#کالم

پاکستانیوں کی دیار غیر میں منتقلی

mirza rizwan

مرزا رضوان

کسی بھی قوم کی حقیقی ثروت و ملکیت اس کے قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کا انسانی سرمایاہوتی ہے۔ اگر سونے کی کانیں موجود ہوں مگر انہیں تراشنے والے ہاتھ نہ ہوں، تو وہ محض مٹی کے ڈھیر ہیں۔ پاکستان اس وقت جس تشویشناک صورتحال سے گزر رہا ہے، اس کی عکاسی حال ہی میں ایوان میں پیش کی جانے والی ایک سرکاری دستاویز کرتی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ، ماہر اور باصلاحیت پاکستانی ملک چھوڑ کر دیارِ غیر منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ صرف ہندسے نہیں ہیں، یہ اس ملک کا درخشان مستقبل ہے جو پرواز کر کے دوسروں کے آشیانوں کو روشن کر رہا ہے۔ سال 2024 میں 45 ہزار 830، سال 2025 میں 28 ہزار 726 اور سال 2026 میں اب تک 15 ہزار 850 اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ ان جانے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز، منیجرز، اکاو¿نٹنٹس اور ماہرینِ تعلیم (اساتذہ) شامل ہیں۔ اگر ہم شعبہ وار جائزہ لیں تو حالات اور بھی تشویشناک نظر آتے ہیں۔ صرف منیجرز کی بات کریں تو 2024 میں تقریباً 23 ہزار، 2025 میں ساڑھے نو ہزار اور 2026 میں اب تک 5 ہزار سے زائد منیجرز ملک چھوڑ گئے۔ انجینئرز، ڈاکٹرز اور اساتذہ کا بھی یہی حال ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کا پڑھا لکھا اور ہنرمند طبقہ اتنی بڑی تعداد میں ہجرت پر کیوں مجبور ہو رہا ہے؟اس سوال کا جواب کچھ زیادہ پیچیدہ نہیں۔ جب کسی نوجوان کو برسوں کی محنت اور لاکھوں روپے کی تعلیم کے بعد بھی اپنے ہی ملک میں معقول روزگار، شفافیت اور میرٹ نہ ملے، تو مایوسی کا پیدا ہونا فطری ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور تنخواہوں کی قلیل مقدار نے متوسط اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ سفارش، برادری ازم اور سیاسی مداخلت نے باصلاحیت اور محنتی نوجوانوں کے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔امن و امان کی صورتحال، بنیادی انسانی حقوق اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی نے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے، جب ایک ڈاکٹر اپنے ہسپتال میں ناکافی سہولیات اور خطرات کا سامنا کرتا ہے، ایک انجینئر کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہیں ملتا، اور ایک آئی ٹی پروفیشنل کو انفراسٹرکچر کی کمی کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ مجبورا ًبیرونِ ملک مواقع تلاش کرتا ہے۔ہنرمند طبقے کی اس ہجرت کو "برین ڈرین” (Brain Drain) کہا جاتا ہے، اور اس کا سب سے بڑا نقصان ملک کے سماجی و معاشی ڈھانچے کو پہنچتا ہے۔ جب سینئر اور قابل منیجرز، انجینئرز اور اساتذہ ملک چھوڑ جائیں گے، تو مقامی اداروں کا معیارِ کارکردگی گرے گا۔ڈاکٹرز اور اساتذہ کی مسلسل ہجرت سے ملک کے پہلے سے زبوں حال صحت اور تعلیم کے شعبے مزید زوال پذیر ہو رہے ہیں ،کسی بھی ملک کی جدید ترقی کا انحصار تحقیق، آئی ٹی اور انجینئرنگ پر ہوتا ہے۔ ان شعبوں کے ماہرین کا نکل جانا تکنیکی اور معاشی پیشرفت کو بریک لگا دیتا ہے،ہم غیر ملکی زرِ مبادلہ (Remittances) پر تو خوش ہو سکتے ہیں، لیکن کیا ہم نے سوچا ہے کہ جو دماغ اس ملک کی پالیسیاں بنا سکتے تھے، جو ہسپتالوں میں جانیں بچا سکتے تھے اور جو نئی نسل کی تربیت کر سکتے تھے، وہ اب دوسرے ممالک کی معیشت کا پہیہ چلا رہے ہیں؟اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں صرف بے بس اور غیر ہنرمند افراد رہ جائیں گے۔ اس بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، سرکاری اور نجی اداروں میں سفارش اور سیاسی مداخلت کا مکمل خاتمہ کیا جائے تاکہ باصلاحیت نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ اور آئی ٹی ماہرین کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق عزّت اور معقول معاوضہ دیا جائے۔ آئی ٹی اور ریسرچ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے اور نوجوانوں کو نئے کاروبار (Startups) شروع کرنے کے لیے آسان شرائط پر سہولیات دی جائیں۔پاکستان کو اس وقت قدرتی وسائل سے زیادہ اپنے "انسانی وسائل” کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ برین ڈرین کا یہ سیلاب روکا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اپنے نوجوانوں کو یہ یقین دلا سکیں کہ یہ وطن ان کا ہے، اور ان کا مستقبل اسی مٹی سے وابستہ ہے۔ اگر ہم نے اپنے روشن دماغوں کو اپنے گھر میں عزّت اور موقع نہ دیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے