#بغیر زُمرہ

پورا خوف،آ دھا اختلاف

Untitled 14

ناصر نقوی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا پاکستان کی سیاسی اور پارلیمانی تاریخ میں ایسے حادثات پہلے بھی رونما ہوئے لیکن اس مرتبہ دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی اتحادی حکومت اور ایک?? فین کلب،، کے عاشقوں کا مقابہ تھا عشق ہمیشہ منہ زور ہوتا ہے کیونکہ ہر عاشق دنیاوی اور سیاسی روایات کا کبھی بھی پابند نہیں ہوتا،نہ ھی اسے مصلحت پسندی آ تی ھے، کچھ عشق ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ کیے جاتے ہیں دعوی ہے کہ بانی سے حالات و واقعات نے قوم کو عشق کرنے پر ایسا مجبور کیا کہ اندھا عشق اب کسی دوسرے کو دیکھنے کا بھی روادار نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی پارلیمانی تاریخ میں دو وزیراعظم قتل ہوئے، دو وزرائے اعظم بار بار نکالے گئے پھر بھی میاں محمد نواز شریف ایک منفرد ریکارڈ ہولڈر سابق وزیراعظم ہیں جو سب سے زیادہ تین مرتبہ وزیراعظم بنے اور نکالے گئے جبکہ بانی تحریک انصاف سابق وزیراعظم عمران خان بھی ریکارڈ ہولڈر ہیں کیونکہ وہ اب تک واحد وزیراعظم ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی، تاہم صدر پاکستان آ صف علی زرداری نے اب تک دو منفرد ریکارڈ بنائے ہیں اول تو وہ واحد صدر ہیں جو اس منصب پر دوسری مرتبہ فائز ہوئے، دوسرا ریکارڈ گورنر راج لگانے کی ??ہیٹ ٹرک،، ہے جوانہوں نے 2009 میں پنجاب، 2013 میں بلوچستان اور 2026 خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر بنایا یعنی صرف سندھ ایسا صوبہ ہے جہاں انہوں نے یہ کام ابھی تک نہیں کیا لیکن ماضی کے جو جھروکوں میں جھا نکیں تو پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی پشاور دھماکے میں حیات محمد شیر پاو¿ کی شہادت کے بعد وزیراعلی عنایت اللہ خان گنڈاپور کی حکومت ختم کر کے صوبہ سرحد میں گورنر راج نافذ کیا گیا تھا اور شاید بلوچستان میں بھی انہی کے دور میں ایک واقعہ اور بھی ہوا تھا پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ لنگڑی لولی جمہوریت میں بھی گورنر راج، ایمرجنسی کو کبھی بھی قابل ستائش نہیں سمجھا گیا اسی لیے دونوں بڑی اتحادی جماعتیں اور عسکری کی قیادت روز اول سے الیکشن 2024 کے بعد دھمکی تو دیتی تھی لیکن اس پر عملی اقدام نہیں کرنا چاہتی تھی علی امین گنڈاپور چونکہ سابق وفاقی وزیر کی حیثیت سے بہت کچھ جانتے تھے اس لیے انہوں نے قیادت کو مطمئن کرنے کے لیے بھڑکیں اور دھمکیاں تو لگائیں لیکن ہر احتجاج اور لانگ مارچ کا انجام ایسا ہوا کہ اپنے پرائے سب حیران رہ گئے، آ خری معرکہ آ رائی علیمہ خان اور بشری بی بی کے ہمراہ 26 نومبر کو کی ،شہد کیس بھی بنا بطور وزیراعلی اپنی فصلوں پر ??جگا ٹیکس،، بھی دہشت گردوں کو دیا بلکہ رات کو آ بائی شہر ڈیرہ اسماعیل خان جانا بھی چھوڑ گئے تھے پھر بھی گورنر فیصل کنڈی کی کسی تجویز پر کان نہیں دھرے اور چیلنج کرتے رہے کہ جس میں ہمت ہے وہ گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر دکھائے یعنی گورنر راج کی تلوار پہلے دن سے لٹک رہی تھی ایسے میں بھی 13 سالہ تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا اور وجہ صرف یہ بنی کہ تحریک انصاف نے سیاست نہیں سیکھی، صرف عشق عمران کا جذباتی نعرہ لگایا مقبولیت کے باوجود مینڈیٹ چوری کا بیانیہ عام کیا، سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں سے زیادہ وکلا برادری پر یقین کیا نئی قیادت منظر عام پر آ ئی تو اس نے نہ تجربہ کاری میں سیاسی مقدمات قانونی اور قانونی معاملات سیاسی انداز میں سلجھانے کی کوشش کی، جو اس نادانی سے مزید الجھ گئے نتائج سب کے سامنے ہیں نیا تجربہ سہیل آ فریدی کا کیا گیا تو ان کے پاس عقل سے زیادہ تجربے کا گھاٹا تھا لہذا وہ گنڈاپور کی طرح وکٹ کے دونوں جانب نہیں کھیل سکے ۔ موجودہ حالات میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر شدید تنقید جاری ہے کیونکہ جمہوریت نام نہاد بھی کہلائے پھر بھی یہ اقدام ناپسندیدہ ہے اتحادی سیاسی جماعتیں بھی ایسا نہیں چاہتی تھیں پھر بھی فیصلہ کیوں اور کیسے ہو گیا؟ تحقیق سے پتہ چلا کہ اس اقدام کے پس پردہ پورا خوف اور آ دھا اختلاف کار فرما ہے خوف بھی ایسا جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کو لاحق تھا اور آ دھا اختلاف بھی دونوں طرف پایا جاتا تھا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے کہ نہیں، خفیہ اداروں کی رپورٹ موجود تھی کہ سہیل آ فریدی کسی طور پر گنڈاپور سے جیسے مضبوط نہیں نہ ہی اب سرکاری وسائل لانگ مارچ میں استعمال ہو سکیں گے پھر بھی خوف تھا کہ اگر لانگ مارچ میں طالبان پاکستان یا دیگر تنظیموں کے مسلح افراد سڑکوں پر آ گئے تو خون خرابہ ہی نہیں جگ ھنسائی بھی ہوگی پی۔ٹی۔ آ ئی میں بھی لانگ مارچ پر اتفاق نہیں تھا بلکہ پارلیمانی پارٹی نے سہیل آ فریدی اور گوہر خان پر الزام لگایا کہ اسے قیادت نے اعتماد میں نہیں لیا ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے خط لکھ کر چیئرمین گوہر خان سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی جبکہ اس کے برعکس سہیل آ فریدی نے انقلاب اور جنید اکبر نے اسلام آ باد کو سومنات بنانے کی دھمکی دے دی حکومت نے معاملات میں سدھار کے لیے نہ صرف مذاکرات کی دعوت دی بلکہ پیر سیاست مولانا فضل الرحمن سے ثالثی کی مدد مانگ لی حکومتی وفد نے مولانا سے تفصیلی بات چیت کے بعد پی۔ٹی۔ آ ئی کے ریلیف کا پیغام بھی دے دیا لیکن سہیل آ فریدی نے اپنے اعلان کے مطابق لکی مروت سے لانگ مارچ کا آ غاز کر دیا لہذا مذاکرات کی میز الٹ گئی بظاہر یہ لگا کہ اپوزیشن دباو¿ بڑھانے کے لیے نکلی ہے لیکن حکومت نے صاف کہہ دیا کہ مذاکرات کے دروازے بند کیونکہ لانگ مارچ ہوگا تو ڈائیلاگ ناممکن، اس طرح سیاسی لڑائی اعصابی جنگ ثابت ہوئی، اپوزیشن بانی ملاقاتوں، علاج معالجہ اور قیدیوں کی رہائی کی بات کرتی رہی اور حکومت صوبے کے امن و امان کے لیے دہشت گردی اور غیر ملکی اندازی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت سے تعاون مانگتی رہی لیکن بات اس لیے نہیں بنی کہ دہشت گردی، در اندازی تحریک طالبان پاکستان، افغان مہاجرین کی واپسی جیسے مسائل پر صوبائی موقف وفاق سے یکسر مختلف تھا صوبائی حکومت نے تحریک طالبان سے مذاکرات کی خواہش کی مہاجرین کی واپسی کے وفاقی فارمولے سے بھی اختلاف کیا بلکہ وہ واضح انداز میں ??گڈ طالبان بیڈ طالبان،، فارمولے پر کاربند رہی اسی فارمولے پر ماضی میں ہزاروں طالبان کو افغانستان سے واپس لا کر آ باد کیا گیا تھا وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی یہی دعوی ہے کہ معاملات مثبت انداز میں آ گے بڑھ رہے تھے سہیل آ فریدی کے جارحانہ بیانات اور لشکر کشی کی دھمکی نے وفاق کو انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کر دیا ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں درپردہ کوئی انجانا خوف ہے بلکہ یہ پورا خوف ??سوشل میڈیا ،،کا ہے جس کے ہاتھوں تحریک انصاف اور اس کی قیادت یرغمال بنی ہوئی ہے جس کا ذکر چیئرمین گو ہر خان ،علیمہ خان ایک سے زیادہ مرتبہ کر چکے ہیں یہ غیر سیاسی نا تجربہ کار ٹرولنگ سے گھبراتے ہیں حالانکہ قومی مفادات کے فیصلے بے خوف و خطر کیے جاتے ہیں مذاکرات کی میز پر آ دھا یا تھوڑا بہت اختلاف کوئی حیثیت نہیں رکھتا لیکن جب کسی کے دل میں پورا خوف گھر کر چکا ہو تو پھر آ دھا اختلاف بھی راہ فرار کے لیے کافی ہوتا ہے وفاقی حکومت کا دعوی ہے کہ پاکستان اور قومی سلامتی سے کھلواڑ کسی کو کرنے نہیں دیں گے، نہ ہی ریاستی رٹ کو دھمکیوں اور فساد سے ختم کیا جا سکتا ہے وفاق نے صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی پر صوبے کے عوام کے مفاد میں غیر معمولی اقدام کیا جس کا عوام نے خیر مقدم بھی کیا جبکہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی مجبوری میں اس اقدام کی مذمت کی آ ئین کے آ رٹیکل 232، 234 کے نفاذ کے بعد آ رٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج بھی تعینات کر دی گئی پھر بھی صاحب رائے کہتے ہیں کہ خوف اور اختلاف پر بھی گورنر راج، ایمرجنسی کا کوئی جواز نہیں تھا یہ فیصلہ صوبے کے مفاد میں ہے کہ نہیں یہ تو جلد پتہ چل جائے گا لیکن ایسا لگتا ہے کہ سیاسی ہی نہیں اعصابی جنگ سہیل آ فریدی جیت گئے جن کی حکمت عملی اور دھمکیوں نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو انتہائی اقدام کرنے پر مجبور کر کے سیاسی شہادت حاصل کر لی اگر خوف اور اختلاف سے بالاتر ہو کر مملکت ،جمہوریت اور صوبے کے لیے فکر مندی میں ??ڈائیلاگ،، کے عمل کو آ گے بڑھایا جاتا تو یقینا صورتحال مختلف ہوتی ،

پورا خوف،آ دھا اختلاف

سینما بینی

پورا خوف،آ دھا اختلاف

جعلی دوا، اصلی موت

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے