#کالم

محسن قوم،سر سیداحمد خاں

shaid bukhari

شا ہد بخاری

سر سید احمد خاں ایک شخص نہیں ایک ادارہ تھے ۔۔۔۔۔بلکہ وہ اپنی ذات میں کئی اداروں کا مجموعہ تھے۔ وہ ایک نہیں متعدد تحریکوں کا سر چشمہ مسلمانوں کے جدا گانہ تشخص،دو قومی نظرئیے، جدا گانہ انتخاب اور یوں نظریہ پاکستان کے بانی، مصلح، رہنما، ریفارمر منصف،مصنف، موئ لف، مدیر،مورخ،مفسر قران، ماہر تعلیم، ہما جہات ہما صفات۔ سر سید احمد خان نے نہ صرف راستے کا تعین کیا بلکہ منزل کا سراغ بھی بتایا۔ انہوں نے اس راستے کی وہ صورت گری کی جس پر چل کر،بعد میں آنے والے قائدین قیام پاکستان کی منزل تک پہنچے بلکہ انہوں نے دل شکستہ اور ھارے ہوئے بے یارو مددگار مسلمانوں کو اس کٹھن راستے پر سرگرم عمل ہونے کے لیے بھی تیار کیا۔علی گڑھ کی عظیم درسگاہ دراصل تحریک پاکستان کے ہراول دستے کی تربیت گاہ تھی۔ یوں محمد علی جناح اگر بر صغیر کے مسلمانوں کے قائد اعظم تھے تو سر سید احمد خان کو بجا طور پر محسن اعظم کہنا چاہیے۔سچ پوچھیں تو لفظ محسن انہی پر جچتا اور سجتا ہے۔جس زمانے میں مسلمانوں سے دل کھول کھول کر بدلے لیے جا رہے تھے۔ اگلے پچھلے بغض نکالے جا رہے تھے، مسلمان ہونا ہی جرم سمجھا جاتا تھا۔ مسلمان کچلے ہوئے اور بے آسرا تھے تب سر سید نے ہی ان بے یارو مددگار مسلمانوں کو سنبھالا، انہیں حوصلہ دیا،ان کی وکالت کی۔ ایسے بے لوث مخلص ،وڑنری سمجھدار مسلمان کو آج بھی انگریز کا ایجنٹ کہا جاتا ہے۔دلیل یہ دے کر نئی نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے کہ انگریز دشمن علمائ تو کالے پانی میں رہے۔ خیر خواھوں کو انگریزوں نے خطابات اور انعامات دیئے۔اگر یہ دلیل تسلیم کر لی جائے تو وہ بڑے بڑے علمائے کرام جنہیں خطاب کے ساتھ زرعی زمین بطور جاگیر بھی انگریز نے دی انہیں کیا کہیں گے؟؟ انہوں نے بھی جہاد 1857 کی سر سید کی طرح مخالفت کی تھی: خامہ انگشت بدندا ںکہ اسے کیا لکھئیے؟؟ ناطقہ سر بہ گریباں کہ ایسے کیا کہیے؟؟؟؟ 1857ء کی جنگ آزادی کی متعدد علمائے دیوبند، بریلوی، شیعہ اور اہل حدیث نے مخالفت کی تھی لیکن مطعون صرف سر سید ہی کو کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس جنگ آزادی میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی شریک تھے لیکن انگریزوں نے مسلمانوں کو خصوصی طور پر اپنے انتقام اور غیض و عضب کا نشانہ بنایا۔ انگریزوں نے حکومت چوں کہ مسلمانوں سے ھتھیائی تھی اس لیے وہ انہیں ہی اپنا حریف اور دشمن سمجھتے تھے۔۔۔۔سر سید اسی فکر میں مصروف عمل تھے کہ ۔۔۔۔انگریزوں کے دلوں میں جو عام بد گمانی سب مسلمانوں کی طرف سے پیدا ھو گئی ھے،اسے کسی طرح دور کیا جائے۔ اس زمانے میں آزادی اظہار کی بالکل آزادی نہیں تھی پھر بھی باوجود ملازمت کی مصروفیات کے آپ نے اسباب بغاوت ہند پر مدلل رسالہ لکھ کر ثابت کیا کہ انگریزوں، مسلمانوں اور ہندوو¿ں کی غلط فہمیوں سے 1857 کا ہنگامہ ہوا جس کی کافی سزا مسلمانوں کو مل چکی ہے، اب انہیں اس الزام سے بری کیا جائے۔جب” رسالہ اسبا ب بغاوت ہند”کی کاپیاں لندن پارلیمنٹ میں پہنچیں تو فارن سیکریٹری نے اس کے خلاف سخت تقریر کی اور اسے باغیانہ مضمون قرار دیا۔اسی رسالے کی بدولت ملکہ معظمہ کی طرف سے عام معافی و امن کا اشتہار مشتہر ہوا۔اور مسٹر ھیو م کے ذہن میں انڈین نیشنل کانگرس قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا۔1869ءمیں سر سید نے اپنے بیٹوں، سید حامد اور سید محمود کے ہمراہ ولایت کا سفر کیا جو اس عظیم الشان کارنامے کا آغاز تھا جو آج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شکل میں دنیا کے سامنے موجود ہے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ انگلستان کے نظام تعلیم کا مطالعہ کر کے معیاری درس گاہ ھندستان میں بھی قائم کریں، جس کی بدولت پس ماندہ مسلمان بھی ترقی کر سکیں۔وہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں جا کر نظام تعلیم کا عمیق مطالعہ کیا اور مسلمانوں کی حالت کے مطابق سید محمود کی مدد سے تعلیم کی سکیم تیار کی۔سر سید نے لندن سے بنارس واپس پہنچتے ہی "تدابیر فی ترقیئ تعلیم مسلمانان”کے عنوان سے اشتہار اردو اور انگریزی میں ہر طرف مشتہر کرا دیا جس میں یہ سوالات اٹھائے گئے تھے کہ سرکاری سکو لوں اور کالجوں میں مسلمان طالب علم کن وجوہات کی بنا پر کم داخلہ لیتے ہیں۔جدید علوم ان میں کیوں رواج نہیں پا رہے؟ ہر ذی شعور مسلمان کو اس موضوع پر لکھنے کی دعوت دی گئی تھی۔تمام مضامین اور تجاویز کے جائزے کے بعد یہ طے پایا کہ مسلمانوں میں جدید تعلیم کے فروغ اور نئے علوم و فنون کی روشنی سے بہرہ ور ہونے کے لیے ایک اینگلو اور ئینٹل کالج قائم کیا جائے۔ اس کے لیے نہ صرف مسلمان بلکہ گورنمنٹ بھی امداد بہم پہنچائے۔آپ نے چندہ اکٹھا کرنے کے لئیے ہندوستان بھر میں شہر شہر اور گاو¿ں گاو¿ں کمیٹیاں بنا ئیں۔اپنے رضا کاروں، کارکنوں میں ایسا قومی جذبہ بھر دیا کہ ایک زبردست ملک گیر مہم شروع ہو گئی۔ چندے کے لیے کام کرنے والوں نے دن رات ایک کر دیا اس کی وصولی کا ہر ممکن جتن کیا۔سر سید احمد خان 19 ویں صدی کی وہ عہد ساز شخصیت تھے جن کی ہمہ گیری کے اثرات بیک وقت ادب،سیاست،معاشرت ،تعلیم، مذہب اور صحافت پر پڑے۔ ان سے پہلے علمی نثر کا وجود ہی نہ تھا۔ادب کا دائرہ مذہب تصوف اور تاریخ نگاری تک محدود تھا خطوط غالب استثنا میں سے ہیں۔فورٹ ولیم کالج کی نثری تصنیفات کا دائرہ محض داستانوں تک ھی محدود تھا۔سر سید ہی اردو میں وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے روایت کی تقلید سے ہٹ کر آزادیئ رائے اور آزادیء فکر کی بنیاد ڈالی۔Light Essay کاآغاز کیا،جسے اب انشائیہ کہا جاتا ہے۔انھوں نے مضمون کو اولیت دی اور طرز ادا کو ثانوی درجہ دیا۔ زبان و بیان کی سادگی پر آپ نے بہت زور دیا انہوں نے زبان کو عام فہم بنایا اور اس میں ہر قسم کے مضامین ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کی۔ آج ہمارے ادب میں ایسے مضامین کی کمی نہیں، جنھیں ہم مغربی ادب اور ادب عالیہ میں فخریہ پیش کر سکتے ہیں۔ا±ردو ادب کی خدمات میں تہذیب الاخلاق کا بھی بڑا دخل ہے جس کی نظر نے اردو کو علمی،ادبی،معاش رتی اور تہذیبی اقدار سے مالا مال کیا اور لوگوں کے ذہنوں کو جلا بخشی۔ یہ بھی سر سید کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں رفقائے کار کا ایسا حلقہ میسر تھا جن میں سے ہر ایک قومی خدمت کے جذبے سے سرشار تھا۔سر سید بیسیوں کتب کے مصنف و مو¿لف تھے آپ کے سینکڑوں مضامین اور خطبات مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کے لیے شائع ہو چکے ہیں۔ وہ سچے عاشق رسول اور عا مل قرآن تھے۔ذرا سوچیے اگر ان کا دیا ہوا نظام تعلیم نہ ہوتا تو ہمارا کیا بنتا؟؟؟؟

محسن قوم،سر سیداحمد خاں

16/10/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے