#کالم

ٹکراو کی سیاست ملک کے لیے تباہ کن

rafeh s

رفیع صحرائی

بدقسمتی سے پاکستان ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کے ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط قدم حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا بے نتیجہ اختتام، خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، لانگ مارچ اور اسے روکنے کے حکومتی اعلانات اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ سیاسی درجہ حرارت ایک مرتبہ پھر خطرناک حد تک بلند ہو چکا ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے آپشن پر غور کر رہی ہے تو دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے بھی واضح کر دیا ہے کہ مارچ کو اسلام آباد یا ڈی چوک تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ صورتحال کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف جب ضد، انا اور تصادم میں تبدیل ہو جائے تو جمہوریت کی روح مجروح ہوتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے مگر ریاست اور عوام مستقل ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن ملک کے ادارے، معیشت اور عوام اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت سیاسی استحکام کی ہے۔ معیشت ابھی مکمل طور پر مشکلات سے باہر نہیں نکلی، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہیں، کاروباری طبقہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور متوسط طبقہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل دباو¿ برداشت کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر سڑکیں احتجاج، دھرنوں اور تصادم کا منظر پیش کریں تو سب سے زیادہ نقصان اسی عام شہری کا ہوتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔سیاست دانوں کی اقتدار کی رسہ کشی میں مراعات یافتہ طبقے کو شاید فوری طور پر کوئی بڑا نقصان محسوس نہ ہو، لیکن ایک دیہاڑی دار، دکاندار، مزدور، طالب علم، مریض اور ملازمت پیشہ شخص کے لیے سڑکوں کی بندش، کاروبار کی معطلی اور بدامنی براہِ راست مسئلہ بن جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کی سیاسی کشمکش نے عوام کے سکون کو جس طرح متاثر کیا ہے، اب اس سلسلے کو رکنا چاہیے۔ سیاست دانوں کو اب عوام پر رحم کرنا ہوگا۔یہ بات کہ لانگ مارچ میں کتنے افراد شریک ہیں، کتنے نہیں، یا ملک کے دیگر حصوں سے کتنی پذیرائی مل رہی ہے، یہ ثانوی سوال ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی ماحول میں تناو¿ موجود ہے اور ملک کو ایک مرتبہ پھر تصادم کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ عوام بھی عملاً تین حصوں میں تقسیم دکھائی دیتے ہیں: ایک طبقہ لانگ مارچ کا حامی، دوسرا مخالف اور تیسرا اس معاملے میں غیر جانب دار ہے۔ یہ تقسیم اگر مزید گہری ہوئی تو اس کے اثرات معاشرتی ہم آہنگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ جو پہلے ہی کافی کمزور ہو چکی ہے۔ روزمرہ کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں کہ سیاسی ختلاف ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو کر قتل و غارت تک جا پہنچے۔سیاسی عدم استحکام کا ایک بڑا نقصان معیشت کو ہوتا ہے۔ سرمایہ کار ایسے ملک میں سرمایہ لگانا پسند کرتے ہیں جہاں پالیسیوں کا تسلسل، قانون کی حکمرانی، امن و امان اور سیاسی استحکام موجود ہو۔ حکومت نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل جیسے اقدامات کیے ہیں، لیکن سرمایہ کاری صرف ادارے بنانے سے تو نہیں آتی۔ سرمایہ کار کو اعتماد، تسلسل اور مستقبل کی ضمانت بھی درکار ہوتی ہے۔ مسلسل احتجاج، محاذ آرائی اور سیاسی بحران اس اعتماد کو کمزور کرتے ہیں جس کے نتیجے میں سرمایہ کار اپنا سرمایہ ڈوبنے کے خوف میں مبتلا ہو کر منہ موڑ لیتا ہے۔ہمیں یہ سبق بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں شدید ترین تنازعات کے فریق بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر آتے ہیں۔ جنگیں ہمیشہ کسی نہ کسی مرحلے پر بات چیت کے ذریعے ختم ہوتی ہیں تو سیاسی اختلافات مذاکرات کی میز پر حل کیوں نہیں ہو سکتے؟ اگر دو متحارب ملک مذاکرات کر سکتے ہیں تو ایک ہی ملک کے سیاسی فریق کیوں نہیں کر سکتے؟ اختلاف اپنی جگہ، لیکن مذاکرات کا دروازہ بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ یہاں تو ایک دوسرے کی نیتوں پر بھی فریقین شک کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی پوزیشن میں کچھ لچک پیدا کریں۔ مذاکرات کسی کی فتح یا شکست کا نام نہیں، یہ ریاست اور عوام کے وسیع تر مفاد میں درمیانی راستہ تلاش کرنے کا عمل ہیں۔ حکومت کو بھی اپوزیشن کے جائز سیاسی مطالبات سننے چاہئیں اور اپوزیشن کو بھی احتجاج کے آئینی حق کو تصادم میں تبدیل کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اداروں کو بھی اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے سیاسی کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان اس وقت کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک کو سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے نہیں، پارلیمان میں دلیل کی طاقت درکار ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، تعلیم، صحت اور معیشت جیسے اصل مسائل کو شکست دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عوام مزید سیاسی تجربات اور تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہیں امن، روزگار، سستی اشیائے ضروریہ اور بہتر مستقبل چاہیے۔ سیاسی اختلاف جمہوری حق ہے، لیکن سیاسی دشمنی ملک کی قسمت نہیں بننی چاہیے۔ پاکستان کو ٹکراو¿ نہیں، مکالمہ چاہیے؛ ضد نہیں، مفاہمت چاہیے؛ انتشار نہیں، استحکام چاہیے۔ اگر سیاسی قوتیں اس بنیادی حقیقت کو سمجھ لیں تو موجودہ بحران بھی ایک نئے سیاسی اتفاقِ رائے کا نقط? آغاز بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ٹکراو¿ کی یہ سیاست صرف حکومت یا اپوزیشن کو نہیں، پورے پاکستان کو نقصان پہنچائے گی۔ سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایوان اقتدار کی کرسیاں بدلتی رہتی ہیں، مگر اس ملک کے عوام وہی رہتے ہیں جو ہر بحران کی قیمت مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور اضطراب کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست دان عوام کو مزید آزمائش میں نہ ڈالیں۔ ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے غربت، مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی اور معاشی بدحالی کو شکست دینے کے لیے متحد ہوں۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کسی کی شکست نہیں بلکہ سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔

ٹکراو کی سیاست ملک کے لیے تباہ کن

09/10/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے