پاک ترک معاہدے اور لازوال دوستی
أج کا اداریہ
پاکستان اور ترکیہ نے تیل و گیس کی تلاش کے لیے 5 مفاہمتی یادداشتیں اور تفویضِ حقوق کی دستاویزات پر دستخط کیے اور معدنیات اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ان دستاویزات پر ترک وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بائرقدار کی سربراہی میں آنے والے وفد کے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کیے گئے، جن کی وزیرِ اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیرِ توانائی اویس لغاری سے ملاقاتیں ہوئیں۔
ترکیہ اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کی ترقی پر خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ کبھی بھی کسی ایک ملک نے کسی دوسرے ملکی کی ترقی پر سرد مہری کا مظاہرہ نہیں کیا، ایک دوسرے کا دکھ درد تکلیف دونوں ممالک کے سربراہان اور دونوں ممالک کی قومیں بھی محسوس کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ترک پاکستان اور پاکستانی ترکی کو اپنا دوسرا گھر تسلیم کرتے ہیں
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان پیٹرولیم کی تلاش کے شعبے میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی، ان معاہدوں میں ایسٹرن آف شور انڈس-سی کے لیے تفویض حقوق کی دستاویز، زیارت نارتھ بلاک، سکھپُور-ٹو بلاک، ڈیپ سی بلاک اور آف شور ڈیپ ایف بلاک کے لیے پیٹرولیم کنسیشن معاہدے شامل تھے۔
وزیراعظم نے دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر اطمینان کا اظہار کیا۔
شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جون 2022 میں باہمی تجارت کو 1.1 ارب ڈالر (2021) سے 3 سال میں بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ 2024 میں یہ تجارت 1.4 ارب ڈالر رہی۔
سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی، پیٹرولیم اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ترک پیٹرولیم نے پاکستان میں آف شور اور آن شور دونوں طرح کی تلاش کی سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی ہے، جو دوطرفہ توانائی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
پاک ترک برادرانہ تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو لازوال دوستی و محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ترکیہ کے تعلیمی اداروں میں پاکستانی سرکا ری زبان اردوُ کی تعلیم دینے کا سلسلہ ایک صدی پہلے شروع کر دیا گیا تھا جو ابھی تک بلا تعطل جاری و ساری ہے جس کہ وجہ سے ترک عوام اردوُ کو باآسانی سمجھ اور پڑھ سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کی توانائی مارکیٹ میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت بھی دی اور خطے اور عالمی حالات کی تیز رفتار تبدیلی کے پیشِ نظر دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت پر زور دیا، دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کا ایک وزارتی وفد جلد ترکیہ کا دورہ کرے گا تاکہ ان شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائرقدار نے میزبانوں کو بتایا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ تیل و گیس کی تلاش، توانائی انفرااسٹرکچر اور معدنیات کے شعبے میں مزید منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 5 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کے ہدف کے حصول میں توانائی اور معدنیات میں گہرا تعاون کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے رواں سال کے اوائل میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت کو یاد کرتے ہوئے پاکستان کی وسیع معدنی صلاحیت کو سراہا، انہوں نے کہا کہ ’اسی لیے میں اپنے ساتھ ایک ترک مائننگ کمپنی بھی لایا ہوں۔ یہ ترکیہ کے لیے پاکستان کے ساتھ معدنیت کے شعبے میں داخل ہونے کا ایک سنگِ میل ہے، اور ہم طویل المدتی، باہمی مفید شراکت داری کے منتظر ہیں‘۔
ماڑی انرجیز، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے مینیجنگ ڈائریکٹرز نے اپنے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور ترک ہم منصبوں کے لیے شیل گیس، ٹائٹ گیس، معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی پارٹنرشپ کے ذریعے تعاون کے روشن مواقع سے آگاہ کیا۔
پاک ترک برادرانہ تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو لازوال دوستی و محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ترکیے کے تعلیمی اداروں میں پاکستانی سرکا ری زبان اردوُ کی تعلیم دینے کا سلسلہ ایک صدی پہلے شروع کر دیا گیا تھا جو ابھی تک بلا تعطل جاری و ساری ہے جس کہ وجہ سے ترک عوام اردوُ کو باآسانی سمجھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ترکیے کی تین یونیورسٹیز ،انقرہ ،استنبول اور پونیا میں باقاعدہ شعبہ اردو قائم ہے حال ہی میں اردو زبان کو ہائی سکولوں میں اختیاری مضمون کا درجہ بھی دیا گیا جبکہ ترکیہ میں بانی پاکستان سے لگاؤ کی ایک مثال انقرہ کی بڑی شاہراہ کی دی جا سکتی ہے جس کا نام’’ جناح ہائی وے‘‘ رکھا گیا ہے جو ترکیے کی تجارتی شاہراہوں میں ایک بڑ ی اور اہم شاہراہ بتائی جاتی ہے ۔اسی طرح ترکیے عوام و قیادت کی پاکستان کے اکا برین سے محبت کے اظہار کی ایک اور مثال ترکی کے شہر پونیا کی ایک پارک کی بھی دی جاسکتی ہے جس کا نام علامہ اقبال پارک رکھا گیاہے ۔ اسکے علاوہ ترکی کی ایک مشہور بڑی مسجد بھی علامہ اقبال کے نام سے منسوب کی گئی ہے جو’’ اقبال مسجد‘‘ کہلاتی ہے ۔ترکی میں علامہ اقبال کی عقیدت اور پاکستان سے محبت کے اظہار میں لاہور سے علامہ کے مزار کی مٹی لا کر پونیا میں مولانا رومی کے مزار کے دائیں طرف احاطہ میں دفن کر کہ علامہ اقبال کی علامتی قبر بھی بنائی گئی ہے ۔مولانا رومی اور علامہ اقبال کے روحانی رشتے نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم کیا ہے جو ابدی حیثیت کا حامل ہے ۔اسی طرح پاکستان میں بھی بہت سے مقامات کا نام ترک معاشرے سے دوستی کی علامت ہے ۔اسلام آبا د میں موجو’’اتا ترک ایونیو‘‘،لاہور میں






