#بغیر زُمرہ

چہار عکس۔۔۔منظوم تراجم کا شاہکار

1200x630

روبرو ۔۔۔۔محمد نوید مرزا

ترجمہ نگاری کی روایت بہت پرانی ہے ۔یہ ایک قدیم ترین فن ہے ۔جس میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ہر دو زبانوں پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔ترجمے کے فن کے حوالے سے بھی مارکیٹ میں کئی کتب دستیاب ہیں۔لیکن نثری ترجمے سے کہیں زیادہ مشکل اور جان لیوا کام منظوم ترجمہ ہے،اس کے لئے ظاہر ہے مترجم کا نہ صرف شاعر ہونا ضروری ہے بلکہ اسے دوسری زبان کی شاعری کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس کے اصل مفہوم کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔اس تناظر میں اگر نوجوان مترجم فضل اللہ فانی کی کتاب ،چہار عکس کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ وہ منظوم تراجم کے فن سے پوری طرح نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ اس کام میں انتہائی مشاق بھی ہیں۔انھوں نے اپنی منظوم ترجمے کی کتاب چہار عکس میں فارسی کے چار شعراء کی شاعری کو جس خوب صورتی سے اردو زبان میں ڈھالا ہے وہ قابل تحسین ہے۔شعر کی اصل روح برقرار رکھتے ہوئے اس کی تشریح اور مشکل الفاظ کے معنی بھی کتاب میں شامل کئے گئے ہیں۔وہ خود پیش لفظ میں لکھتے ہیں،،منظوم ترجمے کا میرا ذوق کب پروان چڑھا،یہ معلوم کرنا الجھی ہوئی ڈور کا سرا معلوم کرنے جیسا ہے،البتہ اتنا ضرور ہے کہ ایک عرصے سے میں جوں ہی کوئی فارسی شعر پڑھتا ہوں تو پڑھنے کے دوران خود کار طریقے سے اس کے ترجمے کے خدوخال بھی ذہن میں ابھرتے جاتے ہیں اور شعر کے پورا ہونے تک اس کا ترجمہ بھی میرے ذہن میں مکمل ہو چکا ہوتا ہے ،،
چہار عکس میں مترجم نے فارسی کے چار شعراء بیدل،صائب،غنی اور غالب کے کلام سے چنیدہ اشعار لے کر انھیں اردو زبان میں نہایت عمدگی سے منتقل کیا ہے۔فانی نہ صرف ایک مترجم ہیں بلکہ ایک شاعر ،مصور ،خطاط،مفتی اور مترنم شخصیت بھی ہیں۔ایک نوجوان کے اندر اتنی جہتیں ہونا یقینی طور پر عطیہء خداوندی ہے۔کتاب میں مصنف کے دیباچے کے علاؤہ ان کی طرف سے فارسی کے چاروں شعراء کا تفصیلی تعارف بھی شامل کیا گیا ہے۔لیکن خاصے کی تحریر معروف سکالر ،شاعر اور ماہر اقبالیات جناب احمد جاوید کا نوجوان مصنف فضل اللہ فانی کو خراج تحسین ہے۔کتاب کے دیباچے میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں،،اب اردو میں ہمارے پاس منظوم ترجمے کی ایسی مثال موجود ہے جس کے بارے میں ہم کہہ سکیں کہ منظوم ترجمہ ایسا ہونا چاہیے ۔گویا فانی صاحب کے تراجم تدریس و تعلیم کے لئے ایک نمونے کے طور پر پیش کئے جانے کے قابل ہیں اور جس دن بھی ہم نے منظوم ترجمے کو سنجیدہ اہمیت دی تو اسی دن ان کی قدر معلوم ہو گی اور انھیں دیکھنا ناگزیر ہو گا اور پھر پتہ چلے گا کہ یہ کتنی مشکلوں کو آنے والوں کے لئے سہل کر چکے ہیں اور بھی بالکل نوجوانی میں،،
احمد جاوید کا فضل اللہ فانی کو خراج تحسین اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ نوجوان اپنی کتاب چہار عکس میں نہ صرف ایک کامیاب منظوم مترجم کے طور پر ابھرے ہیں بلکہ بطور شاعر بھی وہ بھرپور توانائی سے میدان ادب میں آئے ہیں ۔یوں وہ تخلیقی طور پر بھی ایک مضبوط اور مربوط شعری نظام ترتیب دے چکے ہیں۔
فضل اللہ فانی کی کتاب چہار عکس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ادارہ اقبال اکادمی نے ایک خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا۔جس کی صدارت بریگیڈیئر وحید الزمان طارق نے کی۔سٹیج پر مصنف کے علاؤہ ڈائریکٹر اقبال اکادمی جناب ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی اور جی سی یونیورسٹی کے شعبہء فارسی کے ڈین جناب بابر نسیم آسی براجمان تھے۔ڈاکٹر تقی عابدی صاحب اور طاہر اسلام عسکری صاحب نے آن لائن خطاب کیا۔صدر ،مہمانان اور مقررین نے چہار عکس کو فضل اللہ فانی کی کاوش کو قابل تعریف کاوش قرار دیا اس موقع پر فانی صاحب نے اقبال اکادمی کا شکریہ ادا کیا۔آخر میں ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی نے صدر ،مہمانان، مقررین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔یہ ایک شاندار تقریب تھی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے