کون ہے جو آپ کی خاموشی سمجھتا ہے ؟
جاویدایازخان
میں جب بھی والدین کی قبروں پر حاضری دیتا ہوں تو ہمیشہ ان کی فاتحہ خوانی اور دعا کے بعد ان دونوں سے ایک معافی ضرور مانگتا ہوں کہ زندگی بھر میں ان سے جھوٹ بولتا اور دھوکہ دینے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔مجھے اپنے اس جھوٹ پر آج اس وقت اور بھی شرمندگی ہوتی ہے جب میرے بچے بھی مجھ سے وہی جھوٹ ویسے ہی بولتے ہیں جو کبھی مجھے بولنا پڑتا تھا یعنی "میں بالکل ٹھیک ہوں ” جبکہ میں بطور باپ ان کی آواز سے ان کی پریشانیوں کو محسوس کر لیتا ہوں۔کل میں بھی نہیں جانتا تھا اور آج وہ نہیں جانتے کہ کوئی ہے جو آپ کے جھوٹ کو سمجھتا ہے ؟ کوئی ہے جوآپ کی خاموشی کو سمجھتا ہے ؟ کوئی ہے جو آپ کی آواز کا دکھ اور خوشی بھانپ لیتا ہے ؟ہم خوشی اور کامیابی کی خبر دینا تو چاہتے ہیں مگر دکھ اور درد بانٹنا نہیں چاہتے۔اپنی جانب سے ہم بڑی ہوشیاری سے اپنی شکستوں اور ناکامیوں کو چھپا کر انہیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔مگر یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہی ماں باپ تو اس وقت بھی ہماری بات سمجھ لیتے تھے جب ہم بول نہیں سکتے تھے ؟ کبھی کبھی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ صرف چار لفظوں میں سمٹ آتا ہے "میں بلکل ٹھیک ہوں ” یہ وہ جھوٹ ہے جو میں دنیا سے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنے ماں باپ سے بولتا رہا ہوں۔اس ماں سے جس نے پہلی سسکی سے ہماری تکلیف پہچانی ،ہمارے بخار میں ساری رات جاگ کر گزاری ،ہماری خاموشی کے معنی ہماری زبان سے پہلے سمجھے اور ہماری آنکھوں آنے والے آنسوں کو گرنے سے پہلے ہی محسوس کرلیا۔اس باپ سے جس نے ہمارے چہرے اور آنکھوں کو پڑھ کر اپنی زندگی کی ہر خوشی بھی ہم پر وار دی۔شاید ان چھوٹے بہن بھائیوں سے بھی جو ساتھ پل کر جوان ہوے ۔مگر سب سے زیادہ یہ جھوٹ ماں باپ سے بولنا پڑتا تھا۔یہ جانتے ہوے بھی کہ ماں باپ سے بڑا کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جس سے ہم اپنی تکلیف چھپا سکیں اور ان سے بڑا کوئی ایساشخص بھی نہیں ہوتا جو ہماری چھپی ہوئی تکلیف کو پڑھ یا محسوس نہ کر سکے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی پریشانی چھپا لی مگر ماں باپ ہماری خاموشی کے پیچھے چھپی ہوئی آہٹ بھی سن لیتے ہیں۔ہماری ہنسی میں چھپی ہوئی اداسی بھی محسوس کرلیتے ہیں اور "میں بالکل ٹھیک ہوں "میں چھپا درد بھی جان لیتے ہیں۔بسا اوقات ہمارا جسم وہ بتا رہا ہوتا ہے جو ہماری زبان نہیں بتا پاتی۔جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں ،شہروں کے فاصلے بڑھ جاتے ہیں ،زندگی کے مسائل ہمیں اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔مگر ماں کی کی سماعت میں ہماری وہی آواز ہوتی ہے جو کبھی اس کی گود میں لیٹے ہوے اسے پکارتی تھی۔اور باپ ہمارے بولنے کے انداز کو ویسے ہی سمجھتا جیسے پہلی دفعہ بولنے کی آواز سن کر خوش ہوا تھا۔جب ماں زندہ تھی تو فون کی دوسری طرف سے پوچھتی تھی "بیٹا طبعیت تو ٹھیک ہے ؟ آواز کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی ہے ” اور ہم اپنی پریشانی کو مسکراہٹ کے پردے میں چھپا کر کہتے تھے کہ "امی ! میں بالکل ٹھیک ہوں آپ فکر نہ کریں شوگر ملزکے گرد وغبار سے گلا خراب ہو ہی جاتا ہے” وہ فورا” پوچھتیں ناشتہ کیا ہے ؟ کیا کھایا ہے ؟ اور ہم آئیں بائیں شائیں کرکے تسلی دیتے تھے۔امی جان شاید چپ ہو جا تی تھیں مگر یقین نہیں کرتی تھی وہ جان لیتی تھیں کہ میرے بیٹے کی آواز کیوں بدلی ہوئی ہے کیونکہ ماں لفظ نہیں سنتی جواب کے پیچھے چھپی خاموشی سنتی ہے۔ہم سمجھتے کہ ہم نے ماں کو دھوکہ دے کر بات چھپا لی ہے مگر حقیقت میں ہم صرف اپنے دل کو تسلی دے رہے ہوتے تھے کہ ہماری پریشانی ماں تک نہیں پہنچی۔ گلے میں درد ہو ،آواز میں تھکن ہو ،دل کسی بوجھ تلے دبا ہو ،جیب خالی ہو یا آنکھوں میں نمی ہو یا پھر زندگی کسی مشکل موڑ پر کھڑی ہو امی جان سے بات کرتے ہوے ہماری زبان ایک ہی جملہ دہراتی "امی ! میں بالکل ٹھیک ہوں ” جب اباجی سے ملتے تو وہ ہمارے بات کرنے کے اور چہرے کے انداز پہچان لیتے اور پوچھتے کیا کوئی دفتری پریشانی ہے ؟ ماں ہم سے کھانے پینے کا پوچھتی اور اباجی کہتے پہلی مرتبہ گھر سے دور ملازمت کے مسائل مجھے پتہ ہیں اور پھر ماں چلتے ہوے مجھے گڑ کے لڈو بنا کردیتی اور کہتی مجھے پتہ ہے تمہیں وہاں ناشتہ نہیں ملتا روز صبح یہ لڈو کھا کر دفتر جایا کرو اور اباجی کہتے کہ "ڈٹ کر رہو ابھی تمہارا باپ زندہ ہے۔دل نہیں لگتا تو ملازمت چھوڑ دو ” تب محسوس ہوتا کہ ماں باپ بغیر بتاے ہی سب کچھ جانتے ہیں۔یہ حوصلہ واقعی ایک باپ ہی دے سکتا ہے۔امی جان میرے دھلائی کے لیے لاے میلے کپڑوں کے نشان دیکھ کر میرے پورے حالات جان لیتی تھیں کہ اس دوران میں نے کیا کھایا اور کیسا کھایا ؟ وہ جان لیتی تھیں کہ میں کتنے دن سے نہیں نہایا اور میرے دن کیسے گزرے ؟ ماں باپ کو دھوکہ دینا آسان نہیں ہوتا۔ہم صرف اپنی زبان کو دھوکہ دے سکتے ہیں ماں کے دل کو نہیں۔زندگی کی عجب ستم ظریفی یہ ہےکہ بچپن میں ہم ماں باپ کی انگلی پکڑ کر چلتے ہیں اور جوانی میں اپنی انگلی چھڑا کر کہتے ہیں کہ ” آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہے ،میں سب سنبھال لوں گا ” مگر ماں باپ کے لیے ہم کبھی بڑے نہیں ہوتے۔ ہم چاہے کتنے ہی بڑے عہدے پر پہنچ جائیں، کتنی ہی بڑی گاڑی میں بیٹھ جائیں، دنیا ہمیں کتنا ہی کامیاب انسان کیوں نہ سمجھنے لگے، ماں باپ کی نظر میں ہم وہی بچے رہتے ہیں جو کبھی بخار میں اس کی گود میں لیٹے تھے۔ اور شاید اسی لیے ماں باپ کو سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب اس کا بچہ تکلیف میں ہو اور اسے خبر بھی نہ ہو۔ آج اگر آپ کے ماں باپ زندہ ہیں تو کبھی اس کے سامنے اپنی کمزوری تسلیم کرکے دیکھیں۔اور پھر کہہ دیں کہ "آج میں ٹھیک نہیں ہو ں ” یقین کیجیے، شاید مسئلہ حل نہ ہو، مگر دل کا بوجھ ضرور ہلکا ہوجائے گا۔ اور اگر ماں باپ اس دنیا میں نہیں رہے تو پھر یہ جملہ دل میں اٹھتا ہے اور وہیں دم توڑ دیتا ہےکہ "آج میں بالکل ٹھیک نہیں ہوں کاش آپ زندہ ہوتے تو میں آپ سے کہہ سکتا ” ماں باپ کو ہم نے زندگی بھر دھوکہ دیا کہ "میں بالکل ٹھیک ہوں”تاکہ ان کی تسلی اور ہمارا بھرم قائم رہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ کے جانے کے بعد انسان کو پہلی بار معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس شخص کے سامنے اپنی ساری شکستیں رکھ سکتا تھا۔ ماں باپ صرف وہ نہیں جو ہماری بیماری پہچان لیتے ہیں بلکہ ماں باپ وہ ہیں جن کے سامنے ہمیں ٹھیک ہونے کا جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کاش! ماں باپ کے ہوتے ہوئے ہم یہ راز سمجھ جائیں کہ دنیا سے اپنی کمزوری چھپانا بہادری ہوسکتی ہے، مگر ماں باپ کے سامنے اپنے آنسو چھپا لینا کبھی کبھی اپنی ہی محرومی کا آغاز ہوتا ہے۔ ماں باپ سے "میں ٹھیک ہوں” کہنا چھوڑ دیجیے؛ کبھی کبھی انہیں یہ بھی بتا دیجیے کہ "آج آپ کی بہت یاد آ رہی ہے”۔ کیونکہ ماں باپ کو شاید ہماری ہر تکلیف کا علاج تو معلوم نہ ہو، مگر اس کی آواز سن کر دل کو جو سکون ملتا ہے اس کا کوئی دوسرا نام نہیں۔اپنے دکھ ضرور بانٹیں اپنے دل کی بات ضرور کریں تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہو سکے۔آئیں پشت در پشت بولے جانے والے اس جھوٹ سے باہر نکلیں اگر ماں باپ نہیں تو اپنے بڑے بھائی اور بہن سےہی اپنا دکھ ضرور بانٹیں۔جھوٹ مت بولیں کہ "میں بالکل ٹھیک ہوں ” اگر آپکو والدین جیسی نعمت حاصل ہے تو ان کے پاس بیٹھیں اور اپنے دکھ اور خوشیاں کھل کر بتائیں ،ان کی باتیں سنیں ،ان کے چہرے کی مسکراہٹ کا سبب بنیں اور ان کی دعائیں لیں کیونکہ دنیا کی تمام کامیابیاں اور خوشیاں ایک طرف اور ماں باپ کی دل سے نکلی دعا ایک طرف ہوتی ہے جو خوشیاں دوبالا اور دکھ دور کر دیتی ہے۔انہیں گلے لگائیں ،ہاتھ چومیں اور سچ بولیں کہ آپ ان سےبہت محبت کرتے ہیں۔






