مکہ معاہدہ، پاکستان اور ترکی کا امتحان
بخت یوسفزئی
ریاض میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ہنگامی اجلاس نے خطے کی بدلتی صورتحال میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور ترکی کا کردار صرف سعودی عرب کے دفاع تک محدود رہے گا یا دونوں ممالک یمن کی جنگ میں بھی براہ راست شامل ہوں گے۔ریاض اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں سمیت سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ تاہم اعلامیے میں حوثیوں یا یمن کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، جو ایک اہم سفارتی پہلو ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ اس صورتحال نے یمن کے پہلے سے پیچیدہ بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔یمن کی جنگ اب صرف ایک داخلی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب، ایران، خلیجی ممالک اور بحیرہ احمر کی سیکیورٹی اس تنازع سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔مکہ دفاعی معاہدہ اس وقت پہلی مرتبہ ایک بڑے عملی امتحان سے گزر رہا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مشترکہ دفاع اور ایک دوسرے کی سیکیورٹی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔اس معاہدے کا بنیادی مقصد کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی صلاحیت اور دشمن کے لیے مو¿ثر روک تھام پیدا کرنا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں دفاع اور جنگ کے درمیان فرق انتہائی اہم ہوگیا ہے۔ریاض اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں طے شدہ فوجی صلاحیتوں اور فورسز کی تیز رفتار تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کا فیصلہ کیا۔ تاہم فوجیوں کی تعداد اور ان کی مخصوص ذمہ داریوں کی تمام تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی اور ترک فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد کیا ہوگا؟ اگر مقصد سعودی سرزمین کا دفاع ہے تو اسے یمن میں براہ راست جنگ میں شمولیت نہیں سمجھا جائے گا۔ابتدائی طور پر ان فوجیوں کا کردار فضائی دفاع، نگرانی، انٹیلی جنس، ڈرونز کے خلاف کارروائی اور حساس تنصیبات کے تحفظ تک محدود رہ سکتا ہے۔ اس سے سعودی عرب کو اپنی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر حساس ہے۔ اسلام آباد کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں اور پاکستانی فوجی ماضی میں بھی سعودی عرب میں تربیت اور دفاعی ذمہ داریوں کے لیے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔لیکن پاکستان نے ماضی میں یمن کی جنگ میں براہ راست فوجی شمولیت سے گریز کیا ہے۔ 2015 میں بھی پاکستانی پارلیمان نے یمن کے تنازع میں براہ راست فوجی شرکت کے معاملے پر محتاط مو¿قف اختیار کیا تھا۔آج بھی پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج یہی ہے کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کی جائے، مگر اسے یمن کی ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کا حصہ نہ بننا پڑے۔پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واضح کیا ہے کہ پاکستانی اور ترک افواج کا کردار معاون نوعیت کا ہے، جبکہ عملی جنگی کارروائی سعودی افواج کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق نگرانی اور انٹیلی جنس میں تعاون شامل ہے۔ترکی کا کردار بھی اہم ہے۔ انقرہ ایک بڑی علاقائی فوجی طاقت ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات تیزی سے مضبوط ہوئے ہیں، لیکن اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ترک فوج یمن میں براہ راست کارروائی کرے گی۔اصل فرق سعودی عرب کے اندر دفاع اور یمن کے اندر حملے کے درمیان ہے۔ اگر پاکستانی یا ترک افواج سعودی حدود میں دفاعی کردار ادا کرتی ہیں تو یہ مکہ دفاعی معاہدے کی روح کے مطابق ہوگا۔لیکن اگر یہی فوجی صلاحیتیں یمن کے اندر حوثی اہداف کے خلاف استعمال ہونے لگیں تو صورتحال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ اس صورت میں پاکستان اور ترکی خود یمن کے تنازع کے براہ راست فریق بن سکتے ہیں۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا ذکر اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔ مقدس مقامات کی سیکیورٹی پاکستان اور ترکی دونوں کے لیے محض ایک عام دفاعی مسئلہ نہیں بلکہ انتہائی اہم مذہبی اور سیاسی معاملہ بھی ہے۔اگر سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اسلام آباد اور انقرہ پر مزید عملی کردار ادا کرنے کا دباو¿ بڑھ سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر مقدس مقامات کو براہ راست خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ پیدا ہو۔دوسری طرف پاکستان علاقائی امن اور سفارتی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب کے دفاع میں تعاون اور یمن کی جنگ میں براہ راست شمولیت، دونوں الگ معاملات ہیں، اور اسلام آباد کے لیے اس فرق کو برقرار رکھنا اہم ہوگا۔ترکی بھی اپنے علاقائی مفادات کو سامنے رکھے گا۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ انقرہ مشرق وسطیٰ میں اپنے وسیع سفارتی اور سیاسی تعلقات کو بھی متاثر نہیں کرنا چاہے گا۔اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ عملی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ تینوں ممالک مشترکہ دفاعی رابطہ کاری اور سعودی عرب کی سیکیورٹی مضبوط بنانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ یمن کی جنگ مزید پھیلنے کی صورت میں پاکستان اور ترکی اپنی دفاعی حدود کہاں تک رکھتے ہیں۔ کیا ان کا کردار سعودی سرزمین اور مقدس مقامات کے دفاع تک محدود رہے گا، یا حالات انہیں یمن کے میدان جنگ تک لے جائیں گے؟فی الحال زیادہ محتاط اندازہ یہی ہے کہ پاکستان اور ترکی سعودی عرب کے دفاع، فضائی نگرانی، انٹیلی جنس اور دیگر معاون شعبوں پر توجہ دیں گے، نہ کہ براہ راست یمن کی زمینی جنگ میں داخل ہوں گے۔لیکن اگر جنگ کی شدت بڑھ گئی اور سعودی عرب کے اہم شہروں یا مقدس مقامات کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے تو صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ تینوں ممالک سعودی عرب کا دفاع بھی کریں اور خطے کو ایک وسیع جنگ میں جانے سے بھی روکیں۔






