کچھ رخصتیں عہدوں کی ہوتی ہیں اعتبار ساجد
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
کچھ رخصتیں محض افراد کی نہیں ہوتیں وہ پورے عہد کی ہوتی ہیں۔ کچھ موتیں جسم کو نہیں، فضا کو خاموش کر دیتی ہیں۔ اعتبار ساجد کے انتقال کی خبر بھی ایسی ہی ایک خبر ہے جس نے دل کو اچانک شور سے نکال کر خاموشی کی ایک گہری تہہ میں اتار دیا۔ یوں لگا جیسے اردو ادب نے اپنا ایک مہذب لہجہ ایک شائستہ آواز اور ایک نرم خو انسان کھو دیا ہو۔ وہ شاعر جو لفظوں کو نعرہ نہیں بناتا تھا، جو جذبوں کو چیخ میں نہیں ڈھالتا تھا، بلکہ بات کو دعا کی طرح آہستہ آہستہ دل میں اتارتا تھا۔
اعتبار ساجد ان شاعروں میں سے تھے جو بلند آواز میں نہیں بولتے مگر ان کی خاموشی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔ وہ شور کے زمانے میں سکوت کے نمائندہ تھے۔ ان کے ہاں لفظ ہتھیار نہیں بنتے تھے سہارا بنتے تھے۔ وہ قاری کو چونکاتے نہیں تھے تھام لیتے تھے۔
اعتبار ساجد کا نام آتے ہی ذہن میں جو پہلا مصرع گونجتا ہے، وہ یہی ہے.
“میں بہت دنوں سے اداس ہوں، مجھے کوئی شام اُدھار دو”
یہ محض ایک شعر نہیں، ایک پورا مزاج ہے۔ ایک فکری رویہ ایک نفسیاتی کیفیت اور ایک تہذیبی مطالبہ۔ یہ اس شخص کی آواز ہے جو زندگی سے چیخ کر کچھ مانگنے کے بجائے وقت سے آہستہ سے درخواست کرتا ہے۔ جو جانتا ہے کہ اصل دکھ کمی کا نہیں وقت کے بےرحمانہ گزر جانے کا ہے۔
اعتبار ساجد کی شاعری میں “شام” محض دن کا آخری پہر نہیں، ایک استعارہ ہے ٹھہراؤ کا یاد کا، تنہائی کا، اور خود سے مکالمے کا۔ وہ شاعر جو دن کے ہنگامے سے زیادہ شام کی خاموشی میں سچ تلاش کرتا ہے۔ ان کی شاعری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل درد وہ نہیں جو چیخ کر کہا جائے اصل درد وہ ہے جو خاموشی سے جھیلا جائے۔
ان کا کمال یہ تھا کہ وہ جذبات کو برہنہ نہیں کرتے تھے۔ محبت ہو یا جدائی امید ہو یا محرومی سب کچھ تہذیب کے پردے میں ایک وقار کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ ان کے ہاں نہ جذبات کی نمائش ہے، نہ دکھ کا کاروبار۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں چیخ نہیں، صدا ہے؛ ہنگامہ نہیں، ٹھہراؤ ہے۔
“مجھے کوئی شام اُدھار دو” دراصل اس معاشرے کے نام ایک سوال بھی ہے جو ہر وقت تیز رفتاری کا شکار ہے۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کو جینے کے لیے صرف دن نہیں، شامیں بھی چاہیے ہوتی ہیں۔ ایسی شامیں جن میں وہ خود سے مل سکے، اپنے زخم گن سکے اور اپنے بکھرے وجود کو سمیٹ سکے۔
اعتبار ساجد کی شاعری جدید بھی ہے اور روایت سے جڑی ہوئی بھی۔ وہ کلاسیکی اردو شاعری کی شائستگی کو جدید انسان کے اضطراب سے جوڑتے ہیں۔ یہی امتزاج انہیں منفرد بناتا ہے۔ وہ نہ تو محض ماضی کے اسیر تھے اور نہ جدیدیت کے شور میں اپنی پہچان کھو بیٹھے۔ وہ توازن کے شاعر تھےلفظ، احساس اور فکر کے توازن کے۔
نثر میں بھی اعتبار ساجد کا اسلوب اپنی پہچان رکھتا ہے۔ ان کے مضامین اور سفرنامے محض معلومات فراہم نہیں کرتے وہ تجربہ بن جاتے ہیں۔ وہ جگہوں کو جغرافیے کی آنکھ سے نہیں احساس کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ وہ انسانوں کو کردار نہیں بناتے بلکہ آئینہ بنا دیتے ہیں جس میں قاری خود کو پہچان لیتا ہے۔
ان کے سفرناموں میں راستے کم اور کیفیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ کہاں گئے وہ یہ بتاتے ہیں کہ وہاں جا کر کیا محسوس ہوا۔ یہی وصف ان کی نثر کو محض تحریر نہیں رہنے دیتا اسے ایک داخلی سفر بنا دیتا ہے۔
اعتبار ساجد کی شخصیت بھی ان کی تحریر کی طرح تھی سادہ، کم گو، باوقار۔ وہ ادبی محفلوں میں بھی خودنمائی سے دور رہتے تھے۔ نہ بلند بانگ دعوے نہ ادبی سیاست۔ وہ خاموشی سے لکھتے رہے، خاموشی سے پڑھتے رہے، اور خاموشی سے دلوں میں جگہ بناتے رہے۔
آج کے عہد میں جہاں ہر شخص نمایاں ہونے کی دوڑ میں ہے، اعتبار ساجد جیسے لوگ ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں.
کیا عظمت کے لیے شور ضروری ہے
یا خاموشی بھی کافی ہو سکتی ہے.
ان کی شاعری میں وقت ایک مرکزی کردار ہےگزرا ہوا وقت ٹھہرا ہوا وقت اور ہاتھ سے پھسلتا ہوا وقت۔ “کوئی شام اُدھار دو” دراصل وقت سے ایک مہلت کی درخواست ہے۔ یہ اس انسان کی آواز ہے جو جانتا ہے کہ سب کچھ ابھی باقی ہے، مگر وقت نہیں۔
اعتبار ساجد کی وفات نے ہمیں یہ بھی یاد دلایا ہے کہ ادب صرف کتابوں میں نہیں ہوتا رویّوں میں بھی ہوتا ہے۔ ان کا اٹھ جانا ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کن آوازوں کو نظرانداز کر رہے ہیں، اور کن قدروں کو خاموشی سے کھو رہے ہیں۔
وہ شاعر جو محبت کو بازار نہیں بناتا تھا جو درد کو تماشا نہیں کرتا تھا جو لفظوں کو بیچتا نہیں تھا آج وہ ہم میں نہیں رہا۔ مگر کیا واقعی وہ چلا گیا ہے؟ نہیں۔ وہ اپنی شاعری میں زندہ ہے اپنی نثر میں سانس لے رہا ہے اور ان دلوں میں آباد ہے جو شور سے تھک چکے ہیں اور اب کسی شام کے اُدھار کے خواہاں ہیں۔
ایسے لوگ مرتے نہیں۔ وہ وقت کی گرد میں تحلیل ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اعتبار ساجد بھی اب ایک فرد نہیں رہے ایک حوالہ بن گئے ہیں ادب کا شائستگی کا اور احساس کا۔
اللہ تعالیٰ اعتبار ساجد مرحوم کو اپنی بے پایاں رحمت میں جگہ عطا فرمائے ان کے درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کو صبر عطا فرمائے۔
اردو ادب آج ایک شام کا مقروض ہو گیا ہے.
وہ شام جو اعتبار ساجد نے ہمیں لفظوں میں اُدھار دی تھی۔






