#کالم

جسے دیکھو، بے رحم تماشائی ہے

Untitled 1odjt9

تحریر: خالد غورغشتی

جس قوم نے 78 برس بعد بھی ہر بددیانتی، خیانت، ظلم، دھوکا اور لٹیرے کو اپنا رہبر و رہنما بنا لیا ہو، اسے سمجھانے میں مزید کتنے سو سال لگیں گے؟ حج و عمرہ کے نام پر لوٹنے والے ٹریول ایجنٹ، مجبوروں کے نام پر صدقے، خیرات اور زکوٰۃ اکٹھی کر کے راتوں رات امیر ہونے والے خیراتی اداروں کے سربراہان، پھلوں، سبزیوں اور اناج کی ذخیرہ اندوزی کر کے مہنگے داموں فروخت کرنے والے تاجر، دین کے نام پر چندے اکٹھے کر کے کھانے والے مذہبی پیشوا، سرکاری اداروں کے ہوتے ہوئے پرائیویٹ مافیاز سے لُٹنے والے عوام، فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کو ذریعۂ معاش بنانے کے بجائے یہاں سے لٹنے پٹنے والے افراد، رمضان میں دوگنا قیمت پر اشیا فروخت کرنے والے دکان دار اور ریڑھی بان وغیرہ۔

یہ سب گناہ اور جرائم اوپر سے نیچے تک کرنے والے، ہم کس منہ سے انصاف کی طلب کرتے ہیں؟ اگر ہر شخص اپنے اوپر انصاف کی عدالت لگا کر ضمیر سے فیصلہ طلب کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی قبیح خیانت کا مرتکب ضرور ہوگا۔

کسی صاحب نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی کہ ہم کس منہ سے دیگر ممالک کو وعظ و نصیحت کرنے جاتے ہیں، جب کہ بے ایمانی میں ہم ڈیڑھ سو کے لگ بھگ نمبر پر آتے ہیں، جب کہ جن ممالک میں خصوصاً جاپان، ایمانداری میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ کیا خائن کا دیانت دار پر تبلیغ کرنے کا جواز بنتا ہے؟ کیونکہ پہلے کردار ہے، پھر تبلیغ۔

گزشتہ کچھ ماہ سے پے در پے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جنھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ ہر بے ایمانی کی بنیاد ہم نے رکھی ہو۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہر چند دن بعد کسی نہ کسی مشہور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک کر دی جاتی ہے، جس کے فوراً بعد اسے سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کا درجہ مل جاتا ہے۔ چھوٹے بچے بچیوں سے لے کر جوان خواتین و حضرات تک سبھی اسے دیکھنے کے لیے بے تاب ہو جاتے ہیں۔ جب تک قوم کا بچہ بچہ اس بے ہودہ ٹرینڈ والی ویڈیو کو دیکھ نہ لے، ہمارا جی نہیں بھرتا۔ یہاں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے آپ کو مطلع کرنا چاہوں گا کہ آج کل اکثر تعلیمی اداروں کے بچوں نے واٹس ایپ پر گروپ بنائے ہوئے ہیں، جو لیک ویڈیوز ہوتے ہی ان میں شیئر کر دیتے ہیں۔ یوں چند سیکنڈز میں ملک بھر کے طلبہ و طالبات تک لیک ویڈیوز پہنچ جاتی ہیں، جس سے تعلیمی اداروں میں جنسی تشدد کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ لیک ویڈیو ہوتے ہی لنکس کی بھرمار سے لگتا ہے کہ مٹھی بھر یہ گروہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی کی طرف تیزی سے رواں دواں ہیں، جن کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آپ سوشل میڈیا پر جا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام چلانے والے تک کہیں نہ کہیں سے مختلف گروپس کے ذریعے لیک ویڈیو کا اشتہار یا لنک پہنچ ہی جاتا ہے۔

یہاں اداروں سے سوال یہ ہے کہ یہ مٹھی بھر گروہ کیوں اتنا منظم ہو چکا ہے کہ جب تک یہ بچے بچے تک یہ ویڈیوز نہ پہنچا دیں، انھیں چین نہیں آتا۔ اسی لیک ویڈیوز کے ٹرینڈ نے بڑے بڑے شہروں سے نکل کر ہمارے گاؤں دیہات کا رخ بھی کر لیا ہے۔ اب ہم نے اس کے خلاف توانا آواز نہ اٹھائی تو اگلی باری ہمارے گھر کی بھی ہو سکتی ہے، اور کسے کیا خبر کہ یہ مکروہ دھندا ہماری نسلوں کی فکری صلاحیتوں کو کس قدر پرگندہ کر چکا ہے؟ ان کے خلاف فوری کارروائی کا عمل حرکت میں نہ لایا گیا تو اگلی باری سب اپنا اپنا انتظار کریں گے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے