#کالم

شہید پاکستان حکیم محمد سعید

hakeem rahat

حکیم راحت نسیم سوہدروی

شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعید ایک ہمہ صفت، ہمہ جہت اور عہد ساز شخصیت تھے۔ تعمیرِ پاکستان کے لیے ان کی خدمات لازوال اور بے مثال ہیں۔ ان کی زندگی عزم و عمل کی ایک ایسی داستان ہے جس کا ہر باب خدمتِ خلق، علم دوستی، خلوص اور قومی جذبے سے عبارت ہے۔حکیم محمد سعید ایک متحرک، منظم اور نظام الاوقات کے پابند انسان تھے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ بامقصد گزرا۔ وہ صرف مصروف نہیں رہتے تھے بلکہ ہر وقت مصروفِ کار رہتے تھے۔ اسی لیے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے زندگی میں جتنے سانس لیے، اتنے ہی کام کیے۔ گویا ان کی زندگی کا کوئی لمحہ ضائع نہیں ہوا۔ یہی ہمہ گیری، یہی تسلسل اور یہی خلوص انہیں سرسید احمد خان، علامہ اقبال اور قائداعظم کے بعد ایک رول ماڈل کے طور پر ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔تقسیمِ ہند کے بعد، جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو حکیم محمد سعید جذب? تعمیرِ پاکستان سے سرشار ہو کر دہلی سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور نامساعد حالات میں اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ انہوں نے طب و صحت کو اپنا میدانِ عمل بنایا، لیکن ان کی خدمات صرف اسی شعبے تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے علمی، تعلیمی، ادبی، فکری، نظریاتی، سماجی اور تہذیبی محاذوں پر ایسی بے مثال خدمات سرانجام دیں جو بظاہر ایک فرد کے بس کی بات محسوس نہیں ہوتیں۔ یہ کام تو بڑے بڑے حکومتی اداروں کے کرنے کے ہوتے ہیں، لیکن حکیم محمد سعید نے اپنی محنت، عزم اور غیر معمولی صلاحیتوں سے انہیں حقیقت کا روپ دے دیا۔
ہمدرد وقف اور فلاحی ادارہ سازی
جب حکیم محمد سعید کا قائم کردہ ادارہ ہمدرد ایک منافع بخش ادارے کی حیثیت اختیار کرگیا تو انہوں نے اسے شرعی وقف قرار دے کر اسلام، صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے لیے وقف کردیا اور خود بھی مقاصدِ وقف کے لیے وقف ہوگئے۔ اگرچہ خدمتِ خلق کا سلسلہ پہلے سے جاری تھا، لیکن اب اسے ایک منظم ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ہمدرد فاو¿نڈیشن پاکستان قائم کی گئی۔ ہمدرد وقف کی آمدنی ہمدرد فاو¿نڈیشن کو منتقل ہوتی ہے اور اسے وقف کے متعین مقاصد کے حصول کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔ یہ ماڈل پاکستان میں فلاحی ادارہ سازی کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بن گیا۔
شامِ ہمدرد اور قومی فکری رہنمائی
حکیم محمد سعید نے شامِ ہمدرد کے نام سے ایک ایسا فکری فورم قائم کیا جو قومی مسائل پر غور و فکر اور فکری رہنمائی کا مو¿ثر ذریعہ بنا۔ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور پشاور سمیت کئی شہروں میں باقاعدگی سے اجتماعات منعقد ہوتے رہے۔ بعدازاں اسے شوریٰ ہمدرد کی صورت دے دی گئی، جس کے اجتماعات آج بھی منعقد ہوتے ہیں۔یہ ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد قومی و ملی مسائل کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنا اور حکومت کو رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ ان اجتماعات میں ملک بھر کے دانشور، جج، ماہرینِ تعلیم، صحافی، اہلِ فکر و نظر اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کرتے اور اپنی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ تعمیرِ پاکستان کی سنجیدہ فکری روایت کی ایک نمایاں علامت ہے۔
ہمدرد نونہال اور نونہالوں کی تربیت
حکیم محمد سعید نے محسوس کیا کہ نونہالوں کی تعلیم و تربیت انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہی بچے قوم کا مستقبل ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ نونہال ادب کی کمی مستقبل کے معماروں کی فکری و اخلاقی نشوونما کو متاثر کررہی ہے تو انہوں نے بچوں کے لیے ہمدرد نونہال کا اجرا کیا۔ اس رسالے کو تقریباً پون صدی ہونے کو ہے اور آج تیسری نسل اس سے استفادہ کررہی ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے نونہال ادب کی ترویج کا سلسلہ شروع کیا اور بچوں کے لیے سفرنامے، سائنسی، معلوماتی اور اخلاقی موضوعات پر کتابیں لکھیں، جن کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے۔ یہ محض کتابوں کی اشاعت نہیں تھی بلکہ نونہالوں کی ذہنی تربیت، کردار سازی اور مثبت سوچ کی آبیاری کا ایک جامع پروگرام تھا۔اسی مقصد کے تحت انہوں نے نونہال اسمبلیوں کا سلسلہ شروع کیا، جسے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ ان اسمبلیوں کے ذریعے ہزاروں بچوں کی تربیت کا سامان فراہم کیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ان کا مقصد بچوں میں خود اعتمادی، اظہارِ خیال کی صلاحیت، قومی شعور، نظم و ضبط اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا تھا۔
طب کی تعلیم اور اطبائے کرام کی ترقی
حکیم محمد سعید نے طب کی تعلیم میں جدت اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہمدرد طبیہ کالج قائم کیا۔ 1995ء میں اسے ڈگری کورس کی سطح پر ترقی دی گئی۔ اس اقدام نے پاکستان میں طب کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ بعدازاں متعدد جامعات میں طب کے ڈگری پروگرام شروع ہوئے اور طب کی تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں تیز ہوئیں۔طب و اطبا کی ترقی، فروغ اور حقوق کے تحفظ کے لیے انہوں نے پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن قائم کی، جس کا عالمی اداروں سے الحاق ہوا۔ اس تنظیم کی جدوجہد سے طبِ مشرق کی اہمیت کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملی اور طب کا مقدمہ دنیا بھر میں پیش کیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت سے طب کو تسلیم کرایا 1965 کے طبی ایکٹ کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیاحکیم محمد سعید کا یقین تھا کہ صحت مند قوم ہی دنیا میں سربلند مقام حاصل کرسکتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم و صحت کو اپنی جدوجہد کا خاص میدان بنایا۔
تحریکِ صحتِ ملی اور صحت عامہ کا شعور
حکیم محمد سعید نے صحت کی اہمیت اجاگر کرنے اور عوام میں صحت سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے تحریکِ صحتِ ملی شروع کی۔ انہوں نے تعلیمِ صحت کا سلسلہ جاری کیا اور اس مقصد کے لیے کتابچے، رسائل، جرائد اور کتب شائع کروائیں۔انہوں نے سپاہِ صحت تشکیل دی، جس کے کارکنوں کو صحت سے متعلق لٹریچر فراہم کیا جاتا تھا۔ مختلف امراض، ان سے بچاو¿ اور صحت مند زندگی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پوسٹر بھی شائع کیے جاتے تھے۔عالمی یومِ صحت کے موقع پر عالمی نونہال صحت کانفرنس کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ کانفرنس ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد نئی نسل میں صحت کے بارے میں شعور پیدا کرنا اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات کی ترغیب دینا ہے۔
تحریکِ تعلیم اور کتب خانوں کا فروغ
تعلیم کے فروغ کے لیے حکیم محمد سعید نے سپاہِ تعلیم قائم کی اور رضاکار تیار کیے۔ ان رضاکاروں کو بیجز فراہم کیے گئے اور یہ تحریک چلائی گئی کہ ہر مسجد کے ساتھ ایک اسکول بھی ہو اور مسجد کے خطیب کی خدمات بطور استاد حاصل کی جائیں، تاکہ تعلیم عام ہوسکے۔ان کا خواب تھا کہ وطن کا ہر نونہال تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو۔ اس مقصد کے لیے وہ اہلِ ثروت کو اسکول قائم کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ انہوں نے علم اور اہلِ علم کی قدر و منزلت اجاگر کرنے کی مہم چلائی اور انجمن ترقی و فروغِ کتب خانہ جات قائم کی۔ اس انجمن کے ذریعے کتب خانوں کے فروغ کے لیے کام کیا گیا۔حکیم محمد سعید معیاری کتابوں کی اشاعت اور مطالعے کے فروغ کو قومی ترقی کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ وہ معیاری کتب کی دو سو کاپیاں خرید کر مختلف اداروں اور اہلِ علم کو علمی تحفے کے طور پر بھجواتے تھے، تاکہ مطالعے کا شوق بڑھے اور علم کی روشنی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔
مدینہ الحکمہ: شہرعلم و ثقافت
حکیم محمد سعید کا ایک عظیم اور لافانی کارنامہ کراچی کے قریب بند مراد روڈ پر شہرِ علم و ثقافت مدین? الحکمہ کا قیام ہے۔ یہ ان کے علمی، تعلیمی اور تہذیبی خواب کی عملی تعبیر ہے۔مدینہ الحکمہ میں ہمدرد یونیورسٹی قائم ہے، جہاں متعدد علمی شعبے اور فیکلٹیز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہمدرد پبلک اسکول، ہمدرد ولیج اسکول اور یتیم بچوں کے لیے الفرقان جیسے تعلیمی ادارے بھی قائم کیے گئے۔ یہاں ایشیا کی ممتاز علمی لائبریریوں میں شمار ہونے والی بیت الحکمہ بھی موجود ہے، جو تحقیق، مطالعے اور علمی سرگرمیوں کے لیے اہم مرکز ہے۔مدینہ الحکمہ حکیم محمد سعید کے اس تصور کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی قوم کی حقیقی ترقی علم، تحقیق، تعلیم اور تہذیبی شعور کے فروغ سے ممکن ہے۔
قرآن، سیرت اور مسلم سائنس دانوں کی خدمات
حکیم محمد سعید نے قرآنِ کریم اور سیرتِ نبوی ? سے وابستگی کو فروغ دینے کے لیے قرآن کانفرنسوں اور سیرت کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا۔ پہلی بین الاقوامی سیرت کانفرنس 1976ئ میں منعقد ہوئی، جس کے بعد یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔انہوں نے مسلم سائنس دانوں کی علمی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے البیرونی اور ابن الہیثم کے ہزار سالہ جشن کے موقع پر عالمی سیمینار منعقد کروائے۔ ان عظیم مسلم مفکرین اور سائنس دانوں کی خدمات پر کتب شائع کی گئیں اور ان کی تصانیف کے تراجم کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔حکیم محمد سعید کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی علمی و سائنسی تاریخ نئی نسل کے سامنے لانا ضروری ہے، تاکہ طلبہ اپنے اسلاف کی علمی عظمت سے واقف ہوں اور تحقیق و جستجو کو اپنا شعار بنائیں۔
مستحق افراد کے لیے طبی سہولتیں
حکیم محمد سعید نے مستحق افراد کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہمدرد کی مفت موبائل طبی ڈسپنسریوں اور مطب ہائے ہمدرد کا اجرا کیا۔ ان اقدامات کے ذریعے ایسے افراد تک طبی سہولتیں پہنچانے کی کوشش کی گئی جو مالی مشکلات کے باعث علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم رہ جاتے تھے۔ یہ خدمت آج بھی ہمدرد کے فلاحی مشن کی اہم روایت ہے۔انہوں نے طب کے فروغ کے ساتھ طبی سہولتوں کو عام آدمی تک پہنچانے پر خصوصی توجہ دی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ علاج معالجہ صرف صاحبِ استطاعت افراد تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کے محروم طبقات بھی اس سے مستفید ہوسکیں۔ پاکستان میں طبِ مشرق کے شعبے میں ان ڈور ہسپتال کے قیام کو بھی ان کی خدمات میں اہم مقام حاصل ہے۔
27 رمضان اور یومِ قیامِ پاکستان
حکیم محمد سعید نے 27 رمضان المبارک کو یومِ قیامِ پاکستان کے طور پر منانے کی تحریک شروع کی اور ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں اس حوالے سے خصوصی تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 27 رمضان المبارک کو پاکستان کا قیام محض اتفاق نہیں، بلکہ عطیہ ربانی ہے۔ نزولِ قرآن کی مبارک ساعتوں، شبِ قدر اور جمعہ الوداع کے بابرکت موقع پر پاکستان کا معرضِ وجود میں آنا ایک عظیم نعمت ہے، جس کی قدر کرنی چاہیے۔ ان کے نزدیک یومِ قیامِ پاکستان کو 27 رمضان المبارک کے حوالے سے بھی یاد کرنا چاہیے۔اسی جذبے کے تحت ادارہ ہمدرد میں اس روز تعطیل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان کی یہ تحریک پاکستان کی نظریاتی اساس سے وابستگی اور قومی تشخص کے شعور کو اجاگر کرنے کی کوشش تھی۔
سائنس پڑھو، آگے بڑھو
حکیم محمد سعید نے سائنسی تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے لیے ”سائنس پڑھو، آگے بڑھو“ کی تحریک چلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنس، علم اور حکمت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ قرآنِ کریم انسان کو تدبر، غور و فکر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ کے مزاج میں سائنسی سوچ پیدا کی جائے۔وہ چاہتے تھے کہ مسلم سائنس دانوں کی خدمات کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جائے، تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو کہ مسلمانوں نے علم و تحقیق کے میدان میں دنیا کو کیا کچھ دیا ہے۔ ان کے نزدیک سائنسی شعور، تحقیقی مزاج اور علم دوستی ہی قوموں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
آوازِ اخلاق اور کردار سازی
حکیم محمد سعید ملک و ملت کے بیشتر مسائل کا بنیادی سبب اخلاقی زوال کو سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک کسی قوم کی حقیقی ترقی صرف مادی وسائل یا معاشی خوش حالی سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے اعلیٰ اخلاق، دیانت داری، احساسِ ذمہ داری اور خدمتِ خلق بھی ضروری ہیں۔اسی مقصد کے تحت انہوں نے تحریکِ آوازِ اخلاق شروع کی اور اسی نام سے جریدہ شائع کیا۔ انہوں نے سپاہِ اخلاق کے نام سے ممبر سازی کی اور اس کے ارکان کے ذریعے معاشرے میں اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے کام کیا۔ان کا خواب تھا کہ ہر نونہال بلند اخلاق کا حامل ہو، ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور معاشرہ سچائی، دیانت، رواداری اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہو۔ ان کے نزدیک اخلاقی تربیت ہی ایک مضبوط اور مہذب قوم کی تشکیل کی بنیاد ہے۔
ہمدرد کتابستان اور علمی خدمات
حکیم محمد سعید نے ہمدرد کتابستان کے نام سے اشاعتی ادارہ قائم کیا، جس کے ذریعے اسلام، علم و ادب، سائنس، تعلیم، تاریخ اور ثقافت کے موضوعات پر کتب شائع کی گئیں۔ وہ خود بھی ایک کثیرالتصانیف مصنف تھے اور ان کے قلم سے دو سو سے زیادہ کتب منصة شہود پر آئیں۔ان کی تحریروں کا بنیادی مقصد علم کو عام کرنا، نئی نسل کی ذہنی و اخلاقی تربیت کرنا اور معاشرے میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنا تھا۔ وہ کتاب کو انسان کی فکری تربیت، شخصیت سازی اور قومی ترقی کا مو¿ثر ذریعہ سمجھتے تھے۔نونہالوں کے لیے ان کا پیغام ”جاگو اور جگاو¿“ علم، بیداری، عمل اور دوسروں میں شعور پیدا کرنے کی دعوت تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ بچے خود بھی علم حاصل کریں اور اپنے کردار و عمل سے دوسروں کی زندگیوں میں بھی روشنی پھیلائیں۔
سادہ زندگی اور ”ایک ناشتہ، ایک کھانا“
حکیم محمد سعید کی زندگی سادگی، نظم و ضبط اور کفایت شعاری کا نمونہ تھی۔ ان کی ایک تحریک ”ایک ناشتہ، ایک کھانا“ کے نام سے معروف تھی۔ وہ اپنی زندگی میں دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے تھے اور اس معمول کو صحت اور سادگی کے حوالے سے اہم سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سادہ طرزِ زندگی انسان کو غیر ضروری اخراجات سے بچانے اور صحت مند عادات اپنانے میں مدد دیتا ہے۔ وہ اس طرزِ عمل کو سنتِ رسول سے وابستگی اور معاشی و صحت کے مسائل میں اعتدال کے تناظر میں بھی بیان کرتے تھے۔شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعید کی زندگی محض ایک شخص کی کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ ایک عہد کی تعمیر، عزم و عمل اور خدمتِ خلق کی لازوال مثال ہے۔ انہوں نے ادارے قائم کیے، تحریکیں چلائیں اور علم و ادب، تعلیم و صحت، تہذیب و تمدن اور اخلاق کو ایک مربوط قومی و فکری بیانیے میں ڈھالا۔ان کی شخصیت کا امتیاز یہ تھا کہ وہ خواب دیکھنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ انہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے مسلسل محنت کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر شعبے میں علم، عمل، نظم و ضبط، خدمت اور قومی تعمیر کو اہمیت دی۔ ان کی قائم کردہ درس گاہیں، علمی ادارے، اشاعتی سلسلے، صحت عامہ کی تحریکیں اور فکری فورم ان کے مشن کی گواہی دیتے ہیں۔یہ مضمون ان کی خدمات کی مکمل فہرست نہیں، بلکہ ان کے وسیع علمی، تعلیمی، طبی، سماجی اور قومی کارناموں کا ایک مختصر جائزہ ہے۔ تاریخ انہیں ایک مصلحِ قوم، معلمِ قوم اور مجددِ طب کی حیثیت سے یاد رکھے گی۔شہید حکیم محمد سعید نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ اگر انسان کے دل میں قوم کی خدمت کا سچا جذبہ، ذہن میں واضح نصب العین اور عمل میں استقامت ہو تو ایک فرد بھی پورے معاشرے کی فکری، علمی اور اخلاقی تعمیر میں غیر معمولی کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ان کی زندگی میں تھا۔

شہید پاکستان حکیم محمد سعید

محسن قوم،سر سیداحمد خاں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے