#کالم

سخن رس اور نذیر قیصر

تسنیم کوثر

تحریر۔۔۔تسنیم کوثر
جنوری 2026 کی آمد کو دس روز ہو گئے تھے مگر یہ پورا عشرہ ہی دھند کی لپیٹ میں گزر گیا تھا اس سرد موسم میں سب کی نگاہیں سورج کو ڈھونڈتی تھیں مگر وہ تو ایسا روٹھا تھا کہ اپنا دیدار کروانے پر آمادہ ہی نہیں تھا ایسی کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی کہ چرند پرند سب ہی دبکے بیٹھے تھے مگر اس سخت جاڑے میں بھی کچھ محبت بھرے لوگ محترم عبدالوحید چغتائی کے دولت کدے پر پہنچ رہے تھے کہ یہاں محبت کے شاعر نذیر قیصر کی سالگرہ منانے کا اہتمام کیا گیا تھا ۔نذیر قیصر ہمارے ملک کے نامور شاعر ہیں وہ گزشتہ چھ دہائیوں سے شعر کہہ رہے ہیں ان کے شعر دلوں کو گرماتے ہیں اور ان کے ہر شعر سے ان کے چاہنے والے محبت کشید کرتے ہیں کہ نذیر قیصر محبت کے شاعر ہیں وہ کہتے ہیں۔
دنیا اچھی لگتی ہے ، رب اچھا لگتا ہے
اچھی آنکھوں والوں کو سب اچھا لگتا ہے

نذیر قیصر کا شعر کہنے اور شعر سنانے کا اپنا ہی انداز ہے وہ شعر سناتے ہیں اور ان کے چاہنے والے بہت وارفتگی سے ان کی شاعری سنتے ہوئے مکرر مکرر کی تکرار کرتے جاتے ہیں۔زندہ دلان شہر لاہور میں ان کے مداحین کی بڑی تعداد موجود ہے اور صرف لاہور ہی نہیں، پورے پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی ان کے چاہنے والے موجود ہیں اور ان کی شاعری اور ان کی خوبصورت شخصیت کے گرویدہ ہیں وہ انہیں سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔نذیر قیصر خوش قسمت ہیں کہ انہیں زندگی ہی میں بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ جنوری نذیر قیصر کی سالگرہ کا مہینہ ہے ان کے پیار کرنے والے اس مہینے میں اپنے طور پر اپنے انداز میں ان کی سالگرہ کا اہتمام کر رہے ہیں ۔مختلف تنظیمیں آج کل ان کی سالگرہ منا رہی ہیں ایسی ہی ایک خوبصورت تقریب کا انعقاد سخن رس کے چیئر پرسن عبدالوحید چغتائی نے کی۔ عبدالوحید چغتائی لائنز کلب کے پاسٹ ڈسٹرکٹ گورنر رہے ہیں” برداشت ” پنجاب کے صدر رہے ہیں اور اب بھی "برداشت "کے لئے فلاحی کام کرتے رہتے ہیں وہ ایک ادب دوست شخصیت ہیں ،شاعری کے دلداہ ہیں ،خود بھی سخن آرائی کرتے ہیں اور عمدہ شاعروں کی پذیرائی بھی کرتے ہیں۔عبدالوحید چغتائی اپنی ادبی تنظیم سخن رس کے پلیٹ فارم سے اکثر اپنے دولت کدے پہ علمی و ادبی تقریبات کا اہتمام بھی کرتے رہتے ہیں۔ نئے سال میں سخن رس کے تحت ہونے والا یہ پہلا پروگرام تھا جس کا اہتمام نذیر قیصر کی سالگرہ منانے کے لیے کیا گیا تھا ۔10 جنوری کی یہ سرد شام نذیر قیصر کے نام تھی جسے نذیر قیصر سے محبت کرنے والوں نے گرما دیا تھا ۔سالگرہ کی اس شاندار تقریب کی صدارت پاکستان ٹیلیویژن کے نامور پروڈیوسر اور پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سے اپنی وضع کے پہلے ، انوکھے اور کامیاب ترین پروگرام سٹریٹ شو”میں اور آپ” کے مقبول ترین اینکر محمد سلیم طاہر تھے۔ مہمان خصوصی محترمہ تسنیم کوثر اور محترم ثقلین جعفری تھے۔ اس پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری عبدالوحید چغتائی نے نبھائی ۔جب کہ عکس بندی کے فرائض فرخ آصف صدیقی نے ادا کئے ۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت ہاجرہ فرح نے حاصل کی ۔میزبان کی حیثیت سے عبدالوحید چغتائی صاحب نے پہلے اپنا کلام پیش کیا اور اس کے بعد وفا آذر کو دعوت کلام دی۔ وفا آزر مترنم شاعرہ ہیں ان کے ترنم نے سرد موسم میں اپنی آواز کے شعلوں سے محفل کو گرما دیا ۔دھیرے دھیرے دیگر شاعر آتے رہے اور کلام سناتے رہے۔ڈاکٹر فضیلت بانو ہماری پی ایچ ڈی کے مقالے کی نگران ہیں وہ ہماری دعوت پر یہاں تشریف لائی تھیں۔ انہوں نے اپنی نظمیہ شاعری سنا کر داد سمیٹی اس کے بعد سینیئر شاعر احمد سبحانی آکاش کو دعوت کلام دی گئی ، احمد سبحانی آکاش بہت عمدہ شاعر ہیں وہ بڑے جوشیلے انداز میں شعر پڑھتے ہیں اور محفل لوٹ لیتے ہیں ۔انہوں نے اپنا کلام سنایا بلکہ صاحب صدر کی فرمائش پر بھی غزل سنائی اور خوب داد پائی۔ مشاعرے کے دوران خاطر تواضع کا دور بھی چلتا رہا کبھی پھل پیش کیے گئے اور کبھی گول گپوں سے میز سجا دی گئی ۔کچھ ہی دیر بعد یخنی اور چکن ونگز پیش کئے گئے۔اب باری سٹیج ممبران کی تھی سو پہلے ثقلین جعفری سے ان کا کلام سنا گیا ان کے بعد تسنیم کوثر نے صاحب شام کی فرمائش پر ان کے فن اور شخصیت کے حوالے سے لکھا گیا اپنا مضمون پیش کیا اور بعد میں اپنا کلام سنایا۔ صدارتی خطبے سے پہلے صاحب شام کو دعوت دی گئی ، صاحب شام نے اپنا خوبصورت کلام سنا کر سماں باندھ دیا ۔عبدالوحید چغتائی نے نذیر قیصر کے کلام کی خوبصورت آڈیوز وڈیوز بنوائی ہوئی ہیں ۔ان میں سے کچھ غزلیں سامعین کی خدمت میں پیش کیں اور محفل کو حیران کر دیا ۔سامعین میں عبدالوحید چغتائی صاحب کے دو دوست جو بیرون ملک سے پاکستان آئے ہوئے تھے اور سامعین کی حیثیت سے تشریف فرما تھے۔ لالہ موسی سے ان کے دوست ڈاکٹر یوسف اور ان کے صاحبزادے اویس بھی محفل میں سامعین کی حیثیت سے موجود تھے۔ ڈاکٹر فضیلت بانو کی صاحبزادی ہبہ بھی اس محفل میں موجود تھیں۔ مشاعرہ اختتام پذیر ہوا تو نہایت پرتکلف عشائیے سے مہمانوں کی تواضع کی گئی ۔کھانے کے بعد نذیر قیصر کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اس کے بعد گاجر کا حلوہ پیش کیا گیا اور ساتھ ہی گرما گرم قہوہ آ گیا۔ گیارہ بجنے کو تھےاور اس وقت تک سرد رات اور بھی سرد ہو گئی تھی ۔سو سب مہمانوں نے رخصت چاہی ۔عبدالوحید چغتائی نے سب مہمانوں کو سوینئر پیش کر کے رخصت کیا اور یوں یہ خوبصورت تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

سخن رس اور نذیر قیصر

آج کل اور کل کلاں (وقت کی

سخن رس اور نذیر قیصر

15/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے