پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط :19
(شاہد بخاری)
یہ کافر دل نہیں مانا
صفحات:144 غزلیات: 116 منظومات: 12
گیت:10 اشاعت:2007 ادب رنگ پبلیکیشنز ملتان
انتساب
صرف اس ذات کے نام!
جس نے بالآخر مجھے جلتی ہوئی دھوپ سے بچایا،
جب آنچل اور زلفوں کے سائے ساتھ چھوڑ گئے،
جس نے میرے اس کڑے وقت آنسو پونچھے،
جب پھول وعدے مرجھا گئے اور چٹان قسمیں ریزہ ریزہ ہوگئیں،
جب زندگی کے پلیٹ فارم پر
مجھے ویٹنگ روم سمجھنے والے، گاڑی کے آتے ہی پیچھے دیکھے بغیر
گاڑی کی جانب لپکے۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کا سفر تھا بہت ہی کٹھن،میں نے چاہا تھا کوئی میرے ساتھ ہو
دو قدم جو چلا، کر گیا آنکھ نم، میں اکیلا چلا،اے خدا اے خدا
ڈاکٹر شیخ اقبال اظہارِ تشکر کے ذیل میں اپنے خیالات کا کچھ یوں اظہار کرتے ہیں:
”گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی کے اواخر اورآٹھویں دہائی کے آغازکی ذہنی اور جذباتی کیفیت نے”ساحلِ تشنہ لب“ کو جنم دیا۔ لگا کہ میں نے کچھ کہہ دیا ہے لیکن پھر یوں لگنے لگا کہ ابھی تو بہت کچھ کہنا ہے۔ جو کہا ہے وہ کہاں کہا ہے؟ سو ”سوالیہ نشان“ منظرِ عام پر آئی۔لیکن پھر بھی کہنے کی خواہش کا پیٹ نہیں بھرا ”اک ہم سفر اچھا لگا“ شائع ہوئی اور اب ”یہ کافر دل نہیں مانا“ اپنی اشاعت کے مراحل میں ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ کہنے کی خواہش کی طبیعت سیر ہوئی ہے یا نہیں۔ ویسے میری رائے میں کہنے کی خواہش ہمیشہ موجود رہنی چاہیے۔ جب کچھ کہنے کے لئے نہیں رہے گا،جانے ہم کہاں ہوں گے“؟
”یہ کافر دل نہیں مانا“ کے حوالے سے معروف کالم نگار سلیم قیصر بڑی خوبصورتی سے ناقدانہ نظر ڈالتے ہیں۔:
”یہ کافر دل نہیں مانا“ میں شامل غزلیات اور نظمیں اپنے اچھوتے انداز اور دل کش اسلوب کے باعث معاصر شاعری میں اس اعتبار سے یقینا معتبر ٹھہرتی ہیں کہ ان میں احساس کی تازگی اور موضوعات کا تنوع موجود ہے۔۔۔۔۔”یہ کافر دل نہیں مانا“ پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال کا چھٹا شعری مجموعہ ہے جو کہ شاعری کی فنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ان کا اسلوب بیان نہایت سادہ اور دل نشین ہے اور زیرِ نظر مجموعے میں انہوں نے طویل اور مختصر بحروں پرکامیابی سے طبع آزمائی کی ہے اور بلاشبہ شاعر کے فن کی یہ پختگی ان کی سالہا سال کی فنی ریاضت کی دلیل ہے“
معروف شاعر و ادیب ارشد ملک لکھتے ہیں:
’یہ کافر دل نہیں مانا“ کی شاعری میوزیکل ہے اور شاید ہمارے ہاں اس کی ضرورت بھی ہے، مزاج کی رنگینی اور موسیقیت کی مداخلت نے ”ابھی تو میں جوان ہوں“ والی کیفیت پیدا کردی ہے، حسن وجمال کی بات ضرور کرتے ہیں، جمال دوست، امن و آشتی کے پرچارک اور محبتوں کے شاعر ہیں۔ محبت کے رنگوں کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور انہی رنگوں کا تخلیقی اظہار ”یہ کافر دل نہیں مانا“ کی صورت میں آپ کے سامنے موجود ہے“
نمونہ کلام
کیا زمیں آسماں سے شکایت کریں
آپ مُجرم ہمِیں، بات کچھ بھی نہیں
کوئی پھول تھا کوئی چاند تھا،کوئی جانِ جاں کوئی دلربا
کہاں کھو گئیں سبھی صورتیں، مرے خواب سارے بکھر گئے
کوئی بھی تارا نہ آکے اترا ہمارے گھر میں
ہمارے گھر میں وہی اندھیرا جو پہلے دن تھا
اک ہاتھ اٹھا سر سے فلک نوچ لے گیا
دیکھا ہے ہم نے چاند ستارے اچھال کر
مرے دل میں آس کا چاند ہے شب تار ہے تو ہوا کرے
ابھی ٹمٹاتی ہیں کوششیں ابھی زندگی کا جواز ہے
دیکھ وہ سامنے روشنی سی کوئی
دو گھڑی اور چل حوصلہ حوصلہ
ماہ و نجوم کہکشاں، چاروں طرف ہیں ضوفشاں
نور کی ندیاں رواں، دل کی عجیب خواہشیں
جبرِ ہستی نے تھمنے کی مہلت نہ دی
صبح چلتے رہے، شام چلتے رہے
شب کا سارا سفر ہم نے پورا کیا
دیپ جلتے رہے، دیپ بجھتے رہے
سحر کو شام کرنے کی مشقت
امیدِ فتنہ گر نے کیا دیا ہے
نہ کوئی نشاں کسی صبح کا نہ کوئی پتہ کسی شام کا
میں ہوں بے خبر ہوئیں مدتیں میرے خواب سارے بکھر گئے
قسم حسنِ سحر کی اک توقع ساتھ تھی ورنہ
تبھی تو دن کٹا تھا زندگی برباد تھی ورنہ
وہ جس سحر کی ملی ہیں بشارتیں دائم
اس سحر کا ہمیں انتظار آج بھی ہے
ابھی جاں نواز ہیں مشکلیں، ابھی زندگی کا جواز ہے
ابھی چارہ ساز ہیں کلفتیں، ابھی زندگی کا جواز ہے
اک رہ گئی ہے ٹیس سی اچھے دنوں کی یاد
رکھی ہوئی ہے دیدہئ دل میں سنبھال کر
اتنا برسا ہے درد کا بادل
زخم کی دل کشی کو چاٹ گیا
اب بھی تیری یادوں میں اک عجب حلاوت ہے
درد مسکراتا ہے اب بھی نام پر تیرے
مجھے تم سے لپٹ کر زندگی کی شام کرنا ہے
بڑے آنسو بہانے ہیں تمہیں جانے کی جلدی ہے
کسی کی آنکھوں میں ڈوب جانا سکون پانا
وہی ابھی تک ہے حال اپنا جو پہلے دن تھا
کتنا معصوم ہے میرا فنکار
اپنے ہاتھوں بنا کے بھول گیا
تپتے دن کے سر پہ بادل، ٹھنڈے دن کے سر پہ سورج
آج مگر تھا دھوپ نہ سایہ جس کے میں نے آنسو پونچھے
وہ کیٹس کی عندلیب جس میں حسین نغمے بکھیرتی تھی
مجھے وہ تسکیں کی سر زمیں دو، مجھے وہ جادو کی کھڑکیاں دو
٭٭٭
چند ایک منظومات:
تقدیر کا تماشا
بے وفائی کی داستاں سن کر
موسمِ گل کا سینہ چاک ہوا
لالہ و گل کی آنکھ بھر آئی
صبح نے غم کی اوڑھ لی چادر
مہر کا رنگ اڑ گیا یکسر
دن کے سولہ سنگھار ختم ہوئے
شام کی سسکیاں نکل آئیں
رات کی چیخ سی بلند ہوئی
ماہ و انجم کی جاں پہ بن آئی
ساری فطرت نڈھال تھی گویا
بے وفائی کی داستاں سن کر
پیار اک جھوٹ کا پلندہ تھا
لیلیٰ مجنوں پہ اعتبار اٹھا
ہیر رانجھا سراب تھے گویا
رومیو، جولیٹ فسانہ بنے
میں کہ جس پر یہ قہر ٹوٹاتھا
میں کہ جس نے یہ چوٹ کھائی تھی
میں کہ جس کو جلا گئی تھی حیات
میں کہ جس پہ زمین تنگ ہوئی
میں کہ جو آسماں کی زد میں تھا
میں کہ زندہ تھا اور






