#کالم

انصاف کے متلاشی

Untitled 14

جمع تفریق ۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی پر نظر دوڑائیں تو ہر بڑے ٹریفک حادثے کی وجہ کا مرکزی ملزم و مجرم٫٫ ٹائی راڈ ،،نامزد دکھائی دے گا لیکن جب الزام نہ قابل برداشت بنا تو سمجھدار کمپنی مالکان نے اپنی گاڑیوں میں٫٫ ٹائی راڈ ،،کی جگہ ایکسل اور چمٹے ڈال کر انہیں پہلے سے زیادہ محفوظ بنا دیا لیکن حقیقت میں بڑی گاڑیوں یعنی بسوں، ٹرکوں میں ابھی بھی٫٫ ٹائی راڈ،، ہی موجود ہے پھر سوال یہ ہے کہ اب حادثات میں اس کا نام کیوں نہیں آ تا؟ اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ٫٫ٹائی راڈ،، کے نام پر اس قدر انسانی جانیں ضائع ہوئیں کہ ذمہ داروں نے شرمندہ ہو کر از خود احتیاطی تدابیر کا سہارا لے لیا، اب دیسی اور لوکل غیر معیاری ٫٫ٹائی راڈ،، کا استعمال ہی نہیں کیا جاتا ،پہلی ترجیح جینون اور دوسری کابلی ہے اس لیے ٫٫ٹائی راڈ،، اب حادثات میں باعزت بری ہو جاتا ہے لیکن برسوں سے ایک نیا ٫٫چھپا مجرم،، معاشرے میں دندناتا پھر رہا ہے وہ انسانی اور مالی دونوں نقصانات کر رہا ہے لیکن قانون کے٫٫ لمبے ہاتھ،، اسے قابو نہیں کر سکے، ہر بار ناقابل برداشت نقصان پر نامزد کیا جاتا ہے شور شرابا بھی انتہائی ہوتا ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کر سکتا ،شہر لاہور کے ایک سے زیادہ پلازے اجاڑ کر اس نے تاجر برادری اور جز وقتی ملازمین کو بے روزگار کر دیا، سینکڑوں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے گھروں کے چولہے بجھا دیے، بہت سی زندگیوں کے چراغ گل کئے لیکن اس مجرم کی بدمعاشی میں کمی نہیں آ ئی، متاثرین انصاف کے لیے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں کیونکہ الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ مالکان پلازہ٫٫ انشورنس،، کے مال پر ڈاکہ مار کر خود پرسکون ہو جاتے اور تاجر ملازمین در بدر ، اس طاقتور ملزم و مجرم نے اس مرتبہ عدالتوں کا نشانہ بناتے ہوئے ایل۔ ڈی۔ اے کمپلیکس پر حملہ کر دیا، بنیادی اطلاعات کے مطابق نقصان قابل برداشت ہے لیکن سرخ فیتے اور سرکاری کاروائی کے باعث 16۔ اکتوبر سے بلڈنگ حفاظتی تحویل میں ہے، اس بلڈنگ کی چھ منزلووں پر تقریبا 80 سے 100 عدالتیں قائم ہیں جن میں تیز انصاف دینے والی٫٫ اوورسیز عدالتیں،، بھی موجود ہیں ایک اندازے کے مطابق ہر عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطا 50 سے 100 مقدمات پر کاروائی ہوتی تھی، اندازہ آ پ خود لگا لیں کہ ہر روز کتنے سائل ،وکلا، منشی، گواہان، ججز اور عدالتی ملازمین انتظامی بے حسی کا نشانہ بنے ہیں جبکہ ملزم بہادر٫٫ شارٹ سرکٹ،، آ دم زادوں کی بے بسی پر منہ چڑھا رہا ہے کہ کر لو جو کرنا ہے؟ ابتدائی رپورٹ میں آ گ نے صرف پہلی اور دوسری منزل کو نقصان پہنچایا لیکن کارکردگی ملاحظہ فرمائیں، پوری بلڈنگ ٫٫بلڈنگ رولز،، کے مطابق خطرناک قرار دے کر غیر محفوظ قرار دے دی گئی ہے لہذا کوئی نہیں جانتا کہ ایل۔ ڈی۔ اے کمپلیکس کی یہ عدالتی عمارت کب دوبارہ بحال ہوگی اور جب تک انصاف کے متلاشی کہاں سر کھپائیں گے ؟ذرا سوچیے ..کہ اس عدالتی نظام سے منسلک جز وقتی روزگار والوں کا کیا بنے گا؟ اس عدالتی عمارت کے باہر پارکنگ کا ٹھیکہ بھی کروڑوں میں دیا جاتا ہے ٹھیکے داروں سے وابستہ ملازمین بھی بے روزگار ہو گئے اور چنے، بسکٹ، پانی، مشروبات بیچنے والے پھیری مزدور بھی اپنی دو وقت کی روٹی کمانے سے معذور ہو گئے، میرے خیال میں جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ ٫٫منشی،، ہے جسے ہر سائل کی پیشی پر کسی نہ کسی بہانے سے کچھ نہ کچھ ملنے کی امید ہوتی ہے اور اس کی سفید پوشی قائم رہتی ہے جو اس وقت خطرے میں پڑ چکی ہے
انصاف کے متلاشی عدالتوں میں برسوں سے چکر لگا لگا کر گھن چکر ہو چکے ہیں ایسے میں ٫٫شارٹ سرکٹ،، کی بدمعاشی انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہے ہمارے دوست ٹوٹو میاں آ ف موچی دروازہ کا دعوی ہے کہ ان کا کیس٫٫ اوورسیز عدالت،، میں تھا جس وقت یہ مقدمہ مخالفین نے چار سال کی بھاگ دوڑ کے بعد زبردستی درخواست دے کر اسے اوورسیز عدالت میں ٹرانسفر کرا دیا تھا تو دوستوں نے ڈھارس دی تھی کہ گھبراؤ نہیں ان عدالتوں میں انصاف جلدی ملتا ہے یہ تارکین وطن کی سہولت کے لیے خصوصی عدالتیں ہیں تاکہ سمندر پار بسنے والوں کا اعتماد بحال ہو جائے لیکن صاحب یہاں بھی مزید چار سال لگ چکے ہیں کبھی وکیل نہیں، کبھی جج صاحب چھٹی پر اور کبھی گواہ راہ فرار اختیار کر جاتا ہے اور اگر یہ سب معاملات مثبت ہو بھی جائیں تو وکلا برادری کسی بھی مسئلے پر سراپا احتجاج ہو کر عدالتی بائیکاٹ کر دیتی ہے پھر بولے، ہمارے کیس میں مخالف وکیل صاحب نے آ خری گواہ پر جرح مکمل کرنی ہے پھر بحث ہوگی اور فیصلہ آ جائے گا لیکن ہمارا عدالتی نظام اس قدر اچھا ہے کہ تقریبا آ ٹھ، دس ماہ سے وکیل صاحب نے مختلف حیلے بہانوں سے اس کاروائی کو مکمل ہی نہیں کیا، ہر پیشی پر منشی بھیج کر وقت مانگ لیتے ہیں اور پھر انتظار، انتظار اس قدر انتظار کے گواہ بیزار ہو کر چلا جائے یا آ خری وقت میں آ کر فرما دیتے ہیں کہ ہائی کورٹ میں تھا اب تو وقت کم ہے جرح مکمل نہیں ہو پائے گی لہذا نئی تاریخ دے دی جائے، اگلی۔مرتبہ منشی قبل از وقت آکر اطلاع دے دیتا ہے کہ آ ج وکیل صاحب کی طبیعت ناساز ہے وہ شاید نہیں آ سکیں، جج صاحب شاید کے چکر میں انتظار کا حکم فرماتے ہیں لیکن جس نے نہیں آ نا ،اس نے نہیں آ نا، جج صاحب ہمیں تسلی دینے کے لیے کبھی جرمانے کرتے ہیں کبھی آخری موقع کا فیصلہ دیتے ہیں اور پھر وہ آ خری موقع پر اچانک نمودار ہو کر حاضری لگواتے ہیں اور پھر دوبارہ آ نے کا وعدہ کر کے غائب ہو جاتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، جج صاحبان مصلحت پسندی کا شکار لگتے ہیں اس لیے کہ وکلاء برادری منہ پھٹ ہے، کوئی جج تھوڑی سی سختی کرے تو اس پر جانبداری کا الزام لگا کر

انصاف کے متلاشی

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے