#کالم

نقل کلچر سے کردار سازی تک

shafqat ullah mustaq

شفقت اللہ مشتاق

ہمارا بچپن تھا تو معاملات کو مجموعی طور پر ایزی لیا جاتا تھا۔ شاید اس وقت ایزی لوڈ نہیں کروایا جاتا تھا۔ خیر، یہ بدعت بہت بعد میں معرضِ وجود میں آئی۔ جب وجود کا معاملہ زیرِ بحث آتا ہے تو پھر بات سمجھ سے بالاتر ہو جاتی ہے اور بعض اوقات خوشی یا، امکان ہے، غم کے باعث بھی آنکھیں تر ہو جاتی ہیں۔ بسا اوقات تو انسان کے معاملات اس قدر بھیانک ہو جاتے ہیں کہ آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ جھکنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ جھکنے کی بھی کچھ وجوہات ہوتی ہیں اور ان وجوہات کی تفصیل بھی خاصی پیچیدہ ہوتی ہے، جبکہ مجھ جیسے لوگ پیچیدگیوں سے ہمیشہ بچ بچا کر اور ”نیوویں نیوویں“ ہو کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ منزل قریب آئے اور بات انجام کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ سب کا انجام اچھا کرے۔بات بچپن سے شروع ہوئی تھی اور کہاں سے کہاں تک جا پہنچی! کیا، کیسے اور کیوں کی بحث میں جانے سے بہتر ہے کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا جائے۔ جب ہمارا بچپن تھا تو اچھی خاصی موجیں تھیں۔ زمانہ? طالب علمی تھا۔ پڑھنے لکھنے کے ساتھ کھیل کود کا بھی ٹھیک ٹھاک کلچر تھا۔ اگر پڑھائی میں کمی بیشی رہ جاتی تھی تو امتحان میں نقل کرنے کا بھی ایک کلچر موجود تھا۔ تاہم، دو باتیں بڑی خوبصورت تھیں۔ ایک یہ کہ نقل کرنے والے کو پیشگی بتا دیا جاتا تھا کہ نقل کرنے کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری یہ کہ استاد کی اتنی قدر کی جاتی تھی کہ وہ خوش ہو جائے۔ اور جب کوئی کسی سے خوش ہو جاتا ہے تو پھر بہت کچھ ہو جاتا ہے۔ان ساری باتوں کے باوجود معاملہ یہ تھا کہ ہمارے ملک میں سارے مسائل کا ایک ہی حل سمجھا جا رہا تھا کہ جہالت ختم ہو اور جیسے تیسے بھی ممکن ہو، بچے پڑھ جائیں۔ لہٰذا تعلیم کے عمل کو مجموعی طور پر سپورٹ کیا جا رہا تھا۔ کمزور بچوں کی حوصلہ افزائی اس حد تک کی جاتی تھی کہ اگر وہ امتحانات کے دوران اِدھر ا±دھر بھی دیکھ لیتے، اپنی کتابیں یا نوٹس ساتھ رکھ لیتے اور حسبِ ضرورت استعمال کر لیتے تو ان ساری حرکات سے درگزر کیا جاتا، تاکہ کسی بچے کا مستقبل خراب نہ ہو اور سب بچے پڑھ لکھ کر تعلیم یافتہ قوموں میں شمار ہو سکیں۔یہ وقت کی ضرورت تھی یا ہم سب سادہ لوح لوگ تھے، اس کا فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ نقل تو بہرحال نقل ہوتی ہے اور معیاری تعلیم کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ اس کے اثرات نسلوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ خیر، بہتری مرحلہ وار اور بتدریج آتی ہے اور ایک دن بہتری آ کر ہی رہتی ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام، درگزر کی پالیسی، نقل کے خوفناک اثرات سے آگاہی اور ان کے تدارک کے لیے پیش بندی، یہ سب اپنی جگہ اہم معاملات ہیں۔ نقل کے اسی ماحول میں ایک دن ہمارے اسکول میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ تعلیمی بورڈ سرگودھا میں ایک نئے سیکرٹری تعینات ہوئے ہیں، جن کا نام ڈاکٹر محفوظ احمد ہے۔ وہ نقل کے سخت خلاف ہیں اور انہوں نے نقل کے کلچر کو چیلنج کر دیا ہے۔ اگلے دن پتا چلا کہ مذکورہ سیکرٹری صاحب صبح ٹھیک آٹھ بجے سرگودھا ڈویژن کی آخری تحصیل، ٹوبہ ٹیک سنگھ، کے ایک آخری سرے پر واقع اسکول پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی کار امتحانی مرکز سے بہت دور کھڑی کی اور پیدل چل کر موقع پر پہنچے۔ وہاں جو جو نقل کر رہا تھا، ان سب کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ان دنوں رنگے ہاتھوں پکڑے جانا بڑا خوفناک سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ اور امتحانی عملے کو بھی فارغ کر دیا۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ بحفاظت واپس لوٹ گئے۔۔۔ڈھول سپاہیا، تینوں رب دیاں رکھاں!۔۔۔میری زندگی میں یہ پہلا شخص تھا جس نے نہ صرف پورے نظام کو چیلنج کیا بلکہ امتحانی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ وقت آگے بڑھا اور کئی سال بعد جب میں ایف ایس سی میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں داخل ہوا تو پتا چلا کہ پروفیسر ڈاکٹر محفوظ احمد وہاں کیمسٹری پڑھا رہے ہیں اور کالج میں ان کا بڑا رعب ہے۔ انہیں دیکھنے کا بڑا اشتیاق تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ کالج کے واحد پروفیسر ہیں جن کی اپنی کار ہے۔ محمد اسلم مڑل ہمارے ہاسٹل فیلو تھے اور بڑے سادہ لوح انسان تھے۔ ایک دن کہنے لگے کہ انہیں ڈاکٹر محفوظ احمد صاحب سے ایک کام ہے، جس کے لیے انہوں نے کسی سے سفارش بھی کروائی ہے۔ ان سے ملاقات کرنا مقصود ہے، اس لیے انہوں نے مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہا۔ہم دونوں ڈاکٹر صاحب سے ملنے گئے اور اسلم مڑل صاحب نے اپنی عرضی پیش کی۔ اس کے بعد توقف ہوا، لمحاتی خاموشی چھائی اور پھر پروفیسر صاحب نے دھیمے لہجے میں گفتگو شروع کی۔ لہجے میں متانت اور وقار تھا، جبکہ بات بھی خاصی پراثر تھی۔ فرمانے لگے:”ہوتا یہ ہے کہ ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ جو بس جانے کے لیے تیار ہو، اسی پر سوار ہو جائے۔ لیکن بعض اوقات رش کی وجہ سے وہ سوار نہیں ہو پاتا۔ ایسی صورتِ حال میں بس چھوٹ جاتی ہے اور بس سے رہ جانے والے کو بڑا افسوس ہوتا ہے۔ تاہم، جب وہ اگلی بس پر سوار ہو کر آگے جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس سے پہلے جانے والی بس راستے میں حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ تب اسے بس چھوٹ جانے کی اصل حکمت سمجھ آتی ہے۔“اس کے بعد پروفیسر صاحب نے ہمارے ساتھی مڑل صاحب سے کہا کہ میرا خیال ہے، آپ بات سمجھ گئے ہوں گے۔ پھر وہ اپنے کام میں مصروف ہو گئے۔ اس کے بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اصل بات پوری طرح سمجھائی۔ یوں پروفیسر ڈاکٹر محفوظ احمد نے میرے سامنے سفارش کے کلچر کو ایک خوبصورت انداز میں سپردِ خاک کر دیا۔نقل کے کلچر کے جن کو وہ پہلے ہی بوتل میں بند کر چکے تھے، تاہم اس کلچر کو نہلانے، کفنانے اور دفنانے کا عمل ابھی باقی تھا۔ خشتِ اول ہی اصل کام ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہر شخص نے اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہوتا ہے۔یہ میرے بچپن کی یادیں بھی ہیں اور ایک طرح کا تربیتی پروگرام بھی۔ میں نے جب بھی نقل کرنے کا کبھی پروگرام بنایا، میرے سامنے پروفیسر ڈاکٹر محفوظ احمد صاحب آ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ میں واقعی ڈر جاتا تھا کہ کہیں میرا مستقبل داو¿ پر نہ لگ جائے، جبکہ میں نے تو بڑا آدمی بننا تھا! بڑا آدمی بننے کا خواب بھی کیا خوبصورت خواب ہے، لیکن اس کی تعبیر مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آئی۔ بڑا آدمی ہونے کی باتیں تو بہت سنی ہیں، لیکن اس کی حدود و قیود کیا ہیں، اس کا احاطہ کرنا آسان نہیں۔ ویسے تو ہر وہ شخص بڑا آدمی ہے جس نے اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے لیے کچھ نہ کچھ کیا ہو۔ باقی اللہ کی مخلوق میں تو ہر طرح کی ورائٹی موجود ہے۔انسانوں میں سب سے بلند مقام نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔ آپکی عظمت کو تسلیم کرنے والوں میں اب غیر بھی شامل ہیں۔کاش! ہم سب کو بڑا آدمی بننے کا راز معلوم ہو جائے، لیکن افسوس کہ ہم اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے لیے کم اور اپنے لیے زیادہ کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بڑے ہو کر بھی چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔گزشتہ دنوں پروفیسر ڈاکٹر محفوظ احمد کے وصال کی خبر سنی تو تعزیت کے لیے ان کے فرزندِ ارجمند اشعر محفوظ سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ گفتگو احساس ہوا کہ استاد اگر چاہے تو کتنی ہی خرابیاں کتنی آسانی سے ختم کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ امر ہو جاتا ہے۔استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ کردار بناتا ہے۔ وہ صرف امتحان میں کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا بلکہ زندگی کے امتحان میں سرخرو ہونے کا شعور بھی دیتا ہے۔ ڈاکٹر محفوظ احمد! انا للہ وانا الیہ راجعون

نقل کلچر سے کردار سازی تک

خود کو سنبھالنے کا ہنر

سینما بینی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے