#کالم

انسان دوستی نے دل جیت لیے ۔۔۔

Untitled 5 1

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان 

پنجاب میں ٹریفک کے نئے قوانین کا نفاذ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ سماجی نظم وضبط کی طرف ایک سنگ میل بھی ہے ۔برسوں سے ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گھومنے ،سگنل توڑنے اور غلط اورٹیکنگ جیسے معمولات نے سڑکوں پپر معاشرے کو اضطراب کا شکار کئے رکھا ۔ایسے میں حکومت کی جانب سے سخت قوانین ،بھاری جرمانوں اور ایف آئی آر جیسی سزا وں   نے شہریوں کو بظاہر چونکا  تو دیا لیکن اس  جھٹکے کے پیچھےچھپی ایک بڑی بھلائی زندگیاں بچانا ہی تھی ۔دوسری جانب یہ سخت قوانین ایک نئے خوف اور پریشانی کا باعث بھی بنے ۔بچوں اور غریب مزدروں کا ایک شور سا ضرور اٹھا کیونکہ کمزور طبقہ ،کم آمدنی والے افراد ،مزدور ،رکشہ ڈرائیور اور دیہاڑی دار عوام سب پریشان تھے کہ اگر قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو بھاری جرمانے کیسے ادا کریں گے ؟ ایف آئی آر کی صورت میں کیس لڑنے کے اخراجات کہاں سے آئیں گے ؟ یہ وہ لمحہ تھا جب سماج نے قانون کے ساتھ کھڑے ہونے کا ایک غیر معمولی منظر دیکھا اور پنجاب کے وکلاء نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے نہ صرف لوگوں کے دل جیت لیے بلکہ معاشرتی برداشت اور انسانی ہمدردی کی مثال قائم کردی ۔کئی بار عدالتوں کے باہر دروازوں پر خوفزدہ شہریوں کو یہ سن کر حیرت اور خوشی ہوئی کہ "آپ کا ٹریفک کیس ہم مفت لڑیں گے ” جی ہاں یہ صرف قانون کی بہتری اورعوامی شعور کی بیداری کے لیے تھا ۔یہ پیشکش سوشل میڈیا پر بیشتر وکلاء کی جانب سےبھی  سامنے آئی۔یہ پیشکش معمولی نہیں تھی ۔یہ اس معاشرے میں جہاں ہر کام فیس ،سفارش اور طاقت سے جڑا دکھائی دیتا ہے ،وہاں کسی پیشہ ور طبقے کا یوں آگے بڑھ کر مدد کی پیشکش کرنا واقعی تازگی کا ایک نیا جھونکا ثابت ہوا ۔پنجاب کے وکلاء نے یہ ثبوت دیا کہ قانون صرف ڈرانے کا نہیں بلکہ سہارا دینے کا نام بھی ہے ۔بے شک پنجاب کے وکلاء کا یہ جذبہ قابل ستائش ہے ۔جو ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا ۔ان پرخلوص وکلاء کے لیے بےشمار دلوں سے نکلنے والی دعائیں یقینا” ان کے لیے مزید عزت واحترام کاباعث بنیں گیں ۔پنجاب کے وکلاء بےشک لوگوں کے دل جیت لیے ہیں ۔ان نوجوانوں کے لیے دن رات عدالتوں میں کھڑے وکلا ء نے جو ہمدردی اور خدمت کی مثال پیش کی ہے وہ لوگوں کو ہمیشہ یاد رہے گی ۔

کہتے ہیں کہ ریاست  ایک محبت کرنے والی ما ں جیسی ہوتی ہے  جو بچوں پر سختی بھی ان کی اصلاح کے لیے کرتی ہے ۔کوئی ماں یہ نہیں چاہتی کہ اس کا بچہ آگ میں ہاتھ ڈال کر خود کو جلا لے ۔ریاست کی محبت کا تقاضا ہے کہ وہ سخت قوانین کے ذریعے زندگیوں کی حفاظت کرۓ اور کسی کو بھی انسانی جان سے کھیلنے کی اجازت نہ دۓ ۔کیونکہ سب کو جینے کا حق یکساں ہوتا ہے ۔لیکن اس سختی کے دوران یہ خیال رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان اقدامات کے منفی اثرات تو سامنے نہیں آرہے ہیں ۔کہیں ان اقدامات سے کسی غریب کا بچہ اسکول جانے سے محروم تو نہیں ہو رہا ہے ؟ کہیں کسی  مزدور کی روزی  روٹی تو متاثر نہیں ہو رہی ۔یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ حکومت کو سخت قوانین کے نفاذ سے قبل بھرپور آگاہی مہم چلانی چاہیے تھی ۔تاکہ عوام کو بتایا جاتا کہ یہ نئے قوانین کیوں ضروری ہیں ؟ کون سے جرمانے اور سزائیں بڑھ رہی ہیں ؟ کس غلطی پر کیا کاروائی ہوگی ؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ قوانین کس طرح عام شہریوں جان بچانے کا باعث بنیں گے ؟اگر یہ شعور پہلے ہی بیدار کردیاجاتا تو یہ قوانین خوف اور پریشانی کا باعث بننے کی بجاۓ امید کا پیغام بن جاتے ۔اس کریک ڈاون سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر ریاست اور ادارے چاہیں تو ہر قانون پر  فوری عملداری  ممکن ہو سکتی ہے ۔ہمارےمعاشرۓ  میں ٹریفک کے ساتھ ساتھ  اور   بہت سے معاملات ایسی ہی توجہ کے متقاضی ہیں ۔

قانون اور انسان کا توازن قائم کرنے میں وکلا ء نے فراخ دلی اور ہمدردی کے جذبے سے بہت اہم کردار ادا کیا اور نئے قوانین اور وکلاء کی بے لوث مدد نے مل کر ایک خوبصورت توازن پیدا کیا ہے ۔ گرفتار موٹر سایکل سواروں کو چھڑانے اور ان کی گاڑیاں قانونی طریقے سے سپرداری پر دلانے کے مرحلے پر وکلا نے اس مشکل وقت میں شہریوں کو اعتماد اور سہارا دے کر نا صرف ان کی مدد کی بلکہ قانون کی عملداری بھی ممکن بنائی ۔جس کی باعث عوام قانون کی پابندی اور ذمہ داری کے نئے سفر پر گامزن دکھائی دئیے ۔یقینا” یہ توازن ہی کسی بھی مہذب معاشرۓ کی بنیاد رکھتا ہے ۔جہاں قانون سخت ہو مگر دل نرم ،فیصلے مضبوط ہوں مگر سماج باہمی تعاون سے چلتا ہو ۔اگر پنجاب کے نئے ٹریفک قوانین  حادثات میں کمی لاتے ہیں ،زندگیاں محفوظ کرتے ہیں اور ڈرائیونگ کلچر میں بہتری لاتے ہیں تو یہ تبدیلی یقینا” مثبت ہے مگر اس تبدیلی کو عوام کی حمایت ،آگاہی اور سماجی تعاون کے بغیر دوام نہیں مل سکتا ۔ہمارے وکلاء کی فراخ دلی نے اس سفر میں امید کی وہ شمع روشن کی ہے جو قانون کو انسانیت سے جوڑتی ہے ۔اگر انشااللہ حکومت ،عوام اور وکلاء اسی جذبے سے ساتھ چلتے رہے تو پنجاب کی سڑکیں صرف ٹریفک سے نہیں بلکہ ذمہ داری ،شعور اور تہذیب سے بھی روشن ہو ں گی ۔دیکھنا یہ ہے کہ اس کریک ڈاون کے بعد بھی ٹریفک کے معاملات میں یہ بہتری برقرار رہ پاۓ گی ؟ ان قوانین  میں چند تبدیلیوں کی درخواست کی جارہی ہے جن میں اسکول وکالج کے بچوں کو لائسنس دینا اور انہیں گرفتار نہ کرنا شامل ہے ۔دوسری جانب رکشہ اور لوڈر رکشہ کے مالکان کو متبادل روزگار فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی غور کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے ۔پبلک ٹرانسپورٹ کی جلد ازجلد فراہمی بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔ایسے قانونی ،معاشرتی اور اخلاقی قوانین عوامی تعاون سے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں ۔مختصر بات یہ ہے کہ قانون جتنا بھی سخت ہو مگر اقدامات ایسے ہونے چاہیں کہ جس سے خوف سے زیادہ ریاست کے احترام کا جذبہ پیدا ہو سکے ۔آج لائسنس بنوانے والوں کی لمبی لمبی قطاریں اس بات کی متقاضی ہیں کہ انہیں اس کام کو مکمل کرنے کے لیے مناسب  وقت دیا جاۓ ۔قانون معاشرۓ کی اصلاح کا ذریعہ ہوتا ہے اور اصلاح اور بہتری ہمیشہ باہمی تعاون کے جذبہ سے پیدا ہوتی ہے ۔عوام سے درخواست ہے کہ ٹریفک قوانین آپکی سلامتی اور تحفظ کی ضمانت ہوتے ہیں  اس لیے ان کا احترام دل وجان سے کریں ۔ حکومت سے بھی استدعا ہے کہ پہلی بار  وارننگ کے ساتھ جرمانے کی رقوم عام شہری کی تنخواہ ،خصوصا” کم آمدنی والے طبقے کی آمدنی اور مہنگائی کو مدنظر رکھ  کر مقرر کی جائیں ۔اگر وہ  بار بار اعادہ کرۓ تو بڑھا دیا جاۓ ۔کیونکہ چالان کا مطلب اور مقصد شہریوں کو قانون کا پابند بنانا ہوتا ہے ۔لوگوں کے دلوں سے یہ خوف نکالنا ہوگا کہ کچھ بھی کر لو "چلان تو ہر صورت ہوناہی ہونا ہے "ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اورعوام کے درمیان فاصلے کم کرنا ہوں گے اور باہمی محبت بڑھانا ہوگی ۔

انسان دوستی نے دل جیت لیے ۔۔۔

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے