مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر حملہ،پوری اسلامی دنیا کے قلب پر حملہ
سہیل بشیر منج
مدینہ منورہ کی مقدس سر زمین کی سمت بڑھتا ہوا ڈرون صرف ایک برقی تنصیب پر حملہ نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے قلبی احساسات اور روحانی سکون پر براہ راست دشت گردی کا ایک ہولناک تیر تھا طیبہ گرڈ اسٹیشن جیسے حساس اور خدمت خلق کے حامل مرکز کو نشانہ بنا کر حوثی باغیوں نے اپنے اس ناپاک اور خوفناک عزائم کا خونی ثبوت دیا ہے جن کے پس پردہ مشرق وسطی کی طاقت کا توازن بگاڑنے اور بحیرہ احمر کی راہوں میں بارود کی بو پھیلانے کی گہری سازشیں چھپی ہیں حوثی ترجمان کی کھوکھلی تردیدوں اور ظاہری حیلے بہانوں سے اس تلخ حقیقت کو نہیں چھپایا جا سکتا کہ وہ اپنے انجام کی خوفناک اور تباہ کن ہولناکی سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود اس آگ میں کیوں کودے دراصل وہ سعودی عرب کی جانب سے ابھرتی ہوئی معاشی اور سیاسی حکمت عملی کے قدم روکنے کے لیے اس قدر پاگل اور باو¿لے ہو چکے ہیں کہ اب وہ فوجی مورچوں پر جرات دکھانے کے بجائے شہری خدمات اور مسجد نبوی کے تقدس سے جڑی تنصیبات پر حملہ آور ہو کر پوری دنیا کو یہ خوفناک پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کی فرسودہ انتقامی سیاست کے سامنے کسی مقدس سے مقدس مقام کی حرمت باقی نہیں رہی یہ دراصل ایک شکست خوردہ اور مایوس ذہنیت کا اخلاقی دیوالیہ پن ہے جو خطے میں حواس باختگی پھیلا کر خود کو سیاسی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے بچانے کی ناکام اور آخری کوشش کر رہا ہے لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ روضہ رسول کے پاسبانوں اور حق کی طاقت کے سامنے باطل کا یہ خطرناک اور بھیانک کھیل بالآخر خود ان کی اپنی تباہی کا حتمی پروانہ ثابت ہو گا۔ مدینہ منورہ کی فضاو¿ں میں امن و سکون کے بدلے بارود کی بدبو پھیلانے کی ناپاک کوشش نے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے سینوں کو زخمی اور دلوں کو خون کے آنسو رلا دیا ہے شہر نبی کی مقدس حدود اور مسجد نبوی سے منسلک خدمت خلق کی تنصیبات کو جنگ و جدل کی لپیٹ میں لانے والی شیطانی طاقتوں اور حوثی شرپسندوں نے دراصل ہر کلمہ گو کے اعتماد کو مرکزی نقطے پر کاری ضرب لگائی ہے اس ناپاک اور بھیانک حرکت نے پورے عالم اسلام پر غم و الم کے سیاہ بادل چھا دیے ہیں اور آج ہر مسلمان ایک شدید کرب اور بے پناہ تڑپ کی کیفیت میں مبتلا ہے او آئی سی رابطہ عالم اسلامی اور قاہرہ سے لے کر پاکستان کے گلی کوچوں تک پھیلا یہ زبردست غم و غصہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حرمین شریفین کا تقدس اور تحفظ کسی ایک جغرافیائی ریاست کا سرحدی معاملہ نہیں بلکہ ہر مومن کی روح اور ایمان کی بقا کا بنیادی حصہ ہے حوثی باغیوں اور ان کے پس پردہ کار فرما ابلیسی حربوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انہوں نے رسول پاک کے آستانے کی حرمت پر دباو¿ بڑھا کر نہ صرف خود کو تمام مذہبی مکاتب فکر کی نظروں میں ملعون ٹھہرا دیا ہے بلکہ پور عالم اسلام کو ایک ایسے شدید غیظ و غضب کی آتش فشاں پر کھڑا کر دیا ہے جس کا انجام ان غیر ریاستی عناصر کی مکمل سیاسی اور اخلاقی تباہی پر ہی ختم ہوگا مسلم امت کے یہ تڑپتے ہوئے دل اور سلگتی ہوئی آہیں اب کسی سفارتی مذمت یا رسمی بیانات تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ یہ روحانی بیداری اور شدید عوامی دباو¿ ایک ایسا ہمہ گیر طوفان بنے گا جو ان تمام تخریب کار اور شیطانی وجودوں کو نیست و نابود کر کے تاریخ کے سیاہ کوڑے دان میں ہمیشہ کے لیے غرق کر دے گا۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے حرمین شریفین کے قریبی اور مقدس ترین خطے مدینہ منورہ کے حساس انفراسٹرکچر پر حملے اسلامی دنیا کے لیے انتہائی تشویش ناک ہیں ایسے جارحانہ اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام پھیلانے والی استعماری اور دشمن اسرائیلی اور شیطانی طاقتوں کے مقاصد کو تقویت دیتی ہیں اور عین ممکن ہے کہ ان کو مقدس مقامات پر حملے کرنے کے لیے اسرائیل اور شیطانی طاقتوں کی مالی معاونت بھی حاصل ہو چکی ہو اسرائیل کی شیطانی طاقتیں ہمیشہ سے مسلمانوں کے اتحاد اور مقدس مقامات کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔اس بڑھتے ہوئے سیکیورٹی بحران اور حرمت حرمین پر منڈلاتے خطرات کے پیش نظر پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کا مکہ دفاعی معاہدے کے تحت طلب کیا جانے والا ہنگامی اجلاس محض رسمی گفتگو کا میدان نہیں بلکہ اسلامی دنیا کی مشترکہ عسکری طاقت کے اس غیظ و غضب کا مظہر ہے جسے مبصرین اسلامی ناٹو کا پہلا عملی امتحان قرار دے رہے ہیں اس نازک موڑ پر ایران کی خاموشی اور مبہم پوزیشن بھی اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ غیر ریاستی عناصر کو گود میں کھلانے والے اب اپنے بنے ہوئے جال میں خود الجھ چکے ہیں اور اپنے پرورش یافتہ فتنے کو حتمی تباہی سے بچانے کی صلاحیت کھو چکے ہیں حوثی باغی اور ان کے سرپرست یہ بات روز روشن کی طرح عیاں سمجھ لیں کہ اگر انہوں نے دوبارہ شہر نبی یا حرمین کی سمت میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات بھی کی تو اب کی بار کوئی سفارتی مہلت نہیں ملے گی بلکہ ان کی گردنوں پر ایسا فیصلہ کن عسکری وار ہوگا جو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے گا اس فتنے کے ہمیشہ کے لیے قلع قمع کے لیے اب محض مذمتی بیانات کے بجائے مشترکہ فضائی سیکیورٹی کو لوہے کی دیوار بنانا ہوگا انٹیلی جنس معلومات کا فوری اور براہ راست تبادلہ یقینی بنانا ہوگا اور باب المندب سے لے کر تمام سمندری راستوں پر ان کی بیرونی امداد کی رگوں کو مکمل طور پر کاٹنا ہوگا سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو جدید ترین فضائی دفاعی نظام کی تنصیب اور پیشگی دفاعی حملوں کی ایسی جارحانہ حکمت عملی اپنانی ہوگی کہ دشمن کے کسی بھی ڈرون کی پرواز سے پہلے ہی خاک میں ملایا جا سکے حوثیوں کے لیے واضح اور دوٹوک پیغام ہے کہ ان کا گھیرا تنگ ہو چکا ہے اور کسی بھی وقت ہونے والا ایک ہمہ گیر اور تباہ کن حملہ ان کی فرسودہ عسکری کمر توڑ کر اس فتنے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دے گا۔






