#کالم

چراغِ علم کی لو اور خاموش محرابیں(مولانا حافظ فضلِ الرحیم کی یاد میں)

Untitled 1

منشاقاضی حسبِ منشا

کچھ رخصتیں محض ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتیں، وہ ایک عہد کے اختتام کا اعلان بن جاتی ہیں۔ کچھ خاموشیاں شور سے زیادہ گہری ہوتی ہیں اور کچھ آنسو الفاظ سے زیادہ بلیغ۔ مولانا حافظ فضلِ الرحیم مرحوم و مغفور—مہتممِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ، فیروز پور روڈ، لاہور—کی رحلت بھی ایسی ہی ایک ہمہ گیر خاموشی ہے جو اہلِ علم، اربابِ فکر اور طالبانِ حق کے دلوں پر اتر گئی ہے۔ وہ جو عمر بھر چراغِ علم جلانے میں مصروف رہے، خود رخصت ہو گئے مگر اپنے پیچھے روشنی کی ایسی لکیر چھوڑ گئے جو مدتوں راستہ دکھاتی رہے گی۔
اسی احساسِ محرومی اور عقیدت کے زیرِ سایہ گزشتہ روز مرحوم کے ایصالِ ثواب اور خراجِ عقیدت کے لیے تعزیتی و دعائیہ نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس نشست کی صدارت سرپرستِ اعلیٰ کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی، ڈاکٹر آصف محمود جاہ صاحب نے کی، جن کے الفاظ میں دکھ بھی تھا اور شکر بھی کہ اللہ نے ایسی ہستیاں قوم کو عطا کیں جو علم، عمل اور اخلاص کا مجسم نمونہ ہوں۔
اس موقع پر مولانا مرحوم کے فرزندِ ارجمند اور خلیفۂ مجاز، حافظ زبیر الحسن صاحب بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ ان کی موجودگی یوں محسوس ہوئی جیسے علم کی امانت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو رہی ہو۔ جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث مولانا یوسف خان صاحب نے مرحوم کی علمی بصیرت، دینی استقامت اور تدریسی خدمات پر مدلل اور پُراثر گفتگو کی، جب کہ ڈاکٹر فیاض رانجھا صاحب، سابق ایم ایس میو ہسپتال لاہور، نے مولانا مرحوم کی شخصیت کو سماجی و اخلاقی زاویے سے خراجِ تحسین پیش کیا اور بتایا کہ کس طرح وہ علم کے ساتھ ساتھ انسان دوستی کا استعارہ بھی تھے۔
تعزیتی نشست کا ایک اہم فکری پہلو معروف صحافی و ادیب منشا قاضی نے تصور کی روشنی میں گفتگو کی، جو پاکستان انٹرفیتھ فورم کے تحت بین المسالک ہم آہنگی کے عنوان سے مدعو کیے گئے تھے۔ ان کے الفاظ میں مولانا حافظ فضلِ الرحیم مرحوم کی وہ وسعتِ نظر نمایاں ہوئی جو اختلاف کے ہجوم میں بھی وحدت کے چراغ روشن رکھتی ہے۔ انہوں نے مرحوم کو ایسے عالمِ دین کے طور پر یاد کیا جو مکالمے کو تصادم پر، اور محبت کو تفریق پر ترجیح دیتے تھے۔
مذکورہ تعزیتی بیٹھک میں تمام مقررین نے اس حقیقت پر اتفاق کیا کہ مولانا حافظ فضلِ الرحیم مرحوم کی زندگی محض ایک شخص کی زندگی نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد، ایک زندہ درسگاہ اور ایک روشن روایت کا نام تھی۔ ان کی دینی خدمات، انتظامی بصیرت اور اخلاقی وقار آنے والی نسلوں کے لیے ایک امانت ہیں، جسے سنبھالنا اب اہلِ علم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے قائم کردہ علمی و روحانی سلسلے کو دوام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب کرے۔ بلاشبہ ایسے لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں، کہ ان کی خوشبو زمانوں تک فضا میں بسی رہتی ہے۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

چراغِ علم کی لو اور خاموش محرابیں(مولانا حافظ فضلِ الرحیم کی یاد میں)

30/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے