#کالم

خود کو سنبھالنے کا ہنر

Untitled 5

جاویدایازخان

گذشتہ دنوں ایک جنازے میں شرکت کے لیے کہروڑ پکا جانے کا اتفاق ہوا۔اتفاق سے ایم سی بی بنک کے پرانے اسٹاف نے پہچان کر دوسرے?سابقہ اسٹاف اور دوستوں کو بھی اطلاع کردی کہ جاویدصاحب آے ہوے ہیں۔تمام ریٹائرڈ دوستوں سے کئی دھائیوں بعد ملنا اور وہ بھی تب جب ان سب کے چہرے عمر کے ساتھ ساتھ بدل بھی چکے ہوں ایک خوشگوار اور یادگار ملاقات ہوتی ہے۔دوران ملاقات یہ بات سامنے آئی کہ ایم سی بی بنک کے بہت سےپرانے ساتھی اور دوست اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان میں سے بیشتر وہ تھے جو اپنی مصروف ترین ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے لیے کوئی مصروفیت تلاش نہ کرسکے تھے۔ ویسے تو زندگی اور موت خدا کااختیار ہے۔ البتہ وہ لوگ جو خود کو کسی بھی طرح سے مصروف رکھنے میں کامیاب رہے وہ ہشاش بشاش زندگی گزار رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد صرف مالی پریشانی کا دور ہونا ہی مسائل کا حل نہیں ہوتا بلکہ آپ کا مصروف رہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ساری عمر ملازمت میں گزار کر کوئی کاروبار کرنا یا کوئی دوسرا جاب کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔جو سب ریٹائرڈ لوگ نہیں کر پاتے اور اپنی جمع پونجی ہی نہیں ذہنی سکون بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔زندگی کی نصف صدی بینک کی مصروف ترین ملازمت سے ریٹائرہوا تو سوچا بھی نہ تھا کہ ملازمت کے دوران انسان جس وقت کی کمی کے احساس سے پریشان رہتا ہے ،وہی وقت ریٹائرمنٹ کے بعداس کے لیے ایک طویل آزمائش بن جاتا ہے۔کل تک جودن ذمہ داریوں ،مصروفیات اور لوگوں کی آوازوں میں گزرتے تھے وہی دن خاموشی اور فراغت کی نذر ہو جاتے ہیں۔دراصل اذیت ملازمت کا ختم ہونا نہیں بلکہ اس احساس کا جنم لینا ہوتا ہےکہ اب شاید کسی کو ہماری ضرورت نہیں رہی یا ہم اب دنیا کے لیے فائدہ مند نہیں رہے ؟ ہمارے اکثر دوست ریٹائرمنٹ کے بعد ذہنی وجسمانی بیماریوں کا شکار ہو کر پریشانیوں سے فرار کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں اور جلد زندگی کی بازی ہاردیتے ہیں۔زندگی کی سب سے بڑی آزمائش شاید صرف مصروف رہنا ہی نہیں، بلکہ اپنے ذہن کو ان خیالوں سے آزاد رکھنا ہے جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات تنہائی کی خاموشی میں ماضی کے پچھتاوے، ادھورے خواب، بچھڑے ہوئے لوگ اور مستقبل کے اندیشے اس قدر شور مچاتے ہیں کہ انسان اپنے ہی وجود سے الجھنے لگتا ہے۔ ایسے میں کسی بامقصد کام میں خود کو مصروف کر لینا محض وقت گزاری نہیں، بلکہ اپنے بکھرتے ہوئے وجود کو سمیٹنے کی ایک خوب صورت کوشش ہوتی ہے۔یہی وہ وقت ہوتا ے جب یہ احساس ہوتا ہے کہ مصروفیت کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔یاد رکھیں ! انسان ملازمت سے ریٹائر ہو سکتا ہے مگر اپنی صلاحیتوں ،خوابوں اور زندگی سے سے دور نہیں ہوتا۔ آپ ملازمت سے الگ ہوے ہیں مگر زندگی سے تو جڑے ہیں۔آپ کے عہدے کی مدت ختم ہوئی ہے آپ کی افادیت ہرگز کم نہیں ہوئی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ فراغت کو بے مقصد تنہائی نہیں بلکہ کسی نئے سفر کا آغازبنایا جاے ۔کیونکہ خالی ذہن اور فراغت ذہنی پریشانیوں کا مسکن بن سکتا ہے۔مثبت اور تعمیری مصروفیت زندگی کو خوبصورتی سے جینے کا نیا ہنر سکھاتی ہے۔مجھے اپنے لیے جو کام اپنی فراغت سے نبردآزما ہونے کے لیے پسند آیا وہ کتاب پڑھنے اورلکھنے کا شوق تھا جو بینک ملازمت کے دوران ممکن نہ ہو سکا تھا۔زندگی کے پچاس سال بعد پھر سے اس شوق کو زندہ کرنا مشکل ضرور تھا مگر ناممکن ہرگز نہ تھا۔بینک ملازمت کے دوران ہندسوں اور حساب کتاب سے ادب اور نثر نگاری تک کا یہ کٹھن مگر دلچسپ سفر مشکل ضرور تھا مگر شوق اور وقت کی ضرورت نے آسان بنا دیا اور آج میں ہر روز ایک کالم لکھتا ہوں اور لوگ مجھے بطور معروف اور پرانے بینکارسے زیادہ ایک کالم نگار اور قلمکار کے طور پر پہچانتے ہیں۔شاید میں ایک بار پھر یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرے پاس زندگی کے لمحات بہت کم اور میرے کرنے کا کام ابھی بہت باقی ہے۔ میرے استاد ماسٹر شاہ محمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ انسانی مصروفیت اسی فیصد انسانی دکھوں اور تکلیفوں کو کم کردیتی ہے۔جب بھی سوچیں گھیر نے لگیں ذہن منتشر ہونے لگے اور بکھرنے لگو تو خود کو مصروف کر لیا کرو کیونکہ یہی خود کو سنبھالنے کا ہنر ہے۔دن بھر اتنی محنت کرو کہ رات کو سوچنے کی بجاے نیند آنے لگے۔کہتے ہیں کہ سوچنے سے نیند نہیں آتی مگر تھکے ہوے ذہن اور جسم کو سوچیں نہیں نیند ہی آتی ہے۔ کسی بھی کام میں مصروفیت ا?پکی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتی ہے۔ایک اورسیز پاکستانی نے مجھے بتایا تھاکہ دیار غیر میں جب بھی گھریلو پریشانیاں ا?تی ہیں میں اپنی مصروفیت یعنی اور ٹائم بڑھا دیتا ہوں جو میری پریشانیوں میں کمی ہی نہیں کرتا بلکہ میری آمدن میں بھی اضافہ کردیتا ہے اور پیسہ ہی بہت سی پریشانیوں کا حل بن جاتا ہے۔مصروفیت کے لیے اپنی ان صلاحیتوں کو سامنے لائیں جو آپکی ملازمت کے دوران بےپناہ کام کی وجہ سے اب تک سامنے نہیں آسکی تھیں۔آپ کا وہ شوق جو پیسہ کمانے کے جنون میں پورا نہ ہوسکا یا ا?پکی وہ خواہش جس کے لیے وقت نہ مل سکا ہو ؟زندگی کی اصل خوبصورتی یہ ہےکہ انسان اپنے ہاتھوں اور ذہن کو کسی تعمیری کام میں مصروف اوراپنی سوچوں کو مثبت اور دل کو محبت واطمینان سے سرشار رکھے۔میرے ایک دوست اور ایک سینئر افسر بنک سے ریٹائرمنٹ کے بعد معذور بچوں کو تصویر بنانے کا آرٹ سکھا تے ہیں۔لیکن یاد رہے کہ ہر مصروفیت سکون کا باعث نہیں ہوتی۔ بعض لوگ دوسروں سے نہیں، خود سے فرار کے لیے مصروف رہتے ہیں۔ وہ اپنے دکھ چھپانے کے لیے کاموں کا انبار لگا لیتے ہیں، مگر دل کے اندر جمع ہونے والی اداسی کو نظرانداز کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مصروفیت محض فرار نہ ہو، بلکہ زندگی کو بہتر بنانے کا وسیلہ بنے۔ اور اگر ذہنی اذیت مسلسل بڑھ رہی ہو تو اسے محض مصروفیت کے پردے میں چھپانے کے بجائے مدد حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ زندگی کی خوب صورتی اسی میں ہے کہ ہم اپنے وقت کو کسی مقصد سے جوڑیں، اپنی صلاحیتوں کو کسی تعمیری کام میں صرف کریں اور اپنے وجود کو بے مقصد سوچوں کی نذر نہ ہونے دیں۔ کتاب پڑھنا، لکھنا، کسی کی مدد کرنا، اپنے خوابوں کے لیے محنت کرنا یا اپنے پیاروں کے ساتھ چند پ±رسکون لمحے گزارنا—یہ سب ایسی مصروفیات ہیں جو زندگی میں معنویت پیدا کرتی ہیں اور مقصد ہماری زندگی بڑھاتے ہیں۔ زندگی بہت مختصر ہے، اسے پچھتاووں کی قبرستان میں بیٹھ کر گزار دینا دانش مندی نہیں۔ جو گزر گیا، وہ ہماری یادوں کا حصہ ہے؛ جو آنے والا ہے، وہ ابھی ہماری دسترس میں نہیں۔ ہمارے پاس صرف آج ہے، یہی لمحہ، یہی سانس اور یہی وقت، جسے ہم چاہیں تو اپنی بربادی کا سبب بنا لیں اور چاہیں تو اپنی تعمیر کا آغاز۔ اس لیے مصروف رہو، مگر محض دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں؛ اپنے اندر زندگی جگانے کے لیے۔ اپنے ہاتھوں کو اتنا بامقصد رکھو کہ وہ تعمیر میں لگے رہیں، اپنے ذہن کو اتنا روشن رکھو کہ مایوسی کے اندھیرے چھٹنے لگیں، اور اپنے دل کو اتنا زندہ رکھو کہ دکھ کے موسم میں بھی امید کے پھول کھلتے رہیں۔ کیونکہ کبھی کبھی زندگی بدلنے کے لیے حالات بدلنا ضروری نہیں ہوتا، صرف اپنی مصروفیات کا ر±خ بدلنا کافی ہوتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ مصروفیت ذہنی سکون کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔مصرف رہو مگر بامقصد اور تعمیری سوچ کے ساتھ اچھے اچھے کاموں کے لیے ! ہر لمحہ ہر گھڑی ! یہ زندگی ہے۔ مصروف رہو! کیونکہ زندگی کسی ایک دکھ، کسی ایک ناکامی یا کسی ایک محرومی کے گرد گھومنے کا نام نہیں۔ اپنے ہاتھوں کو کام، ذہن کو مثبت سوچ، آنکھوں کو خواب اور دل کو امید سے وابستہ رکھو۔ جب انسان کسی تعمیری مقصد کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اس کی توجہ ان الجھنوں سے ہٹنے لگتی ہے جو اس کے سکون کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہوتی ہیں۔ بامقصد مصروفیت انسان کو نہ صرف وقت کی قدر سکھاتی ہے بلکہ اسے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔یہی شاید ملازمت کی بےپناہ مصروفیت کے بعد خود کو سنبھالنے کا بہترین ہنر ہے۔

خود کو سنبھالنے کا ہنر

17/10/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

خود کو سنبھالنے کا ہنر

نقل کلچر سے کردار سازی تک

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے