#کالم

نیو یارک کے نومنتخب میئر زہران ممدانی

Fahad 01

آج کا اداریہ

میئر آف نیویارک منتخب ہونے کے بعداپنے پہلے خطاب میں زہران ممدانی نے کہا کہ نیویارک آج ڈونلڈ ٹرمپ کےسامنے کھڑا ہوگیا ہے،ٹرمپ جیسوں کا راستہ ہم اسطرح روکیں گے،ایسےارب پتی ٹیکس بچاتے تھےاب ایسا نہیں ہوگا،آج ایک تارک وطن نیویارک کی قیادت کر رہا ہے،نیویارک تارکین وطن کا شہر رہے گا۔
مزید کہا آج امید کو پیسے پر فتح ملی ہے،عوام کو سیکیورٹی اور انصاف ملے گا،حکومت کے ہر شعبے میں آپ کو تبدیلی نظر آئے گی،آپ تارکین وطن ہیں یاسیاہ فام،ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں،10 لاکھ مسلمان خود کو اس شہر کا حصہ سمجھیں گے
یہ شہر بھی آپ کا ہے یہ جمہوریت بھی آپ کی ہے،نیویارک صرف امیروں کا شہر بن کر رہ گیا تھا، 
یہ فتح میری نہیں، اس شہر کے عام آدمی کی فتح ہے،ہم آپ کیلئے لڑیں گےکیونکہ ہم آپ میں سے ہیں،زہران ممدانی تقریر کے دوران قرآن کریم کی آیات بھی پڑھتے رہے
زہران ممدانی جو مسلم اور جنوبی ایشیائی نسل کے میئر بنے ہیں، انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے اور متنوع شہروں میں سے ایک کے لوگوں کو اپنی قیادت پر اعتماد پر آمادہ کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔
ان کی جیت نے دنیا کی ترقی پسند قوتوں میں ایک ایسے وقت میں امیدیں پیدا کی ہیں جب عالمی سطح پر انتہائی دائیں بازو کا زور عروج پر ہے۔ زہران ممدانی صحیح معنوں میں دنیا کے شہری ہیں۔ ان کے والدین کی جڑیں برصغیر میں ہیں، وہ خود یوگنڈا میں پیدا ہوئے جس کے بعد وہ امریکی شہری بنے جبکہ زہران کی اہلیہ کا تعلق شام سے ہے۔
شہر میں اندرونی سطح پر انہوں نے کام کرنے والے طبقے سے تعلق رکھنے والے مردوں اور خواتین، تارکین وطن کمیونٹیز اور نوجوان ووٹرز کو جو پیش کش کی ہیں، وہی ان کی شاندار فتح میں مددگار ثابت ہوئیں۔ اپنے طور پر سوشل ڈیموکریٹ کی مہم میں انہوں نے اعلیٰ اشرافیہ پر ٹیکس بڑھا کر زندگی کے بحران کا مقابلہ کرنے کا وعدہ کیا۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر وہ فلسطین کے سخت حامی ہیںنیویارک سٹی کے میئر کے طور پر زہران ممدانی کے غیر معمولی عروج نے یورپ کی بائیں بازو کی جماعتوں میں ایک نیا حوصلہ پیدا کر دیا ہے کہ اپنے ملکوں میں دائیں بازو کی قوتوں کے خلاف ایک بے جھجک اور انقلابی ایجنڈا حالات کو بدلنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
لندن سے برلن تک کی جماعتوں نے 34 سالہ ممدانی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ممدانی خود کو "ڈیموکریٹک سوشلسٹ” کہتے ہیں۔ کرایہ کنٹرول کے وعدے، اور امیروں پر ٹیکس لگانے کے منصوبے کی ان کی وائرل ویڈیوز، نے ایک ایسے شہر میں ووٹروں کے دلوں کو جیت لیا جو عالمی سرمایہ داری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جرمنی کی دی لیفٹ پارٹی اور برطانیہ کی گرین پارٹی جیسی جماعتیں ممدانی کی جیت سے تحریک حاصل کرنے کی امید کر رہی ہیں۔ وہ اب یہ بات کھلے طور پر کہہ رہی ہیں کہ وہ اپنی پالیسیوں کو نرم نہیں کریں گی اور نہ ہی دائیں بازو کے مہاجرت مخالف بیانیے میں الجھیں گی۔
اسی طرح فرانس کے بائیں بازو کے رہنما بھی، جہاں 2027 تک صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں، زہران ممدانی کی کامیابی سے متاثر اور پُرعزم نظر آئے۔
فرانس کی انتہائی بائیں بازو کی جماعت ‘فرانس ان باؤڈ‘ (ایل ایف آئی) کی رہنما مانون اوبری نے ایکس پر لکھا، ”بالآخر، پوری دنیا کی بائیں بازو کی جماعتوں کے لیے ایک سبق۔ ہم معاشی لبرل ازم کو کمزور کر کے نہیں جیتتے، بلکہ اس کے خلاف ڈٹ کر اور پوری قوت سے لڑ کر کامیاب ہوتے ہیں۔‘‘تاہم ان تمام تر تجزیاتی و تصوراتی بحث کے بعد یہ بھی دھیان رہے کہ زہران ممدانی جب بطور میئر اپنا کام شروع کریں گے تو انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترقی پسند خیالات اور اپنے مذہب اور نسلی پس منظر پر فخر کرنے کی وجہ سے بھی کچھ طاقتور لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں۔ ان کے سب سے بڑے ناقدین میں سے ایک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جنہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’کمیونسٹ‘ کہا اور یہاں تک کہ زہران ممدانی کے میئر بننے کی صورت میں نیو یارک شہر کے لیے وفاقی فنڈنگ روکنے کی دھمکی بھی دی۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ نے زہران کی توثیق میں سست روی کا مظاہرہ کیا جبکہ نیویارک کے نئے میئر کو انتخابی مہم کے دوران مذہب، نسلی پس منظر حتیٰ کہ کھانے پینے کی عادات کی بنیاد پر بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر طاقتور صہیونی لابی کے خلاف مزاحمت کرنے پر یہود مخالف ہونے کا بھی الزام لگایا گیا۔
یہ تمام منفی قوتیں زہران ممدانی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی رہیں گی۔ اس کے باوجود ان کی جیت اور لندن کے میئر کے طور پر صادق خان کی کامیابی، مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف انتہائی دائیں بازو کے ناروا سلوک کی زبردست مذمت ہے۔
ان دونوں کے سیاسی سفر ظاہر کرتے ہیں کہ مغرب میں بہت سے نوجوان ووٹرز ایسے امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں جو سماجی اور اقتصادی انصاف کے پلیٹ فارم کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں امیدواروں کے نسلی یا اعترافی پس منظر کی زیادہ پروا نہیں۔
نسل پرست اور اسلاموفوبا اب بھی ایک دوسرے کے خلاف خوف پھیلا رہے ہیں لیکن زہران ممدانی کی جیت نے نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔
زہران ممدانی کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ وہ جماعتیں جو انتخابات جیتنا چاہتی ہیں، یا دائیں بازو کی عوامی (پاپولسٹ) جماعتوں کو ووٹروں کے نقصان سے بچنا چاہتی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے بنیادی مسائل پر قائم رہیں اور موجودہ مسائل کے حل کے لیے اپنے منفرد حل پیش کریں، بجائے اس کے کہ وہ دائیں بازو کی نقل کر کے مہاجر مخالف پالیسیوں کو اپنائیں۔

نیو یارک کے نومنتخب میئر زہران ممدانی

انصاف کے متلاشی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے