سو لفظوں کی کہانی
صبر
کام کافی دن سے اٹکا ہوا تھا،
دوسو کا بس نہیں چلتا تھا کہ کیا کرئے،
کبھی یہاں کبھی وہاں،
کبھی ایک بابو کے پاس،
کبھی دوسرے صاحب کی منتیں۔
بابا جی مسکراتے ہوئے دوسو کی تیزی اور بے صبری دیکھے جا رہے تھے۔۔۔
صبر سے کام لو،
ہو سکتا ہے صبر کا پھل واقعی میٹھا ہو، بابا جی بولے۔
ذہنی تھکن سے چور، دوسو بھی تھک ہار کر بیٹھ گیا،
صبر اپنایا کہ جو ہونا ہے ہو جائے گا۔۔۔
تمہارا رکا ہوا کام ہو گیا ہے،
صبر اپنائے چند لمحے ہی ہوئے، کہ کسی نے دوسو کو خوشخبری دی۔





