شاہینوں نے انڈیا کیلیے خطرے کی گھنٹی بجادی
آج کا اداریہ
ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے کے اہم ترین میچ میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو 11 رنز سے شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اب اتوار 28 ستمبر کو ایک بار پھر پاکستان کا مقابلہ روایتی حریف انڈیا سے ہوگا۔ اس سے پہلے انڈیا سے دو بار اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
جمعرات کے میچ میں حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی نے تین تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ حارث رؤف نے چار اوورز میں 33 رنز دیے اور تین وکٹیں حاصل کی ہیں۔ شاہین آفریدی نے چار اوورز میں 17 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ شاہین شاہ آفریدی نے 13 گیندوں پر 19 رنز بھی بنائے اور مین آف دی میچ کا قرعہ بھی ان کے نام ہی نکلا۔
گزشتہ روز کھیلے گئے میچ میں مشکل وکٹ پر بنگلہ دیش کے خلاف پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر مشکلات کا شکار نظر آئی اور مقررہ 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر صرف 135 رنز ہی بنا سکی۔
سپر فور کے میچ میں بنگلہ دیش کے مستقل کپتان لٹن داس کی غیر موجودگی میں کپتانی کے فرائض انجام دینے والے جاکر علی نے ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی
پاکستانی اوپنر صاحبزادہ فرحان صرف چار رنز ہی بنا سکے۔ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے صائم ایوب ایک بار پھر صفر پر آوٹ ہوگئے ۔ وہ ایشیا کپ میں چوتھی بار صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں۔
فخر زمان بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور 20 گیندوں پر 13 رنز اور حسین طلعت تین رنز بناکر رشاد حسین کا ہدف بنے۔ کپتان سلمان آغا بھی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام ہوئے اور 19 رنز بنا کر مستفیض الرحمان کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان کو چھٹا نقصان 14ویں اوور میں 71 رنز پر ہوا جب شاہین شاہ آفریدی بڑی ہٹ مارنے کی کوشش میں 19 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
محمد حارث 31 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ محمد نواز نے 25 اور فہیم اشرف نے 14 رنز بنائے۔
بنگلہ دیش کے تسکین احمد نے چار اوورز میں 28 رنز دیے اور تین وکٹیں حاصل کیں۔ مستیفض الرحمان نے چار اوورز میں 33 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
ٹاس کے وقت گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ ہم ٹاس جیت کر بیٹنگ کا ہی فیصلہ کرتے۔ انھوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف جیت کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے اور پلان کے مطابق کھیلنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان نے سپر فور مرحلے میں انڈیا سے پہلا میچ ہارنے کے بعد سری لنکا کو شکست دی تھی جب کہ بنگلہ دیش بھی سپر فور مرحلے میں سری لنکا کوشکست دے چکا ہے۔
بنگلہ دیش کے بلے باز بھی زیادہ تر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ بنگلہ دیش کے شمیم حسین نے 25 گیندوں کا سامنا کیا اور 30 رنز بنائے۔ سیف حسین نے 15 گیندوں کا سامنا کیا اور 18 رنز بنائے۔
پرویز حسین صفر پر آؤٹ ہوئے، توحید ہیریدوئی نے پانچ، مہدی حسن نے 11، کپتان جاکر علی نے پانچ، تسکین احمد نے چار رنز بنائے۔ ناٹ آوٹ رہنے والے راشد حسین نے 16 جبکہ مستفیض الرحمان نے چھ رنز بنائے
اس طرح یہ معرکہ جو سیمی فائنل کی صورت اختیار کر گیا تھا پاکدتان نے مارکر مجموعی طور پر پانچویں بار فائنل تک رسائی حاصل کرلی۔
یاد رہے بھارت آٹھ بار ایشیا کپ جیت کر حطے کا بے تاج بادشاہ ہے جبکہ پاکستان نے صرف دوبار ایشیا کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کرپایا۔
یوں تو ایشیا کپ کی تاریخ تقریباً 41 سال پرانی ہے تاہم یہ ایک ناقابل یقین بات ہے کہ روایتی حریف پاکستان اور بھارت ایشیا کپ کے فائنل میں کبھی آمنے سامنے نہیں آئے۔
پہلی مرتبہ 1984 میں کھیلے گئے ایشیا کپ سے 2023 تک 16 مرتبہ کھیلے جانے والے ایونٹ میں پاکستان اور بھارت نے آپس میں کئی میچز کھیلے تاہم دونوں ٹیمیں کبھی فائنل میں مدمقابل نہ آسکیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب روایتی حریف فائنل میں ٹکرائیں گے۔ گروپ اور سپر فور مرحلے میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے تاہم کپتان سلمان آغا فائنل میں جیت کے لیے پر امید ہیں.اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں تسلسل نہیں لیکن کارکردگی پہلے سے بہتر ہورہی ہے۔ اس ٹیم کوغیر متوقع نتائج دینے والی ٹیم سمجھا جاتا ہے جبکہ بھارت کے حوالے سے مشہور ہے کہ ناک آوٹ میچ میں ٹیم کہیں نہ کہیں چوک جاتی ہے اور منزل کے قریب آکر منزل کھو دیتی ہے






