#اداریہ

سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا تدارک ناگزیر ھے

Fahad 01

أج کا اداریہ

 وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر 90 فیصد فیک نیوز چل رہی ہیں، یہ نہیں ہوسکتا سوشل میڈیا پر جو چاہیں خبر لگادیں اور اب سوشل میڈیا پر غلط خبر پر کریک ڈاؤن کریں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نیشنل میڈیا پر غلط خبر چلتی ہے تو پیمرا کا نوٹس ہوتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر تصویر لگائیں، جو دل کرے وہ خبر چلائیں، یہ نہیں ہوسکتا سوشل میڈیا پر جو چاہیں خبر لگادیں۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں ہیں، بطور صحافی یقین رکھتا ہوں کہ آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے لیکن آزادی اظہار رائے اہمیت رکھتی ہے لیکن فیک نیوز کی اجازت نہیں، اب سوشل میدیا پر غلط خبر پر کریک ڈاؤن کریں گے
قبل ازیں گزشتہ ھفتے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موثر حکمت عملی کے تحت فیکٹ چیکنگ کا نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیاتھا
گزشتہ دو دھائیوں سے پاکستان میں صحافیوں کے علاوہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی ایک بڑی کھیپ پیدا ہوئی ہے جو سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل پر کھل کر اظہار رائے کرتے ہیں، اس میں بعض اوقات پاکستان کے عسکری، سویلین اور سیاسی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
بات صرف تنقید یا اظہاناپسندیدگی تامحدود ہوتی تو بھی قابل برداشت تھی جب معاملہ جھوٹ اور پروپیگنڈے تک پہنچا تو حکومت نے اس شتربے مہار یلغار کے أگے بندھ باندھنے کیلیے قانون سازی کی۔ صدر آصف علی زرداری نے رواں سال 29 جنوری کو پیکا ترمیمی بل پر دستخط کیے جس کے خلاف صحافیوں نے یوم سیاہ منایا تھا، ترمیمی قانون کے نفاذ کے بعد اس ایکٹ کے تحت مقدمات میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا اس حوالے سےکہنا تھا کہ ’صحافیوں کو اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہیے یہ جمہوریت کا حسن ہے اگر تنقید بھی ہو اس کو اصلاح کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
یادرھے رواں برس 22 جنوری کو حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے ایک بار پھر اس قانون میں کچھ ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کیں جنھیں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس کروائے جانے اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد پیکا قانون بنا دیا گیاتھا
حکومت نے نئے ترمیم شدہ قانون کو پیکا ترمیمی بل 2025 کا نام دیا تھا
صدرِ پاکستان کی منظوری کے بعد قانون بننے والے پیکا قانون کو ‘دی پریوینشن آف الیکٹرنک کرائمز (ترمیمی) بل 2025’ کا نام دیا گیا ہے جس میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو تحلیل کر کے ایک نئی تحقیقاتی ایجنسی تشکیل دیے جانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
قانون میں ‘سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی’قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن یا رجسٹریشن کی منسوخی اور معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو بھی یقینی بنائے گی۔
بل میں یہ بھی کہا گیا تھاکہ پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہو گی۔
اس بِل کے ذریعے پیکا ایکٹ میں ایک نئی شق، سیکشن 26 (اے) کو شامل کیا گیا ہے جو آن لائن فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سزا سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی جان بوجھ کر (فیک نیوز) پھیلاتا ہے جو عوام اور معاشرے میں ڈر، گھبراہٹ یا خرابی کا باعث بنے اس شخص کو تین سال تک قید یا 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں سے متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں ‘سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی’ کو درخواست دینے کا پابند ہو گا۔ اس اتھارٹی میں کل نو ممبران ہوں گے جبکہ سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین پیمرا بر بنائے عہدہ اس اتھارٹی کا حصہ ہیں۔
اس قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اتھارٹی سے رجسٹر کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عارضی یا مستقل طور پر بھی بند کیا جا سکتاھے۔
یہ اتھارٹی ‘نظریہ پاکستان کے برخلاف اور شہریوں کو قانون توڑنے پر آمادہ کرنے والے مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہے
اس قانون کے مطابق اتھارٹی پاکستان کی مسلح افواج، پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں کے خلاف غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کی مجاز ہو گی جبکہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی جانب سے حذف کیے گئے مواد کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہیں کیا جا سکے گا۔ اس قانون کے مطابق پابندی کا شکار اداروں یا شخصیات کے بیانات بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہیں کیے جا سکتے
وزیر داخلہ نے بیرون ملک بیٹھ کر ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے افراد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے افراد کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ جلد پاکستان واپس آ رہے ہیں اور انہیں ہر جھوٹ کا حساب دینا ہوگا۔
وزیر داخلہ کی اس گفتگو کو محض تنبیہہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس پر عمل درأمد کی ہدایات جاری کردی گئی ھیں۔

سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا تدارک ناگزیر ھے

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے