#کالم

سو لفظوں کی کہانی

111

صلح

ہاں بھئی دوسو سے ایک عرصے سے تمہاری ناراضگی تھی نا،
معمالات ختم ہو چکے ہیں نا،
اور اب تو یقیناً صلح ہو گئی ہے،
اب مکمل مطمئن ہو؟
میں نے باٹو کے کندھے پر زور سے تھپتپھاتے ہوئے کہا۔۔۔
یقیناً آج دونوں میں صلح ہو گئی تھی،
پھر بھی نہ جانے کیوں باٹو کے چہرے پر اداسی تھی،
صلح ہو جانے پہ تو لوگ خوشی مناتے ہیں، تم کو کیا ہوا؟
پھر پوچھا۔۔۔
دونوں دوست تھے، مگر ناراض۔۔۔
اوہ پھر مجھے باٹو کی صلح کے باوجود اداسی کی وجہ سمجھ آ گئی،
کیوں کہ،
دوسو آج کفن میں تھا۔

سو لفظوں کی کہانی

انصاف کے متلاشی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے