#کالم

ٹریفک چالان قانون کی حکمرانی یا وبال جان

Untitled 1665577

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
قانون کی حکمرانی کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ جہاں قانون نہ ہو، وہاں انصاف کی امید بھی دم توڑ دیتی ہے اور جہاں انصاف کا معیار بدل جائے، وہاں اجتماعی انتشار پیدا ہوتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان میں ٹریفک قوانین، خاص طور پر موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کے حوالے سے، جس سختی کے ساتھ نافذ کیے جارہے ہیں، اس نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے—آخر قانون کی حکمرانی اور نوجوانوں کے لئے سہولت یا نرمی کے درمیان مناسب توازن کیا ہونا چاہیے؟ کیا قانون صرف سزا دینے کا نام ہے یا اس میں ایک ایسا انسانی پہلو بھی مضمر ہے جو اصلاح کا راستہ دکھا سکے؟ یہ سوال آج نہ صرف والدین، اساتذہ، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے بلکہ خود نوجوان نسل بھی اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ ایک طرف سخت قوانین ہیں اور دوسری جانب اس سختی کے نتائج ان کی روزمرہ زندگی، تعلیم اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں کم عمر ڈرائیونگ، ہیلمٹ نہ پہننا، ون ویلنگ، اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نے حادثات اور اموات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ ہر سال سینکڑوں خاندان صرف اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ ان کے بچے ایک لمحے کی غلطی کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ حکومت پنجاب جب بھی سخت قوانین نافذ کرتی ہے تو اس کے پس منظر میں یہی اعدادوشمار ہوتے ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ نوجوان خود کو محفوظ رکھیں، پابندِ قانون ہوں، اور شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اس مقصد میں حکومت کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا سختی ہی واحد راستہ ہے؟ کیا ہزاروں روپے کے جرمانے، بائیک ضبطی، یا مقدمے درج کرنے جیسے اقدامات یقیناً نوجوانوں کی اصلاح کا سبب بنیں گے یا پھر یہ سختیاں ان کے لیے نئے مسئلے پیدا کر دیں گی؟ملک میں اکثر نوجوان طبقہ یونیورسٹیوں، کالجوں اور اکیڈمیوں تک آنے جانے کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد متوسط یا غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے، جن کے لیے موٹر سائیکل نہ صرف سواری بلکہ روزگار، وقت کی بچت اور تعلیمی سفر کا سہارا ہوتی ہے۔ جب ایسے طلبہ معمولی غلطی یا غلط فہمی کی بنیاد پر بھاری جرمانوں کا سامنا کرتے ہیں، تو ان کی تعلیم، ان کے خاندان اور ان کے مالی حالات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ ایک طالب علم کے پاس بائیک کے مکمل کاغذات نہیں ہوتے، کبھی نمبر پلیٹ ٹوٹی ہوتی ہے، کبھی ہیلمٹ خریدنے کی استطاعت نہیں ہوتی، کبھی کوئی غلطی پروفیشنل تربیت کے فقدان کے باعث ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں اگر قانون صرف سزا پر زور دے اور اصلاح کا دروازہ بند کر دے تو اس سے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں قانون نافذ کرنے کے دو بنیادی اصول ہوتے ہیں: اول، شہریوں کی جان، مال اور سلامتی کا تحفظ؛ دوم، ہر شہری کو قانون کا احترام سکھانا۔ لیکن ان دونوں اصولوں کے درمیان ایک نہایت باریک لکیر بھی ہوتی ہے—نرمی اور سختی کا توازن۔ ایسا توازن جس میں قانون نہ کمزور پڑے اور نہ شہری غیر ضروری سزاوں کے بوجھ تلے دب جائیں۔ پاکستان جیسے معاشرے میں یہ توازن اور بھی زیادہ اہم ہے، جہاں وسائل محدود ہیں، نوجوان مایوسی کا شکار ہیں، اور تعلیم تک رسائی پہلے ہی مشکل ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پنجاب سخت قوانین برقرار رکھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ”ویا میڈیا” یعنی درمیانی راستہ بھی فراہم کرے، خاص طور پر طلبہ کے لیے۔ ایک طالب علم جو پہلی یا دوسری مرتبہ غلطی کرے، اُس کے لیے جرمانے کے بجائے وارننگ، رہنمائی، یا ٹریفک آگاہی ورکشاپ میں شرکت جیسے متبادل اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ”ایجوکیشنل پینلٹی” کا تصور عام ہے۔ یعنی مجرم کو جرمانہ دینے کے بجائے اسے ٹریفک سیشن میں شرکت کرنا پڑتا ہے، ٹریفک ایتھکس پر لیکچر سننا پڑتا ہے، اور حقیقت میں وہ قانون کے مقصد کو سمجھ جاتا ہے۔ اگر یہی طریقہ پاکستان میں بھی نافذ کر دیا جائے تو یہ نوجوانوں کو سزا کے بجائے شعور دے گا۔اس کے علاوہ ٹریفک پولیس کو بھی تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ طالب علموں سے ڈیل کرتے وقت رویّے میں نرمی رکھیں۔ اکثر نوجوان شکایت کرتے ہیں کہ پولیس ان سے بات کرتے وقت سخت لہجہ اختیار کرتی ہے، جس سے مسئلہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھ جاتا ہے۔ ایک طالب علم جو ویسے ہی پریشان ہو، امتحانات، کلاسز، والدین کے دباؤ اور مالی مسائل میں گھرا ہو، اُس پر اگر مزید سختی کی جائے تو وہ حکومت سے دور ہو جاتا ہے نہ کہ قانون کے قریب۔ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ نوجوان نسل مستقبل کا چہرہ ہے۔ انہیں قانون سکھانے کے لیے سختی سے زیادہ حکمت، محبت اور سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم انہیں دشمن بنا کر پیش کریں گے تو وہ قانون سے بغاوت کریں گے، لیکن اگر ہم انہیں ذمہ داری کا احساس دلائیں گے تو وہ معاشرے کے مہذب ترین شہری بن کر سامنے آئیں گے۔ ٹریفک قوانین کی سختی اپنی جگہ درست ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ سہولت، شعور اور تنبیہہ بھی ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے محفوظ رہیں، لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا تعلیمی سفر بغیر رکاوٹ کے جاری رہے۔آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی مضبوط ہو، اس پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، مگر نوجوانوں کی اصلاح، انہیں صحیح راستہ دکھانا، ان کی ضروریات کو سمجھنا، اور ان کی حقیقی مشکلات کو مدنظر رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ایک باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جو قانون کو قوت کے ساتھ نافذ کرتا ہے، مگر عدل، نرمی، اور انسانیت کی روشنی بھی برقرار رکھتا ہے۔ لہٰذا ریاست کے اداروں، ٹریفک پولیس، والدین، اساتذہ اور خود نوجوانوں کو مل کر ایک ایسا

ٹریفک چالان قانون کی حکمرانی یا وبال جان

03/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے