خاتون صحافی کے مسائل اور تلخ حقیقتیں
حرف معتبر تحریر فاطمہ شیرازی
صحافت کو جرات، سچ اور عوامی آواز کا استعارہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس شعبے میں کام کرنے والی خاتون صحافی خود ایک خاموش جدوجہد کی علامت بن چکی ہے۔ نیوز چینلز کی چکاچوند اسکرین کے پیچھے خاتون صحافی کو جن مسائل کا سامنا ہے، وہ اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔خاتون صحافی کے لیے سب سے بڑا چیلنج عدم تحفظ ہے۔ فیلڈ رپورٹنگ کے دوران احتجاج، سیاسی جلسے، حساس واقعات اور کرائم کوریج میں خواتین کو نہ صرف ہجوم کے نازیبا رویے بلکہ ادارہ جاتی بےحسی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار بغیر سیکیورٹی یا مناسب سہولتوں کے خطرناک اسائنمنٹس سونپ دیے جاتے ہیں، اور کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داری بھی خاتون پر ڈال دی جاتی ہے۔نیوز روم میں کام کرنے والی خواتین بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ جنسی ہراسانی، طنزیہ جملے اور غیر پیشہ ورانہ رویہ ایک کھلی حقیقت ہیں، مگر شکایت کی صورت میں متاثرہ خاتون کو ہی مشکل کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ ہراسانی کے خلاف قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔پیشہ ورانہ میدان میں امتیازی سلوک بھی واضح دکھائی دیتا ہے۔سیاست، دفاع اور تحقیقاتی صحافت جیسے اہم بیٹس آج بھی زیادہ تر مردوں کے پاس ہیں، جبکہ خواتین کو شوبز، سوشل یا ہلکی نوعیت کی خبروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی اپنی پی آر یاں خوداعتمادی کی وجہ سے سیاسی بیٹس لینے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو ان پہ بزنس لانے کا اور کمرشلز کا دباو حد سے زیادہ ڈال دیا جاتا ہے۔اینکرنگ میں بھی صلاحیت کے بجائے ظاہری شخصیت کو معیار بنایا جاتا ہے، جو صحافت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔خاتون صحافی کو طویل اوقاتِ کار اور غیر یقینی شیڈول کا سامنا بھی رہتا ہے۔ نائٹ شفٹس، اچانک اسائنمنٹس اور چھٹیوں کی عدم دستیابی گھریلو اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن کو شدید متاثر کرتی ہے۔ شادی یا ماں بننے کے بعد اکثر خواتین کے کیریئر پر سوالیہ نشان لگا دیا جاتا ہے۔مالی عدم استحکام بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کم تنخواہیں، کنٹریکٹ سسٹم، بروقت ادائیگی نہ ہونا اور مراعات کی کمی خواتین صحافیوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر آن لائن ہراسانی، کردار کشی اور دھمکیاں آزادیٔ اظہار پر قدغن بن چکی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نیوز چینلز خواتین صحافیوں کے لیے واضح اور مؤثر پالیسیز بنائیں، سیکیورٹی، مساوی مواقع اور ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کو یقینی بنایا جائے۔ خاتون صحافی کو ترس نہیں بلکہ تحفظ، احترام اور برابری چاہیے۔اسے اور اس کی جاب کو مکمل تحفظ فراہم کرنا چاہیئے۔یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک خاتون صحافی محفوظ نہیں ہوگی، تب تک آزاد، غیر جانبدار اور باوقار صحافت کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔






