ڈینگی اور ہماری اجتماعی غفلت
محمد محسن اقبال
انسان شاید دنیا کی واحد مخلوق ہے جو خطرے کو دیکھ کر بھی اکثر اس وقت تک بے فکر رہتی ہے جب تک خطرہ اس کے دروازے پر دستک نہ دے۔ ہم طوفان آنے سے پہلے چھت کی دراڑیں نہیں بھرتے، بیماری سے پہلے اپنی عادات نہیں بدلتے، حادثے سے پہلے راستہ محفوظ نہیں کرتے اور بحران آنے سے پہلے تیاری کو ضروری نہیں سمجھتے۔ پھر جب مصیبت آنکھوں کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے تو ہم پوری قوت سے اس کا مقابلہ کرنے لگتے ہیں۔ مگر قومیں محض ردِعمل سے ترقی نہیں کرتیں۔ قوموں کی بصیرت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ آنے والے خطرے کی چاپ کتنی دور سے سن لیتی ہیں اور اس سے پہلے کتنی دانائی سے اس کی راہ روک لیتی ہیں۔پاکستان میں ڈینگی کی بار بار واپسی اسی اجتماعی کمزوری کی ایک تلخ داستان ہے۔ یہ بیماری ہمارے لیے کوئی اجنبی نام نہیں۔ اس نے ہمارے شہروں کی گلیاں دیکھی ہیں، ہمارے اسپتالوں کے بستر بھرے ہیں، گھروں میں خوف اتارا ہے، خاندانوں کے معمولات برباد کیے ہیں اور کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیے ہیں۔ ہم اس کے موسم سے واقف ہیں، اس کی افزائش کے مقامات جانتے ہیں، اس کے پھیلاو¿ کے اسباب سے آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے سامنے بند باندھنے کے لیے کیا کچھ کرنا ضروری ہے۔ ہمارے پاس تجربہ ہے، منصوبے ہیں، نگرانی کے نظام ہیں، طبی ہدایات ہیں اور سرکاری اداروں کی ایک پوری مشینری موجود ہے۔ پھر بھی ہر سال ڈینگی یوں نمودار ہوتا ہے جیسے ہم نے اسے پہلی بار دیکھا ہو۔یہی سوال ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے: آخر ہماری معلومات عمل کا روپ کیوں نہیں دھارتیں؟ڈینگی کا خطرہ پورے سال موجود رہ سکتا ہے، لیکن مون سون کے بعد اس کی شدت میں عموماً اضافہ ہو جاتا ہے۔ ستمبر سے نومبر تک کا زمانہ خاص طور پر حساس ہوتا ہے اور بعض اوقات دسمبر کے ابتدائی دن بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ جولائی اور اگست کی بارشیں جب رخصت ہوتی ہیں تو اپنے پیچھے جگہ جگہ پانی کے چھوٹے چھوٹے ذخیرے چھوڑ جاتی ہیں۔ یہی ٹھہرا ہوا پانی ایڈیز مچھر کے لیے افزائش کا میدان بن جاتا ہے۔ کسی چھت پر پڑا ہوا پرانا ٹائر، صحن میں رکھا گملا، ایئر کولر کا پانی، فریج کی ٹرے، کوئی کھلا برتن، بند نالی یا گلی کے کسی گوشے میں جمع بارش کا پانی بظاہر معمولی چیز ہے، مگر یہی معمولی غفلت بیماری کے ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہمیں یہ سب معلوم ہے۔موسم کے بدلنے سے پہلے وارننگ جاری ہوتی ہے۔ صحت کے ادارے خبردار کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو ہدایات دی جاتی ہیں۔ منصوبے بنتے ہیں۔ اجلاس ہوتے ہیں۔ مگر ہماری قومی عادت شاید اب بھی یہی ہے کہ خطرے کو اس وقت سنجیدہ لیا جائے جب وہ اعداد و شمار بن کر سامنے آ جائے۔جب مریض کم ہوں تو ڈینگی ہماری ترجیحات میں کہیں پیچھے رہتا ہے۔ جب تعداد بڑھتی ہے تو اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جب اسپتالوں کے بستر کم پڑنے لگتے ہیں تو ہنگامی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ جب ٹیلی وڑن کی اسکرینوں پر بیمار بچوں، پریشان ماو¿ں اور اسپتالوں میں انتظار کرتے لوگوں کے مناظر دکھائی دیتے ہیں تو فوگنگ مشینیں گلیوں میں نکل آتی ہیں۔ مگر تب تک مچھر اپنا بہت سا کام کر چکا ہوتا ہے۔فوگنگ اپنی جگہ ایک مفید ہنگامی اقدام ہے، مگر اسے پیش بندی کا نعم البدل سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے آگ لگنے کے بعد پانی کا انتظام کر کے یہ سمجھ لیا جائے کہ آئندہ آگ لگنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ کیڑے مار دوا کا دھواں ٹوٹی ہوئی نالی کو درست نہیں کرتا، گلی میں پڑے پرانے ٹائر کو نہیں اٹھاتا، کسی برتن میں جمع پانی کو خشک نہیں کرتا اور نہ ہی شہریوں کے اندر احتیاط کی وہ عادت پیدا کرتا ہے جو ڈینگی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار ہے۔مچھر کے خلاف اصل جنگ مشینوں سے نہیں، شعور، صفائی اور مسلسل نگرانی سے جیتی جاتی ہے۔ریاست کی ذمہ داری اپنی جگہ مسلم ہے۔ حکومت کو مو¿ثر نگرانی، صفائی، نکاسی? آب، کچرے کے مناسب انتظام، شہری منصوبہ بندی اور اسپتالوں کی پیشگی تیاری کو یقینی بنانا ہوگا۔ لیکن حکومت ہر گھر کے دروازے پر ہر صبح کھڑی نہیں ہو سکتی۔ کوئی انتظامیہ ہر گملے، ہر کولر اور ہر پرانے ٹائر کی نگرانی نہیں کر سکتی۔ ڈینگی کے خلاف اصل جنگ گھر کی دہلیز سے شروع ہوتی ہے۔ایک چھوٹا سا کھلا برتن، جسے گھر کا فرد شاید بے ضرر سمجھ کر نظرانداز کر دے، مچھروں کی افزائش کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ ایک پرانا ٹائر، جسے کئی ماہ سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا ہو، بیماری کا مرکز بن سکتا ہے۔ ایک بند نالی پورے محلے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈینگی کے خلاف عوامی شرکت کوئی رسمی تقاضا نہیں، بلکہ اس جنگ کی بنیادی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف اور خشک رکھنا ہوگا، پانی کے برتن ڈھانپنے ہوں گے، بارش کا پانی جمع کرنے والی اشیا کو ہٹانا ہوگا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ مچھر سے بچاو¿ کے لیے مناسب لباس، ریپیلنٹس، کھڑکیوں پر جالیاں اور مچھر دانیاں بھی اہم ہیں، خصوصاً اس لیے کہ ایڈیز مچھر عموماً دن کے اوقات میں زیادہ سرگرم رہتا ہے۔لیکن عوام سے ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہوئے ریاست اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتی۔ شہریوں سے یہ کہنا کافی نہیں کہ اپنے گھروں کے آس پاس پانی جمع نہ ہونے دیں، جبکہ شہر کی گلیاں کچرے سے بھری ہوں، نالیاں ابل رہی ہوں اور نکاسی? آب کا نظام ناکافی ہو۔ ڈینگی صرف صحت کا مسئلہ نہیں؛ یہ شہری نظم و نسق، صفائی، پانی کے انتظام، ماحولیاتی تحفظ اور شہری منصوبہ بندی سے بھی جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ہمیں اپنی پالیسی میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ ڈینگی کو ہر سال آنے والی ایک ”موسمی ہنگامی صورتِ حال“ سمجھنے کے بجائے اسے مستقل عوامی صحت کا چیلنج تصور کرنا ہوگا۔ تیاری مون سون کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے شروع ہونی چاہیے۔ اضلاع کی ذمہ داریاں واضح ہوں، اعداد و شمار قابلِ اعتماد ہوں، مچھروں کے لاروے کی نگرانی اور افزائش گاہوں کا خاتمہ مستقل عمل ہو، موسم کی وارننگ کے ساتھ عملی اقدامات خود بخود متحرک ہوں اور اسپتال اس وقت تیار نہ ہوں جب وارڈ بھر جائیں بلکہ اس سے پہلے تیار ہوں۔ہماری ایک اور بڑی کمزوری اجتماعی فراموشی ہے۔ سانحہ سامنے ہو تو ہم اسے یاد رکھتے ہیں، اس پر گفتگو کرتے ہیں، افسوس کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں؛ لیکن خطرہ ٹلتے ہی اس کے اسباق بھی ہماری یادداشت سے محو ہونے لگتے ہیں۔ سردیاں آتی ہیں، مچھروں کی تعداد کم ہوتی ہے اور ڈینگی ہماری ترجیحات سے نکل جاتا ہے۔ پھر اگلی بارش آتی ہے اور ہم ایک بار پھر اسی مقام پر کھڑے ہوتے ہیں۔دانش مند قومیں ماضی کے دکھ کو مستقبل کی حفاظت میں بدل دیتی ہیں۔پاکستان کو بھی یہی کرنا ہوگا۔
موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، ناقص نکاسی آب، غیر منظم کچرا اور بدلتے ہوئے موسمی حالات نے مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ مگر یہ حالات ہمارے لیے بے بسی کا اعلان نہیں، بہتر نظام کی دعوت ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ہر سال بحران کا تعاقب کریں گے یا بحران سے پہلے اس کا راستہ روکیں گے۔ڈینگی کے معاملے میں ہمارے پاس نہ معلومات کی کمی ہے، نہ تجربے کی، نہ انتباہات کی۔ ہمیں دشمن معلوم ہے، اس کے ٹھکانے معلوم ہیں، اس کا موسم معلوم ہے اور اس سے بچاو¿ کے طریقے بھی معلوم ہیں۔ کمی اگر ہے تو صرف اس مستقل عزم کی جو علم کو عمل میں بدل دے۔اب ہمیں ایک اور کمیٹی، ایک اور اجلاس، ایک اور ہنگامی نعرے یا بحران گزرنے کے بعد ہونے والی ایک اور فوگنگ مہم کی نہیں، بلکہ تسلسل، نظم و ضبط، اجتماعی شعور اور بروقت فیصلے کی ضرورت ہے۔آخرکار کسی قوم کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ وبا پھیلنے کے بعد اس نے کتنے مریضوں کا علاج کیا۔ اصل کامیابی تو یہ ہے کہ اس کی بروقت احتیاط، مو¿ثر حکمتِ عملی اور اجتماعی ذمہ داری کے باعث کتنے لوگ مریض بننے سے محفوظ رہے۔ہمارے اسپتالوں کے خالی بستر شاید ہماری سب سے بڑی کامیابی کی علامت ہوں۔کیونکہ بیماری کا علاج یقیناً ضروری ہے، مگر بیماری کو آنے ہی نہ دینا اس سے کہیں بڑی دانش مندی ہے۔اور ڈینگی ہمیں ہر سال یہی یاد دلانے آتا ہے کہ جو قوم خطرے کا انتظار کرتی ہے، وہ صرف نقصان کا حساب رکھتی رہ جاتی ہے؛ جو قوم خطرے سے پہلے جاگ جاتی ہے، وہ اپنے مستقبل کی حفاظت کر لیتی ہے۔






