#کالم

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

Untitled 1 Recovered copy

دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب

عوام و خواص میں غالب کو جو پذیرائی ملی ہے وہ دوسرے کسی غزل گو شاعر کو نصیب نہیں ہوئی۔ غالب آج بھی سوشل میڈیا پر شاید سب سے زیادہ پڑھا جانے والا شاعر ہے۔ اس نے بیک وقت گلیوں کے بنجاروں سے لیکر امریکن یونیورسٹی کے پروفیسرز تک کو اپنی زلف کا اسیر بنا رکھا ہے۔ چلیے آج یہ عقدہ بھی حل کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے، ہم جانتے ہیں غالب شاعری میں فکر و خیال کے ایسے نئے جہان آباد کرتا ہے جو عام ذہن کے اندر سمانا ممکن ہی نہیں، تو پھر یہ مسٹری کیا ہے کہ وہ ان میں بھی مقبول ہے۔
غالب کی شاعرانہ عظمت کو سمجھنے سے پہلے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ جو رواج چل نکلا ہے کہ میر صاحب اردو غزل کے بے تاج بادشاہ ہیں، ایسا کیوں ہے جب کہ دنیا غالب کی دیوانی ہے۔
میر کی بادشاہی کی کہانی دراصل حسن عسکری سے شروع ہوتی ہے، فراق اور سلیم احمد ان کے پیش رو اس کو لے کر آگے چلتے ہیں اور پھر احمد جاوید سلیم احمد کے شاگرد خاص اس کو حرف آخر بنا دیتے ہیں۔ تو جو روایت حسن عسکری سے شروع ہوئی وہ احمد جاوید تک آن پہنچی اور اسی طرح آگے چلتی جارہی ہے۔
کسی تقریب میں ڈاکٹر خورشید رضوی نے میر، غالب اور اقبال کی شاعری کا تعارف چند لفظوں میں پیش کیا۔ کم از کم ایسا مربوط اور جامع تبصرہ میں نے اس سے پہلے نہیں سنا۔
وہ کہتے ہیں: میر کا شعر اس شبنم کے موتی کی طرح ہے جسے خاص زاویے سے دیکھا جائے تو وہ ہیرے کی طرح چمکتا ہے، غالب کا شعر وہ موتی ہے جو ہر زاویے سے ہی چمکتا ہے، اور اقبال کی شاعری انہی موتیوں کو لڑی میں پرو دینا ہے۔
غالب کی غزل گوئی کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ کہتے ہیں شاعر کے ذہن میں خیال پیرایہ اظہار لے کر اترتا ہے اور اگر اس اظہار میں مظاہر فطرت سے گواہی بھی شامل ہو جائے تو بڑا شعر جنم لیتا ہے:
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
ذرا غور کیجیے، شعر میں قافیہ اور ردیف کس قدر مغلوب ہیں، یعنی غالب کی خیال آفرینی اس قدر غالب ہے کہ مضمون قافیہ اور ردیف کا محتاج نظر نہیں آتا۔
"نقش فریادی” پھر اسی مصرع میں "شوخئی تحریر” جیسی تراکیب کا استعمال اس بات کا اظہار ہے کہ غالب کا یہ شعر قافیہ یا ردیف کے بطن سے جنم نہیں لے رہا۔
آپ غور کریں تو آج نناوے فی صد شاعری قافیہ یا ردیف کے بطن سے ہی پیدا ہو رہی ہے اور بہت دفعہ قافیہ یا ردیف بھی چھاپا مار کے حاصل کیا جا رہا ہے۔

فراز کو دیکھیں:

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

اس غزل میں ردیف اس قدر حاوی ہے کہ شاعر کی تمام فکر و نظر اسی دائرے کے اندر قید ہے، لگتا ہے پہلے ردیف بنایا گیا اور پھر غزل اس شکنجے میں فٹ کر دی گئی۔
یہاں آپ میر، اقبال اور فیض کی مثالیں دیکھیے، کہیں بھی قافیہ ردیف سے مضامین نہیں نکالے جا رہے:

میر تقی میر

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

اقبال ۔

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

فیض احمد فیض

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
ہوئی ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شب
وہ شب ضرور سر کوئے یار گزری ہے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
چمن پہ غارت گلچیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا بے قرار گزری ہے

اوپر کی تمام مثالوں میں خیال ایک مربوط نظام فکر سے جنم لے رہا ہے۔ اور قافیہ ردیف اس خیال کے اظہار میں ممد و معاون نظر آ رہے ہیں، نہ کہ پورا کا پورا مضمون ہی قافیہ یا ردیف نے تھام رکھا ہے۔

فراز کہتے ہیں:

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

پہلے تو نصیر ترابی کا اعتراض ہے کہ گرائمر کی رو سے دوسرا مصرع

ورنہ اتنے تو مراشم تھے کہ آ تا جاتا
ہونا چاہیے۔

دوسری بات، قافیہ اور ردیف پوری غزل تھامے ہوئے ہیں، جیسے پہلے شاعر نے قافیہ ردیف کا تعین کیا اور پھر غزل اس میں فٹ کر دی گئی۔

خلاصہ کلام یہ ہے جو غزل قافیہ یا ردیف سے مضمون نکالنے سے بنتی ہے وہ کسی مربوط فکری نظام سے جڑی ہوئی نہیں ہے اور نہ ہی کسی فکری روایت سے ہم آہنگ ، بلکہ وہ ایک طرح سے بحر، زمین، قافیہ اور ردیف میں لفظوں کی نشست و برخاست کی مشق ہے یا وقتیہ شاعری کا نمونہ ہے جو موجودہ عہد سے تو کسی نہ کسی طرح جڑی ہے، مگر فکری بے ربطگی کا شاخسانہ ہے۔ اب رہ گئی بات اوریجنل خیال آفرینی کی تو وہ نئے شعرا کے ہاں شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے۔

شاعر کو پرکھنے کا پیمانہ ہم نے شئیر کر دیا ہے، بقول شاعر اب :
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

غالب کی عظمت کے حوالے سے ایک غزل کے چند اشعار پیش ہیں ۔ جن کی ہیت اور ساختگی غماز ہے کہ ان مضامین کا خمیر قافیہ یا ردیف کی پابندیوں سے نہیں اٹھا یہ غالب کے ذہنی افق اور اس میں موجود مربوط نظام فکر کی وہ مثالیں ہیں جو اب ضرب

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

کیا مرنا ضروری ہے؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے