وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب
قرآن میں ارشاد ہوا ،
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورً۔
اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے ساتر اور حجاب بنایا اور نیند کو راحت بنایا اور دن کو اٹھنے اور کام کرنے کے لئے بنایا
(سورۃ الفرقان، آیت 47)
ہم نے یہ آیت ہزاروں مرتبہ پڑھی ہو گی اور پڑھ کر آ گے بڑھ گئے مگر وہ جو میر نے کہا ہے ،
سرسری تم جہاں سے گزرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
اگر میں آ سان لفظوں میں کہوں یہ ایک ایسی انجینئرنگ کا شاہکار ہے جسے انسان پوری طرح سمجھ پانے کے صلاحیت سے بھی عاری ہے ۔ چلئے آج سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں دن اور رات بنانے کا انتظام وانصرام آ خر ہے کیا ۔
سائنس کہتی ہے کہ کائنات کبھی نہ ہونے والی خاموشی نہیں تھی، بلکہ ایک نقطے میں سمیٹی ہوئی بےحد توانائی تھی۔ پھر ایک لمحہ آیا جسے Big Bang کہا جاتا ہے۔ توانائی پھٹی، وقت جاری ہوا، خلا بنا، مادہ وجود میں آیا، اور کہکشائیں جنم لینے لگیں۔ اربوں کہکشائیں، کھربوں ستارے… کہیں نیبیولا، کہیں بادلوں کے اندر سے بنتے ہوئے سورج… اور انہی میں ایک چھوٹا سا ستارہ ہمارا سورج جس کے گرد ایک گردآلود ڈسک گھومنے لگی، اور اسی ڈسک میں سے زمین بنی۔
یہ محض ایک مٹی کا گولہ نہیں تھا۔ اللہ نے اسے ایک بیضوی (Oblate Spheroid) شکل دی، قطبین ذرا دبا دیے اور خطِ استوا کو وسیع تر بنایا۔ اسے مسلسل گھومتا ہوا رکھا تاکہ ایک پہلو پر سورج ہو تو دن، اور دوسرا پہلو اندھیرے میں ہو تو رات۔
یہ گھومنے کا چکر تقریباً 24 گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے یوں دن اور رات بنتے ہیں۔
زمین سورج کے گرد بھی گھومتی ہے اور ایک سال میں اپنا مدار مکمل کرتی ہے اور یہی گھومنا موسم بناتا ہے۔
زمین سیدھی کھڑی نہیں، بلکہ تقریباً 23.5 ڈگری جھکی ہوئی ہے۔ یہی جھکاؤ موسم پیدا کرتا ہے۔ یہی جھکاؤ حرارت کو تقسیم کرتا ہے۔ یہی جھکاؤ زندگی کو ممکن بناتا ہے۔
اگر یہ زاویہ کم یا زیادہ ہوتا تو یا تو زمین مسلسل برف میں ڈوبی ہوتی یا ایسی گرمی ہوتی کہ پانی ٹھہر نہ پاتا
یوں زندگی ممکن ہی نہ رہتی۔
زمین سورج سے تقریباً ڈیڑھ سو ملین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ فاصلہ نہ بہت کم ہے نہ بہت زیادہ۔ یہی درمیانی خطہ “گولڈی لاکس زون” کہلاتا ہے، جہاں پانی مائع شکل میں رہ سکتا ہے، جہاں حرارت زندگی کو بھسم بھی نہیں کرتی اور برف بھی نہیں کر دیتی۔ اگر زمین بہت قریب ہوتی تو سمندر بھاپ بن کر اڑ جاتے، اگر بہت دور ہوتی تو وہی سمندر برف کے مقبرے بن جاتے۔
پھر زمین کی سطح کی تقسیم بھی محض اتفاق نہیں۔ زمین کا تقریباً تین چوتھائی حصہ پانی ہے اور ایک چوتھائی خشکی۔ یہ تناسب زندگی کے لیے بنیادی ہے اور کم و بیش انسانی جسم میں یہی تناسب نظر آ تا ہے ۔ سمندر صرف پانی کے ذخیرے نہیں، یہ زندگی بخش لیوریڑریز ہیں ۔ سائنس بتاتی ہے کہ ابتدائی حیاتیاتی صورتیں سمندروں ہی کی تہوں سے پیدا ہوئیں۔ نمکیات، معدنیات، حرارت، دھاروں کی توانائی سب مل کر زندگی کے پہلے ابواب لکھتے رہے۔ آج بھی زمین پر جو آکسیجن ہم سانس لیتے ہیں اس کا بڑا حصہ سمندروں کی انتہائی ننھی مخلوقات ” فائٹوپلانکٹن ” تیار کرتی ہیں۔ سمندر گرمی کو جذب کر کے زمین کو جلنے سے بچاتے ہیں، کاربن کو پینے کے پیالوں کی طرح سمیٹ کر زہریلی فضا کو معتدل رکھتے ہیں، بادلوں کا جنم انہی سے ہوتا ہے اور بارش انہی کی عطا ہے۔
پھر خشکی ہے پہاڑ، میدان، وادیاں، جنگلات جہاں زندگی اپنے مختلف روپوں کے ساتھ پھیلتی ہے۔ یہاں مٹی میں ایسے عناصر رکھے گئے ہیں جو بیج کو غذا دیتے ہیں۔ بارشیں آتی ہیں، پانی زمین کے اندر جذب ہوتا ہے، بیج جاگتا ہے، پودا بنتا ہے، پھل بنتا ہے، جاندار زندہ رہتے ہیں۔ زندگی کا یہ پورا چکر نہایت باریک توازن پر کھڑا ہے۔
اس کے بعد فضا ہے زمین کے گرد لپٹا ہوا ایک حفاظتی لباس۔ اس میں نائٹروجن ہے جو ماحول کو سنبھالتی ہے، آکسیجن ہے جو ہمیں زندہ رکھتی ہے، کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو پودوں کے لیے غذا ہے۔ یہی فضا سورج کی مہلک شعاعوں کو روک کر ہمیں جلنے سے بچاتی ہے، یہی بادل بناتی ہے، یہی بارش برساتی ہے، یہی حرارت کو اعتدال بخشتی ہے۔ اس ساری ترتیب کو ایک اور قوت باندھے رکھتی ہے وہ ہے کششِ ثقل جسے نیوٹن نے ایک گرنے والے سیب سے سمجھا۔ یہی قوت ہمیں زمین سے جوڑے رکھتی ہے، سمندروں کو حدود میں رکھتی ہے، فضا کو زمین کے گرد لپیٹے رکھتی ہے۔ اگر یہ کشش تھوڑی کم یا زیادہ ہوتی تو نہ ہم ٹھہر سکتے، نہ سمندر ٹھہر سکتے، نہ فضا ٹھہر سکتی۔
دن، رات، موسم، فاصلے، زاویے، سمندر، خشکی، فضا، کشش زندگی کی ہر سانس کسی نہ کسی ترتیب کی گواہی دیتی ہے۔ یہ سب ایسے مل کر چل رہا ہے کہ لگتا ہے جیسے کسی نے ہر پرزہ اپنے مقام پر رکھ کر پوری مشینری کو حرکت دے دی ہو۔
آپ حیران ہوں گے کہ ایک مکتبۂ فکر آج بھی یہ کہتا ہے کہ بس ایک توانائی کا گولا پھٹا، ذرات پھیل گئے، کہکشائیں بن گئیں، ستارے بنے، ایک سیارہ زمین بن گیا، وہ خودبخود مناسب فاصلے پر ٹھہرا، خودبخود گھومنے لگا، خودبخود زاویہ بنا کر چلنے لگا، خودبخود پانی اور خشکی ترتیب ہوئی، خودبخود فضا بنی، خودبخود توازن قائم ہوا، اور یوں زندگی بن گئی سب کچھ یونہی بس ہوتا چلا گیا۔۔۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ماننے والے وہ لوگ ہیں جو دنیا کے سب سے ذہین کہلاتے ہیں یعنی سائنس دان، فلسفی، دانشور۔
جبکہ ہم جیسے “کم عقل” تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ
کل اگر کسی پتھر سے ٹھوکر کھائی تھی وہ آج بھی وہیں پڑا ہو گا جب تک کوئی تیسرا اسے ہمارے راستے سے چن نہ لے۔ اور جس دن ان فلسفیوں اور سائنس دانوں کے دل پر وہ تیسری قوت منکشف ہو گئی تو وہ






