#کالم

ٹیکس کا سوال اور ریاست پر اعتماد

rafeh s

رفیع صحرائی

صبح سویرے ایک مزدور اپنے گھر سے نکلتا ہے۔ دن بھر دھوپ، گرد اور پسینے میں محنت کرتا ہے تاکہ شام کو بچوں کے لیے آٹا، دودھ اور سبزی لے جا سکے۔ اس کی آمدنی پہلے ہی محدود ہے، مگر جب وہ اپنی ضرورت کی اشیا خریدتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جیب سے جانے والی رقم میں صرف اشیا کی قیمت نہیں بلکہ مختلف ٹیکس بھی شامل ہیں۔ پٹرول پر ٹیکس، بجلی پر ٹیکس، موبائل پر ٹیکس، خریداری پر ٹیکس، اور اگر وہ ملازمت پیشہ ہے تو تنخواہ ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی انکم ٹیکس کی کٹوتی بھی ہو چکی ہوتی ہے۔ایک دن یہی آدمی ٹیلی ویڑن یا موبائل فون پر یہ خبر دیکھتا ہے کہ قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے کسی بااثر شخص سے پلی بارگین کے ذریعے کچھ رقم واپس لے کر معاملہ ختم کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتا ہے کہ ایک غریب شخص معمولی نوعیت کے جرم پر جیل پہنچ گیا، ٹریفک کا ایک سگنل توڑنے والے کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا اور قانون کی گرفت اس کے لیے انتہائی سخت ہے۔یہیں سے ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ریاست کا قانون سب کے لیے برابر ہے؟یہ سوال صرف ایک عام آدمی کا نہیں، پاکستان کے پورے ٹیکس نظام کا سوال ہے۔ ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ یہ شکایت اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ ٹیکس چوری کسی بھی ملک کی معیشت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہمیں ایک مشکل اور تلخ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ لوگ ٹیکس دینے سے کیوں گریز کرتے ہیں؟اس کا ایک جواب اعتماد کا بحران ہے۔ جب ریاست عام شہری سے ایک ایک روپیہ وصول کرتی ہے مگر اسی رقم سے اشرافیہ کو مراعات، سہولتیں اور خصوصی رعایتیں دیتی دکھائی دیتی ہے لیکن عام آدمی کو معمولی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے تو شہری کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ نظام اس کے لیے نہیں بلکہ طاقتور طبقے کے لیے بنایا گیا ہے۔ جب ایک تنخواہ دار شخص کی آمدنی دستاویزی ہونے کی وجہ سے اس کی تنخواہ سے ٹیکس خود بخود کاٹ لیا جاتا ہے، لیکن بڑی بڑی جائیدادوں، کاروباروں اور صنعتی اداروں کے مالکان اپنی حقیقی آمدنی کے تناسب سے ٹیکس ادا نہ کریں تو یہ محض مالیاتی مسئلہ نہیں رہتا، یہ انصاف کا مسئلہ بن جاتا ہے۔پاکستان میں سب سے زیادہ دباو¿ اکثر اسی طبقے پر پڑتا ہے جو ٹیکس چوری نہیں کر سکتا۔ تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدنی چھپا نہیں سکتا۔ اس کی تنخواہ بینک میں آتی ہے، ٹیکس کٹتا ہے اور باقی رقم اس کے ہاتھ میں پہنچتی ہے۔ پھر وہی شہری جب بازار جاتا ہے تو بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ یوں وہ براہِ راست بھی ٹیکس دیتا ہے اور بالواسطہ بھی۔ اس کے مقابلے میں اگر بڑے صنعت کار، بعض بڑے ریٹیلرز، ہول سیلرز، رئیل اسٹیٹ کے بڑے کاروبار اور دیگر بااثر طبقات اپنی حقیقی معاشی حیثیت کے مطابق قومی خزانے میں حصہ نہ ڈالیں تو عام آدمی کے دل میں شکوہ پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں۔یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹیکس صرف حکومت کی آمدنی نہیں، عوام کا اجتماعی سرمایہ ہے۔ اسی پیسے سے ہسپتال بنتے ہیں، اسکول چلتے ہیں، سڑکیں تعمیر ہوتی ہیں، امن و امان قائم کیا جاتا ہے، دفاع مضبوط ہوتا ہے اور ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ لیکن اگر شہری یہ سمجھنے لگے کہ اس کی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ حکمرانوں کے پروٹوکول، غیر ضروری سرکاری اخراجات، مراعات اور شاہانہ طرزِ زندگی پر خرچ ہو رہا ہے تو ٹیکس دینے کا جذبہ کمزور ہونا فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو ٹیکس چوری کے خلاف مہم چلانے سے پہلے اعتماد کی بحالی کی مہم چلانی چاہیے۔ریاست اگر چاہتی ہے کہ شہری خوش دلی سے ٹیکس دیں تو اسے بھی عوام کے سامنے اپنے اخراجات کا حساب دینا ہو چاہیے۔ حکمران طبقے کو اپنے لیے وہی کفایت شعاری اختیار کرنا ہوگی جس کا مطالبہ وہ عام آدمی سے کرتا ہے۔ جب عوام سے قربانی مانگی جائے تو حکمرانوں کو بھی قربانی کی مثال قائم کرنا چاہیے۔سب سے بڑھ کر قانون کے دوہرے معیار کا خاتمہ ضروری ہے۔ اگر ایک غریب آدمی ایک معمولی جرم پر قانون کی سخت گرفت میں آتا ہے تو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والا شخص بھی محض اثر و رسوخ یا قانونی موشگافیوں کے ذریعے بچ نہیں جانا چاہیے۔ احتساب ایسا ہو جس میں نہ غریب کے لیے الگ قانون ہو اور نہ امیر کے لیے الگ۔ٹیکس اصلاحات کا دوسرا اہم پہلو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔ حکومت کو ہر مرتبہ انہی لوگوں پر مزید ٹیکس نہیں لگانا چاہیے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں۔ اصل ضرورت ان شعبوں اور افراد تک پہنچنے کی ہے جو معیشت میں بڑا حصہ رکھتے ہیں مگر ٹیکس کے دائرے سے باہر ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اس سلسلے میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ بینکنگ، جائیداد، گاڑیوں، کاروباری لین دین اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے ڈیجیٹل ریکارڈ کو مربوط کرکے ایسے لوگوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جو کاغذوں میں معمولی آمدنی ظاہر کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں کروڑوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے ٹیکس چوری کی نشاندہی زیادہ مو¿ثر انداز میں کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ اس نظام میں شفافیت، قانونی تحفظ اور شہریوں کی رازداری کا خیال بھی رکھا جائے۔ لیکن صرف سختی کافی نہیں۔ ٹیکس چوری ختم کرنے کے لیے سزا کے ساتھ انصاف بھی ضروری ہے۔ ٹیکس نظام آسان، شفاف اور قابلِ فہم ہونا چاہیے۔ چھوٹے کاروباری کو ایسی پیچیدگیوں میں نہیں الجھانا چاہیے کہ وہ ٹیکس سے بچنے کے لیے ہی ماہرین کی خدمات لینے پر مجبور ہو جائے۔اور سب سے اہم بات یہ کہ ٹیکس دینے والے شہری کو ریاست کی طرف سے عزت ملنی چاہیے۔ جس شہری نے اپنا فرض ادا کیا ہے اسے مسلسل شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ریاست کو اس کا اعتماد بڑھانا چاہیے۔پاکستان کو قرضوں کے مسلسل چکر سے نکلنا ہے تو ہمیں ٹیکس نظام کو محض خزانہ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی معاشی معاہدہ بنانا ہوگا۔ ریاست کہے کہ ہم آپ سے ٹیکس لیں گے، مگر اس کے بدلے آپ کو بہتر صحت، معیاری تعلیم، انصاف، امن اور بنیادی سہولتیں فراہم کریں گے۔ شہری کہے کہ ہم ٹیکس دیں گے، مگر ہمیں یقین ہو کہ ہمارا پیسہ ضائع نہیں ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معیشت اور اخلاقیات ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں۔عوام سے ٹیکس مانگنے سے پہلے ریاست کو اعتماد کمانا ہوگا، کیونکہ جس ریاست پر شہری کو اعتماد نہ رہے وہاں ٹیکس کا قانون تو موجود رہتا ہے، مگر ٹیکس دینے کا جذبہ مر جاتا ہے۔اور قومیں صرف قانون کی طاقت سے نہیں، انصاف اور اعتماد کی بنیاد پر خزانے بھرتی اور مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔

ٹیکس کا سوال اور ریاست پر اعتماد

نابیناوں کا عالمی دن

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے