستقل عسکری مداخلت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ یہ لابی کاروبار، سرمایہ اور مستقبل کی ٹیکنالوجی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، خلائی صنعت، ڈیجیٹل کرنسی، اسٹاک مارکیٹ اور ڈیٹا اکانومی یہ سب اس نئے طاقت کے بلاک کے بنیادی ستون سمجھے جا رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا “امریکہ فرسٹ” کا نعرہ اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بیانیے میں جنگ کو آخری آپشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ معاشی سودے، تجارتی دباؤ اور سرمایہ کاری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ نظریات، اخلاقیات اور عالمی ذمہ داریوں کے بجائے منافع، مقابلہ اور تکنیکی برتری کو زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین کے نزدیک ٹرمپ کسی روایتی نظریاتی یا جنگی لابی کے نمائندے نہیں بلکہ اس ابھرتی ہوئی کارپوریٹ سیاست کی علامت ہیں، جس میں ریاست ایک کاروباری ادارے کی طرح سوچتی اور عمل کرتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ واقعی ایک نئی لابی ہے یا محض پرانی طاقت کے مراکز نے اپنا انداز اور زبان بدل لی ہے. حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ ملٹری انڈسٹری اب خود ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر انحصار کر رہی ہے جبکہ بڑی ٹیک کمپنیاں قومی سلامتی اور دفاعی بیانیے کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ یوں جنگ اور کاروبار، اسلحہ اور الگورتھم، ریاست اور کارپوریشن سب ایک دوسرے میں مدغم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
اصل اور سب سے تشویشناک سوال یہ نہیں کہ کون سی لابی درست ہے اور کون سی غلط، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس پورے عمل میں عام امریکی شہری کی آواز کمزور پڑتی جا رہی ہے اگر پالیسی سازی ووٹ کے بجائے سرمایہ طے کرے، اگر قانون سازی عوامی مفاد کے بجائے کارپوریٹ فائدے کے تحت ہو، تو پھر جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے، جس کی روح خالی ہو چکی ہو۔
ایسے میں دنیا ایک نئے قسم کے سامراج کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ یہ سامراج روایتی نہیں ہوگا، جس میں فوجیں سرحدیں عبور کریں اور زمینوں پر قبضہ کیا جائے۔ یہ ایک خاموش، نفیس اور زیادہ خطرناک سامراج ہوگا جس میں قبضہ ڈیٹا، ٹیکنالوجی، وسائل اور معیشت پر کیا جائے گا۔ طاقت کا اظہار ٹینکوں کے بجائے الگورتھمز کے ذریعے ہوگا اور تسلط بندوق کے بجائے سرمایہ اور انحصار کے ذریعے قائم کیا






