آج کل اور کل کلاں (وقت کی دہلیز)
تحریر : فیصل زمان چشتی
کائنات کا پہیہ ایک ایسے محور پر گھوم رہا ہے جسے ہم "وقت” کہتے ہیں۔ وقت کی اس رواں دواں لہر کے تین رخ ہیں: وہ جو گزر گیا (ماضی)، وہ جو میسر ہے (آج)، اور وہ جو پردہِ غیب میں ہے (کل کلاں)۔ انسان کی پوری زندگی انہی تین زمانوں کے گرد گھومتی ہے۔ "آج” وہ لمحہ ہے جو ہماری مٹھی میں ریت کی طرح پھسل رہا ہے، اور "کل کلاں” وہ وسیع افق ہے جس کی تعمیر کا خام مال ہمارا یہی "آج” فراہم کرتا ہے۔
انسانی فطرت ہے کہ وہ حال میں جیتے ہوئے بھی مستقبل کے خواب بنتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اکثر انسان "آج” کی رنگینیوں میں کھو کر اس "کل کلاں” کو فراموش کر دیتا ہے جو بالآخر اس کے سامنے ایک حقیقت بن کر کھڑا ہونے والا ہے۔
”آج” دراصل فرصت کا نام ہے، عمل کا نام ہے اور بیج بونے کا نام ہے۔ جو کچھ آج ہم سوچتے ہیں، جو فیصلے ہم آج کرتے ہیں اور جو پسینہ ہم آج بہاتے ہیں، وہی کل کلاں کی فصل بن کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ صوفیائے کرام اور دانشوروں نے ہمیشہ "ابن الوقت” بننے کی تلقین کی ہے۔ یہاں ابن الوقت سے مراد وقت کا پجاری ہونا نہیں، بلکہ وقت کی قدر کرنا ہے۔
آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ کام کو کل پر ٹالنا ہے۔ ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ابھی تو بہت وقت پڑا ہے، کل کلاں جب ضرورت پڑے گی تو دیکھ لیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس نے اپنے آج کو ضائع کیا، اس کا کل کبھی سنور نہیں سکتا۔
”کل کلاں” کا تصور دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو دنیاوی زندگی میں ہمارے بڑھاپے یا آنے والی نسلوں سے متعلق ہے، اور دوسرا وہ جو اس مادی دنیا کے بعد کی دائمی زندگی ہے۔ ایک نوجوان کے لیے اس کا کل کلاں اس کا بڑھاپا اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی ہے۔ اگر آج وہ اپنی توانائی کو درست سمت میں صرف نہیں کرتا، تو کل کلاں اسے محتاجی اور پشیمانی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا اور قوموں کی زندگی میں آج کی پالیسیاں ان کے کل کلاں کا رخ متعین کرتی ہیں۔ جو قومیں آج تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نہیں کرتیں، وہ کل کلاں دوسری قوموں کی غلامی پر مجبور ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہمارے مذہب اور
اسلامی تعلیمات میں "کل کلاں” کے لیے بچت اور منصوبہ بندی کی واضح مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں ملتی ہے۔ جب مصر میں سات سال کی خوشحالی کے بعد سات سالہ قحط کی پیش گوئی کی گئی، تو آپ علیہ السلام نے "آج” کے غلے کو بچا کر "کل کلاں” کی بقا کا سامان کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مستقبل کے لیے مالی اور غذائی بچت کرنا توکل کے منافی نہیں بلکہ عین دانشمندی ہے۔ آج کے معاشرے میں انسان اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے کا عادی ہو چکا ہے۔ ہم آج کی نمائش کے لیے کل کلاں کا سکون داؤ پر لگا رہے ہیں۔ قرض کی بنیاد پر کھڑی کی گئی آج کی آسائشیں کل کلاں کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوتی ہیں ۔ اگر ہم اخلاقی لحاظ سے دیکھیں تو "آج کل” کی تربیت ہی "کل کلاں” کے کردار کی ضامن ہے۔ والدین اگر آج اپنی اولاد کو وقت نہیں دیتے اور ان کی اخلاقی آبیاری نہیں کرتے، تو کل کلاں وہی اولاد ان کے لیے دکھ کا باعث بنتی ہے۔ معاشرہ جو آج بو رہا ہے، کل کلاں اسے وہی کاٹنا ہوگا۔ آج کی بے راہ روی، جھوٹ اور بددیانتی کل کلاں ایک ایسے سماجی ڈھانچے کو جنم دے گی جہاں کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں ہوگی۔
آج ہم مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی کے انقلاب کے دور میں جی رہے ہیں۔ آج کا انسان سکرین کا اسیر ہو چکا ہے۔ یہ "آج” ہمیں بظاہر بہت سہل نظر آ رہا ہے، لیکن کل کلاں جب مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی، تو وہی انسان جس نے آج اپنے ہنر پر کام نہیں کیا ہوگا، خود کو بے بس پائے گا۔ اسی طرح آج کی طرزِ زندگی اور خوراک کل کی بیماریوں یا تندرستی کا سبب بنتی ہے۔
"آج” اللہ کی دی ہوئی ایک امانت ہے، اسے اس طرح صرف کریں کہ "کل کلاں” جب ہم پلٹ کر دیکھیں تو ہماری آنکھوں میں پچھتاوا نہیں بلکہ اطمینان کی چمک ہو۔






