#بغیر زُمرہ

سینما بینی

تسنیم کوثر

آج کا دور ٹیکنالوجی کا جدید دور ہے جس نے ہر طرف اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہیں اور تو اور ملٹی پلیکس کے اس دور میں سینما کی ٹیکنالوجی نے بھی بہت ترقی کر لی ہے اور وہ ڈیجیٹل سے تھری ڈی اور فور ڈی کے دور میں داخل ہو چکا ہے مگر جانے کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سینما کی وہ پہلی سی دلکشی اب باقی نہیں رہی اور شائقین اس سے بہت دور ہو گئے ہیں یا پھر زمانے کی تیز رفتاری نے ان کا دھیان سینمابینی سے بھٹکا دیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف موڑ دیا ہے جبکہ آج سے چالیس پچاس برس قبل سینما تفریح طبع اور خاطر داری کے لئے لازم و ملزوم تھے۔ہمارے ہاں تو مہمان داری اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی تھی جب تک مہمانوں کو اہل خانہ سینما میں لے جا کر فلم نہ دکھائیں۔ تب لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ فلمیں دیکھنا پسند کرتے تھے کہ فلمیں معاشرتی موضوعات پر بنائی جاتی تھیں۔ فلم بنانے والے بھی اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ فلم کے شائقین اپنے اہل خانہ کے ساتھ فلم دیکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ یا شرم محسوس نہ کریں ۔مزدور طبقہ محنت مزدوری کے تلخ اوقات میں رنگ بھرنے کو سینما کا رخ کیاکرتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب لوگوں کے پاس تفریح کے لیے ریڈیو اور سینما کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ہمارے ہاں زیادہ تر اردو اور پنجابی میں فلمیں بنتی تھیں۔ اردو فلموں میں تہذیب اور پنجابی فلموں میں پنجاب کے دیہاتی ماحول کو پیش کیا جاتا تھا۔ بہت سی پنجابی فلموں میں گا¶ں کے ساتھ ساتھ شہری زندگی کی بھی بھرپور عکاسی کی جاتی تھی۔ فلموں کے موضوعات سماجی، رومانوی اور گھریلو رسم و رواج پر مبنی ہوتے تھے۔ ان فلموں سے تفریح کے ساتھ ساتھ فلم بینوں کو مسائل اور شعور سے آگہی بھی ملتی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ ہر طبقہ فکر کے لوگ ذوق و شوق سے فلمیں دیکھا کرتے تھے ۔ہمارا بچپن اور سکول کالج کا دور فلمیں دیکھتے ہوئے گزرا ۔۰۷ اور ۰۸کی دہائی میں ہمارے ہاں سینمابینی عروج پر تھی ۔یہ فلموں کی کامیابی کا دور تھا ۔تب ہماری فلمیں سلورجوبلی ،گولڈن جوبلی، پلاٹینم اور ڈائمنڈ جوبلی منایا کرتی تھیں۔ تب ہر نئی فلم کے آتے ہی تانگوں پر اس فلم کے پوسٹر لگا کر گلی کوچوں میں گھوڑے دوڑائے جاتے اور لا¶ڈ اسپیکر پر فلم کی پبلسٹی کی جاتی تھی کیونکہ سوشل میڈیا تب تک وجود میں نہیں آیا تھا لہذاتانگہ کلچر سے ہی سوشل میڈیا کا کام لیا جاتا تھا۔ اس پرسکون سے دور میں ہم بھی اپنے گھر والوں کے ہمراہ سینما ہال پہنچ جایا کرتے تھے ۔کبھی سالم تانگہ میں ہمجولیوں کے ساتھ تشو بھائی کی سرپرستی میں اوکاڑہ کے وینس سینما،ناز سینما جا دھمکتے تھے۔ ایک دو بار تو ایسا بھی ہوا کہ ہم چند لمحے تاخیر سے پہنچے تو فلم شروع ہو چکی تھی سو فلم تو دیکھنی پڑی مگر جو نہ دیکھ سکے، دل کو ان گزر جانے والے مناظر کی دھک دکھی لگی رہی اور جب تک اس فلم کو دوبارہ شروع سے نہیں دیکھا ،من کو شانتی نہیں ملی۔ وی سی آر تک رسائی تو بہت بعد میں ہوئی جس کی آمد نے گھر گھر فلموں کا جال بچھا کرگھروں کو سینما گھروں میں بدل دیا تھا مگر سینما کا زور ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ رفتہ رفتہ سینما پہ زوال آناشروع ہو گیا۔ ہمارے بچپن کے سینما بھی اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اوکاڑہ کے سینما گھروں میں ہم نے انگنت اردو اور پنجابی فلمیں دیکھیں جن میں ہیررانجھا،کوئل، سہیلی، دوستی، دلاں دے سودے،مکھڑا،عندلیب، امرا¶ جان ادا تہذیب، زرقا،یہ امن،آئینہ بندش،بہشت،ضدی،انورا،یکے والی،دل لگی،ارمان،چن مکھناں،بشیرا،نیند ہماری خواب تمہارے، صائقہ، تلاش، مستانہ ماہی، نوکر ووہٹی دا، طلاق،محبت،شمع،آنسو،میرا نام ہے محبت اور اس جیسی بہت سی فلمیں شامل ہیں ۔ندیم شبنم کی جوڑی ہماری پسندیدہ جوڑی ہوا کرتی تھی۔ ہمیں آج بھی اپنے اس دور کے فلمی ستارے یاد ہیں۔ شمیم آرا،رانی وحیدمراد،نغمہ،حبیب،فردوس،صبیحہ خانم، نیر سلطانہ،زیبا،بابرہ شریف اور غلام محی الدین کی اداکاری اب تک ہمارے دل پر نقش ہے۔ کیا زمانہ تھا جب ہر نئی آنے والی فلم دیکھنے کو ہمارا دل مچل اٹھتا تھا اور ہم اس کی خوبیاں بتا بتا کر امی جان کو قائل کرنے کی کوششیں کرتے تھے۔ ہمارے زمانے میں سینما کا ٹکٹ شاید دو تین روپے ہوا کرتا تھا جسے ہم اپنے ماہانہ جیب خرچ میں سے بچایا اور چھپایا کرتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہمیں کچھ مال غنیمت مل جایا کرتا تھا۔ کئی سخی مہمان جاتے ہوئے ہم بچوں کی جیب گرم کر جاتے تھے کہ تب گھرانوں میں میل جول اور رکھ رکھا¶ کے روایتی طور طریقے پائے جاتے تھے سو ہم اپنے اس خزانے پر سانپ کی طرح پھن مارے بیٹھے رہتے تھے اور آنے والی نئی فلم پر یہ خزانہ لٹا دیا کرتے تھے ۔گو امی جان کو منانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا مگر ہم منت سماجت کر کے انہیں موم کر ہی لیا کرتے تھے۔ شادی کے بعد لاہور ہمارا مسکن بن گیا تو کچھ فلمیں یہاں بھی دیکھیں جن میں مولا جٹ،چوڑیاں،مجاجن وغیرہ شامل ہیں۔ کبھی بچوں کو جراسک پارک دکھانے لے گئے اور منڈا بگڑا جائے بھی دکھا دی مگر سچ پوچھیں تو نئی نسل کو ان میں کوئی رغبت دکھائی نہ دی ۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کو سینیما بینی کا شوق ہی نہیں رہا ۔ان کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ زمانے کی ڈگر بدل گئی ہے ۔ان کے سامنے تفریح کے اور بہت سے میدان ہیں ۔ان کے لیے پرانی فلموں اور سینما گھروں میں کوئی کشش نہیں رہی ۔اس تیز رفتار زندگی میں وہ فلم بینی میں تین گھنٹے ضائع کرنے کو تیار نہیں کہ وہ تو اب بٹن کی ایک جنبش سے گھر بیٹھے جو چاہیں دیکھ لیتے ہیں،ساتھ ساتھ اپنا کام بھی کرتے رہتے ہیں اور اپنی تفریح کا سامان پیدا کر لیتے ہیں ۔ہماری سینما بینی کی پرانی باتیں سن کر وہ حیرت سے ہمیں تکتے ہیں اور کہتے ہیں مسلسل تین گھنٹے ایک ہی جگہ پر بیٹھے ایک فلم کو دیکھنے کا وقت ہمارے پاس تو ہے نہیں، آپ لوگوں کے پاس کتنا فالتو وقت ہوا کرتا تھا۔ اب کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔

سینما بینی

نقل کلچر سے کردار سازی تک

سینما بینی

سینما بینی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے