سفید لباس، روشن چراغ اور ایک عہد کی تعمیر، شہید حکیم محمد سعید ؒ
مرزا رضوان
سترہ اکتوبر کا سورج جب بھی طلوع ہوتا ہے، فضا میں ایک گہری خاموشی، عقیدت اور درد کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ آج استادِ شہید حکیم محمد سعید کی شہادت کو اٹھائیس برس بیت چکے ہیں، مگر ان کا چھوڑا ہوا نقشِ قدم وقت کی گرد تلے دھندلانے کے بجائے اور زیادہ تابناک ہوتا جا رہا ہے۔ حکیم محمد سعید کی ذات کسی ایک فرد کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ ایک ہمہ گیر تحریک، عزم و عمل کی ایک لازوال داستان اور ایک پورے عہد کی تعمیر کا استعارہ تھے۔ انہوں نے علم و ادب، صحت و تعلیم، تہذیب و تمدن اور اخلاقیات کے تمام دھاگوں کو ایک ایسے مربوط بیانیے میں پرویا کہ تاریخ انہیں ہمیشہ "مصلحِ قوم”، "معلمِ قوم”، "رول ماڈل” اور "مجددِ طب” کے طور پر یاد رکھے گی۔ان کی شخصیت کا ایک ایسا دلکش اور ناقابلِ فراموش پہلو ان کا سراپا سفید لباس تھا، جو محض لباس نہیں بلکہ مشرقی وقار، دینی وابستگی اور داخلی نظم و ضبط کا بلند ترین مینار تھا۔ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں، موسم کوئی بھی ہو، موقع کیسی بھی نوعیت کا ہو، انہوں نے کبھی دوسرا رنگ اختیار نہیں کیا۔ ان کا یہ استقامت بھرا معمول اس عشق کا مظہر تھا جو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہِ حسنہ سے ملتی تھی، جنہیں سفید لباس بے حد مرغوب تھا۔وہ اکثر فرماتے تھے کہ سفید لباس انہیں اس لیے بھی پسند ہے کہ اس سے روزانہ لباس کے انتخاب میں قیمتی وقت ضائع نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ جملہ انتہائی سادہ محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں وقت کی قدروقیمت اور مقصدیت کا ایک گہرا فلسفہ چھپا ہے۔ ان کا ایک ایک لمحہ قوم کی تعمیر، تدبیر اور تخلیق کے نام وقف تھا۔ ان کا سفید لباس محض ظاہری انفرادیت نہیں تھا، بلکہ یہ ان کے باطن کی صفائی، کردار کی شفافیت، اور ایک بے داغ فکری و اخلاقی روپ کا عملی اظہار تھا۔اگر ہم برصغیر میں طبِ مشرقی کی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو حکیم محمد سعید کا نام اس کی حیاتِ نو اور احیا کا دوسرا نام نظر آتا ہے۔ ایک دور تھا جب طب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور اسے ایک متروک علم سمجھا جانے لگا تھا، مگر انہوں نے اس فرسودہ ذہنیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ انہوں نے تمام اطبا کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کیا، علم و سائنس کے جدید اصولوں سے آراستہ کیا، اور طب کا مقدمہ دنیا کے ایوانوں تک پہنچایا۔عالمی ادارہ صحت (WHO) سے طبِ یونانی کو تسلیم کروانا اور 1965ء کے طبی ایکٹ کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کرنا ان کے عزمِ محکم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے روایتی دواسازی کو جدید عالمی معیارات کے مطابق ایک باقاعدہ صنعت کی شکل دی، جس کے نتیجے میں آج پانچ سو سے زائد ادارے اور صنعتیں وجود میں آ چکی ہیں جن سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار اور روزمرہ کی روزی وابستہ ہے۔”اخبار± الطّب” کا اجرا ہو یا نصف صدی کا طویل سفر طے کرنے والا دنیا کا پہلا طبی ریسرچ جرنل "ہمدرد میڈیکس”, ہمدرد طبیہ کالج کا قیام ہو یا معیاری ڈگری کالج میں اس کی اپ گریڈیشن—انہوں نے طب کو محض علاج کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم سائنسی اور تہذیبی ورثہ بنا دیا۔ مطب ہائے ہمدرد کا سلسلہ ہو یا دور دراز کے پسماندہ علاقوں میں مسیحائی بانٹتی "ہمدرد فری موبائل ڈسپنسریز”، ہر قدم پر انسانیت کی بلا تفریق خدمت ان کا نصب العین رہی۔حکیم محمد سعید کا وڑن صرف ادویات اور دواخانوں تک محدود نہیں تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کسی قوم کی حقیقی بقا اس کی تعلیم اور تربیت میں پنہاں ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے مدینہ الحکمہ جیسے عظیم الشان علمی شہر کی بنیاد رکھی، جو آج بھی تعلیم و تحقیق کا ایک عالمگیر مرکز ہے۔ بالخصوص بچوں اور نوجوان نسل کے لیے ان کا جذبہ بے مثال تھا۔ انہوں نے "نخلستانِ ہمدرد” اور "ہمدرد نونہال”کے ذریعے لاکھوں بچوں کی اخلاقی و فکری آبیاری کی۔شامِ ہمدرد اور ہمدرد نونہال اسمبلی جیسے پلیٹ فارمز قائم کر کے انہوں نے بچوں کے اندر خود اعتمادی، گفتگو کی صلاحیت اور حبِ وطنی کی روح پھونکی۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر آج کے بچے کی درست سمت میں تربیت کر دی جائے تو کل کا پاکستان خود بخود روشن اور مستحکم ہو جائے گا۔ان کی خدمات کا دائرہ کار انتہائی وسیع تھا۔ انہوں نے صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ہمہ گیر تحریکیں چلائیں۔ البیرونی اور ابن الہیثم جیسے عظیم مسلمان سائنسدانوں کے ہزار سالہ جشن کے انعقاد کے ذریعے انہوں نے قوم کو اسلاف کے شاندار علمی ورثے سے دوبارہ روشناس کرایا۔ ان کی چلائی گئی تحریکیں جیسے کہ "تحریکِ صحتِ ملی”، "سپاہِ صحت”، اور "تعلیمِ صحتِ ملی” اس بات کی بین گواہی دیتی ہیں کہ وہ قوم کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کی روح، فکر اور کردار کو بھی سنوارنا چاہتے تھے۔ مجلہ "ہمدرد صحت” اور ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔آج جب ہم شہید حکیم محمد سعید کی اٹھائیسویں برسی منا رہے ہیں، تو یہ لمحہ صرف خراجِ تحسین پیش کرنے کا نہیں بلکہ فکری تجدید اور خود احتسابی کا ہے۔ وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں ہیں، مگر ان کے قائم کردہ ادارے، ان کی فکر، ان کی تصانیف اور ان کا سفید لباس آج بھی ہمیں یہ سبق دے رہا ہے کہ اگر عزم سچا ہو اور نیت خلوص سے پ±ر ہو، تو ایک فردِ واحد بھی پوری تاریخ کا دھارا موڑ سکتا ہے۔ حکیم محمد سعید ایک ایسا روشن چراغ تھے جس نے جہالت اور بیماری کے اندھیروں کا سینہ چیر کر روشنی بانٹی، اور ان کی یہ روشنی ہمیشہ اس قوم کا راستہ منور کرتی رہے گی۔






