ٹریفک قوانین اور بھاری جرمانوں کا اطلاق
تحریر : فیصل زمان چشتی
کسی بھی معاشرے میں قوانین کا نفاذ شہریوں کی حفاظت اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ پنجاب جیسے گنجان آباد صوبے میں، جہاں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، ٹریفک حادثات کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حکومتِ پنجاب کا موقف ہے کہ جرمانوں کی سابقہ شرح (جو کہ کئی دہائیوں سے معمولی تھی) اب مؤثر نہیں رہی تھی۔
حکومت کا موقف یہ ہے کہ جب جرمانہ معمولی ہو تو لوگ قانون توڑنے کو معمولی بات سمجھتے ہیں۔ تیز رفتاری اور ون وے کی خلاف ورزی جیسے بڑے جرائم پر بھاری جرمانے لوگوں کو احتیاط پر مجبور کرتے ہیں۔ ان اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے حکومت نے ای-چالاننگ اور سیف سٹی کیمروں کے ذریعے سسٹم کو خودکار بنایا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو۔
لیکن ذمہ داران اور کارپردازوں کو یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ پنجاب کی ایک بڑی آبادی دیہاڑی دار طبقے، چھوٹے کاشتکاروں اور کم آمدنی والے سرکاری و نجی ملازمین پر مشتمل ہے۔ ان افراد کے لیے موٹر سائیکل ہی نقل و حمل کا واحد ذریعہ ہے۔ حالیہ برسوں میں مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی اضافے نے پہلے ہی غریب کی کمر توڑ دی ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں، بجلی کے بل اور آٹے کے نرخوں کے بعد اب "بھاری ٹریفک جرمانے” اس کے لیے ایک نیا مالی بوجھ بن کر ابھرے ہیں ۔
ایک طرف حکومت نے کم از کم اجرت 42,000 روپے مقرر کر رکھی ہے جس کا سو فیصد اطلاق بھی ایک سوالیہ نشان ہے تو دوسری طرف بعض ٹریفک خلاف ورزیوں پر جرمانے 2,000 سے 5,000 روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ اگر ایک موٹر سائیکل سوار (جو غالباً ڈیلیوری بوائے یا مزدور ہے) کا مہینے میں دو ، تین بار چالان ہو جائے تو اس طرح وہ اپنی ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ صرف جرمانوں میں ادا کر دیتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جرمانہ اصلاح کے لیے ہے یا ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے یہ غور طلب پہلو ہے۔
میرے خیال کے مطابق بھاری جرمانوں کے نفاذ سے چند سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں مثال کے طور پر جب جرمانہ 2,000 روپے ہو اور ٹریفک وارڈن 500 روپے میں "مک مکا” کی پیشکش کرے، تو غریب آدمی اپنی مجبوری میں رشوت دینے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے کرپشن کا ایک نیا باب کھل جاتا ہے۔ سڑک پر چلتا ہوا غریب شہری ہر وقت خوفزدہ رہتا ہے۔ یہ خوف اسے بہتر ڈرائیور بنانے کے بجائے ذہنی تناؤ کا شکار کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اکثر غریب افراد کے پاس لائسنس یا رجسٹریشن کے مکمل کاغذات نہیں ہوتے کیونکہ ان کے حصول کا طریقہ کار طویل اور مہنگا ہے۔ جرمانوں میں اضافہ انہیں سسٹم سے مزید دور بھگاتا ہے اور وہ حکومت سے مزید بددل ہوتے ہیں ۔
عوام کو صرف سزا دینا کافی نہیں پنجاب کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں ٹریفک کے نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں جن میں بہتری کی گنجائش موجود ہے جن پر غور کرنا چاہیے ۔ کئی مقامات پر سگنلز خراب ہوتے ہیں یا کیمروں کی ٹائمنگ میں فرق ہوتا ہے۔ سڑکوں پر غیر قانونی پارکنگ کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے مناسب پارکنگ پلازوں کی عدم موجودگی ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور غیر ضروری یو-ٹرنز ڈرائیورز کو غلطی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
کچھ تجاویز ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ "سزا” کے ساتھ ساتھ "اصلاح” اور "سہولت” پر بھی توجہ دے۔ جرمانوں کی شرح گاڑی کی قیمت یا انجن کی طاقت کے حساب سے ہونی چاہیے۔ ایک لگژری کار والے کے لیے 2,000 روپے کچھ نہیں، لیکن ایک سائیکل نما موٹر سائیکل والے کے لیے یہ دو دن کا راشن ہے۔ جرمانوں میں اضافے سے پہلے کم از کم تین ماہ تک وسیع پیمانے پر تعلیمی مہم چلائی جانی چاہیے۔ لائسنس سینٹرز کی تعداد بڑھائی جائے، اس کا طریقہ کار آسان بنایا جائے اور غریب طبقے کے لیے فیسوں میں رعایت دی جائے۔ پہلی بار چھوٹی خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانے کے بجائے وارننگ کارڈ جاری کیا جائے تاکہ مسائل کم سے کم ہوں ۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ ٹریفک قوانین کا احترام ہر شہری کا فرض ہے، اور حکومت کا نظم و ضبط قائم کرنا حق ہے۔ تاہم، پنجاب جیسے صوبے میں جہاں غربت کی شرح زیادہ ہے، جرمانوں کو صرف مالی سزا کے طور پر نہیں بلکہ سماجی بہتری کے آلے کے طور پر استعمال ہونا چاہیے۔ جب تک عوام کو بنیادی سہولیات اور قانون کی آگاہی فراہم نہیں کی جاتی، محض جرمانوں میں اضافہ غریب دشمن اقدام ہی تصور کیا جائے گا۔






