سو لفظوں کی کہانی
صلح
ہاں بھئی دوسو سے ایک عرصے سے تمہاری ناراضگی تھی نا،
معمالات ختم ہو چکے ہیں نا،
اور اب تو یقیناً صلح ہو گئی ہے،
اب مکمل مطمئن ہو؟
میں نے باٹو کے کندھے پر زور سے تھپتپھاتے ہوئے کہا۔۔۔
یقیناً آج دونوں میں صلح ہو گئی تھی،
پھر بھی نہ جانے کیوں باٹو کے چہرے پر اداسی تھی،
صلح ہو جانے پہ تو لوگ خوشی مناتے ہیں، تم کو کیا ہوا؟
پھر پوچھا۔۔۔
دونوں دوست تھے، مگر ناراض۔۔۔
اوہ پھر مجھے باٹو کی صلح کے باوجود اداسی کی وجہ سمجھ آ گئی،
کیوں کہ،
دوسو آج کفن میں تھا۔






