لفظ زندہ ہیں تو تہذیب زندہ ہے
زاہد ا قبا ل ملک
شاعر ہوں یا ادیب اور کالم نگار سبھی گھرانہ ادب کے باسی ہوتے ہیں ان کی سوچ کے ہر گوشے میں الفاظ کی شطرنج بچھی ہوتی ہے اور تخیل کے میدان میں مہرے اپنی اپنی چال چلتے رہتے ہیں ان کے اندر خود سے خود کو جیتنے کا ایک عزم پلتا ہے۔ خیال اور لفظ کی اسی کشمکش میں تخلیق جنم لیتی ہے اور جب یہی الفاظ کسی تخلیقی شاہکار کی صورت سامعین یا قارئین تک پہنچتے ہیں تو احساسات کو زبان اور خیالات کو نئی پہچان ملتی ہے۔ شعر کی تاثیر بھی عجیب ہوتی ہے۔ الفاظ شاعر کی زبان سے ادا ہوتے ہیں مگر سامع کے دل میں اتر کر اس کے اپنے احساسات کی ترجمانی کرنے لگتے ہیں۔ کسی شعر پر گونجتی داد اور کسی خیال کے بعد چھا جانے والی خاموشی اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ شاعری محض الفاظ کا ہنر نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے اور انسانی جذبات کو زبان دینے کا وسیلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشاعرے اور ادبی نشستیں زبان و ثقافت سے وابستگی مضبوط کرنے اور ادبی روایات کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ لفظ زندہ ہیں تو تہذیب زندہ ہے۔ اسی تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھنے اور شعر و سخن کی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اے پلس سکول سسٹم ڈی سی کالونی گوجرانوالہ میں محفلِ مشاعرہ منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت چوہدری سجاد مشتاق مہر نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی پنجابی زبان کے معروف نوجوان شاعر محمد رمضان تائب جانی تھے۔ اس ادبی نشست میں پروفیسر نائلہ ریاض بٹ، فرحانہ امر، منصور حسین منصور، ادریس ناز، ثمر فراحت، ڈاکٹر شمائلہ طارق، نوشین نوشی، شوکت ڈار، ڈاکٹر اعجاز بیگ اور عادل بادشاہ سمیت نامور شعرا نے شرکت کی۔محفلِ مشاعرہ کا ایک نمایاں پہلو پروفیسر ادریس بیگ کی نظامت تھی انہوں نے شستہ گفتگو اور شائستہ اندازِ بیان سے تقریب کے مختلف مراحل کو خوب صورتی سے آگے بڑھایا۔ ان کی نظامت میں ادبی ذوق اور موقع شناسی نمایاں رہی شعرائ کو دعوتِ سخن دینے اور ان کے کلام کو مناسب انداز میں پیش کرنے کے ساتھ انہوں نے محفل کا تسلسل اور سامعین کی دلچسپی بھی برقرار رکھی۔ ان کا سلیقہ مند انداز محفل کے ادبی حسن میں اضافے کا باعث بنا۔ بزمِ سخن کا معتبر حوالہ محمد رمضان تائب جانی کی شاعری عام آدمی کے احساسات اور زندگی کے تلخ حقائق کی عکاس ہے۔ ان کے خیالات اپنی مٹی سے جڑے ہیں جن میں دھرتی کی خوشبو مقامی تہذیب اور عوامی زندگی کی سچائیاں نمایاں ہیں وہ سادہ اور بے ساختہ انداز میں غریب کے مسائل مزدور کی مشقت اور معاشرتی محرومیوں کو اجاگر کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ ان کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ عام انسان کے تجربات کو شاعری کا موضوع بناتے ہیں۔ ان کے لفظوں میں محنت کش طبقے کی محرومیاں بھی بولتی ہیں اور اس کی امیدیں بھی۔ پنجابی زبان کی سادگی اور مقامی لہجے سے جڑی ان کی شاعری سامع کو اپنی مٹی اور تہذیب سے قریب کرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مزدور کی محنت اور غریب کی مشکلات کا ذکر اکثر تقریروں تک محدود رہ جاتا ہے ایسے میں جب شاعر ان طبقات کی زندگی کو اپنے کلام میں جگہ دیتا ہے تو ان کی آواز معاشرے کے وسیع حلقے تک پہنچتی ہے رمضان تائب جانی کی شاعری کا یہی عوامی رنگ ان کی شناخت ہے۔ نسلِ نو کی توانا آواز شاعر منصور حسین منصور کی نظم پریم نگر ہمارے کھوئے ہوئے خلوص اور سچی محبت کا نوحہ ہے۔ ”ایتھے پریم نگر کدی ہوندا سی“ صرف ایک مصرعہ نہیں بلکہ ایک پورے دور کی یاد ہے جب چاند رک کر دیکھتا تھا اور ڈاچی ہولے ہولے چلتی تھی۔ تب سسی ہنستی بھی تھی اور سنگتی بھی تھی۔ بانسری کی تان کچی سہی مگر عشق کی کہانی سچی تھی اور کچے گھڑے بھی عشق کے دریا کو پار کر جاتے تھے۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی تو ڈاچی چلنا بھول گئی اور سسی ہسنا۔ دریا تو ہے مگر وہ دریا نہیں رہا۔ سوہنی سیانی ہو گئی اور اس کا گھڑا بھی پکا یعنی محبت میں بھی مصلحت اور حساب آ گیا۔ جب میلے اجڑ جائیں اور یار بھول جائیں تو انسان زندہ رہ کر بھی قبر کی طرح سونے لگتا ہے۔ یہی اس نظم کا اصل درد ہے۔ شاعر نے ماضی کی بے لوث محبت اور موجودہ دور کی مصلحت پسندی کے فرق کو مو¿ثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔ مشاعرے کی خوب صورتی یہ ہے کہ مختلف شعرا اپنے اپنے انداز میں زندگی کے مختلف پہلو پیش کرتے ہیں۔ کسی کے ہاں محبت اور ہجر کی کیفیت ہوتی ہے تو کسی کے کلام میں معاشرتی مسائل کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یہی تنوع سامعین کو مختلف خیالات اور احساسات سے روشناس کراتا ہے۔ نسائی احساسات کی مو¿ثر ترجمان شاعرہ پروفیسر نائلہ ریاض بٹ صاحبہ نے پنجابی اور اردو زبانوں میں اپنا کلام پیش کرکے اہلِ بزم سے بھرپور داد سمیٹی۔ بعد ازاں طنز و مزاح کے ذریعے معاشرتی رویّوں کی بے باکی سے عکاسی کرتے ہوئے محفل کو زعفران زار بنا دیا اور بزم میں قہقہوں کی گونج سنائی دینے لگی۔ لفظوں کی مصورہ شاعرہ فرحانہ امر نے اپنے سنجیدہ اندازِ بیان اور پ±راثر کلام سے معاشرتی حقیقتوں کو اجاگر کیا۔ ان کے اشعار میں زندگی کے تلخ تجربات اور انسانی رویّوں کی عکاسی نمایاں تھی۔ انہوں نے لفظوں کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ ان کے ذریعے حقیقت کے کئی پردے چاک کیے۔ ان کے کلام نے سامعین کو غور و فکر پر آمادہ کیا اور محفل میں سنجیدگی کی ایک خوب صورت فضا قائم کی۔ پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن گوجرانوالہ کی اس کاوش کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ صحافت اور ادب دونوں معاشرتی شعور کی بیداری میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کالم نگار اپنے مشاہدے اور تجزیے سے حالات کی تصویر پیش کرتا ہے جبکہ شاعر انہی حقائق کو احساس اور تخیل کے ذریعے دلوں تک پہنچاتا ہے۔ دونوں کا مقصد انسانی رویّوں کو سمجھنا اور معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے۔ادبی روایات کا احیا صرف ماضی کو یاد کرنے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے نئی نسل کو ادب سے جوڑنا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں میں مشاعروں اور ادبی نشستوں کا انعقاد طلبہ میں مطالعے اور تخلیقی اظہار کا شوق پیدا کر سکتا ہے۔ ایسی تقریبات نوجوانوں کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ زبان محض نصابی تعلیم کا حصہ نہیں بلکہ اپنی تاریخ ثقافت اور جذبات کو محفوظ رکھنے کا وسیلہ بھی ہے۔ اے پلس سکول سسٹم ڈی سی کالونی گوجرانوالہ میں محفلِ مشاعرہ کا انعقاد اسی اعتبار سے قابلِ قدر ہے. گوجرانوالہ اپنی صنعتی اور کاروباری شناخت رکھتا ہے مگر کسی شہر کی پہچان صرف معاشی ترقی سے مکمل نہیں ہوتی. اس کا ادبی اور ثقافتی سرمایہ بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے ضروری ہے کہ صنعت و تجارت کے ساتھ علمی و ادبی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جائے تاکہ نئی نسل اپنی تہذیبی جڑوں سے وابستہ رہے۔ پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن جیسی تنظیمیں ادبی محفلوں کے ذریعے اہلِ قلم کو اظہار کا موقع فراہم کرتی ہیں ان سرگرمیوں کا تسلسل ضروری ہے تاکہ شعر و ادب عام لوگوں کی زندگی کا حصہ بنے اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی رہے۔پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری سجاد مشتاق مہر، رانا محمد اظہر، انچارج نمائندگان ڈویڑنل ٹائم، سجاد سردار وڑائچ اور اے پلس سکول سسٹم کی پوری ٹیم لائقِ صد تحسین ہیں جنہوں نے اس خوب صورت ادبی محفل کو سجایا ایسی بز?میں اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ادبی روایات کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ بلاشبہ شاعری انسانی احساسات کی ترجمانی اور تہذیبی شناخت کی حفاظت کا اہم وسیلہ ہے۔ جب شعر دلوں میں اترتا ہے تو انسان اپنے دکھ کے ساتھ دوسروں کے درد کو بھی محسوس کرنے لگتا ہے یہی ادب کی اصل قوت اور ایسی محفلوں کا حقیقی حاصل ہے کہ لفظوں کے ذریعے دلوں میں خلوص محبت اور احساس کی شمع روشن رہے۔






