پنجاب پولیس آپریشنز ونگ، اصلاحات اور نئی سمت
محمد ندیم بھٹی،
پنجاب پولیس کا آپریشنز ونگ صوبے میں امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام، حساس مقامات اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی، مذہبی و سیاسی اجتماعات کے دوران فول پروف انتظامات اور ہنگامی حالات میں فوری پولیس ردعمل کا بنیادی ذمہ دار ھے۔ پولیس کا یہ شعبہ براہِ راست عوامی تحفظ سے جڑا ھوا ھے، اس لئے اس کی کارکردگی کا اثر شہریوں کی روزمرہ زندگی پر بھی واضح طور پر پڑتا ھے۔ جدید دور میں آپریشنز ونگ کی ذمہ داریاں صرف نفری تعینات کرنے، ناکہ بندی یا کسی واقعے کے بعد پولیس فورس حرکت میں لانے تک محدود نہیں رھیں بلکہ اب اس شعبے سے ڈیٹا بیسڈ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور پیشگی جرائم کی روک تھام پر مبنی پولیسنگ کی توقع کی جاتی ھے۔پنجاب پولیس میں اصلاحات کی بات کی جائے تو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محمد علی نیکوکارا کی پیشہ ورانہ سوچ اور انتظامی تجربہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ھے۔ ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں پولیس اصلاحات، قانون کی حکمرانی، فوجداری انصاف کے نظام اور ادارہ جاتی بہتری جیسے موضوعات نمایاں رھے ھیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے ساتھ ان کے سابقہ تجربات نے بھی پولیس، قانون سازی، حکمرانی اور ادارہ جاتی شفافیت کے معاملات کو سمجھنے میں ان کی پیشہ ورانہ سوچ کو مزید وسعت دی۔ ان کے موجودہ اصلاحاتی نقط? نظر کو اسی وسیع تر ادارہ جاتی سوچ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔محمد علی نیکوکارا کی اصلاحاتی سمت کا بنیادی نکتہ یہ ھے کہ پولیسنگ صرف جرم ھونے کے بعد کارروائی تک محدود نہ رھے بلکہ جرم کے امکانات کو پہلے سے سمجھ کر اس کی روک تھام کی جائے۔ اگر کسی علاقے میں مسلسل ڈکیتی، راہزنی، چوری، گاڑی چھیننے یا دیگر جرائم ھو رھے ھیں تو پولیس کیلئے ضروری ھے کہ وہ صرف مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع نہ کرے بلکہ یہ بھی معلوم کرے کہ وارداتیں کن علاقوں، اوقات اور حالات میں زیادہ ھو رھی ھیں۔ یہی معلومات جرائم کی پیشگی روک تھام کیلئے عملی حکمت عملی بنانے میں مدد دیتی ھیں۔جدید آپریشنز ونگ کیلئے جرائم کی نقشہ بندی ایک اہم ضرورت ھے۔ ہر ضلع، ڈویڑن اور تھانے کی سطح پر جرائم کے ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کی جائے اور پولیس گشت، پٹرولنگ، ناکہ بندی اور دیگر وسائل کو اسی بنیاد پر استعمال کیا جائے۔ اگر کسی علاقے میں رات کے اوقات میں وارداتیں زیادہ ھوتی ھیں تو اس وقت پولیس کی موجودگی بڑھائی جائے۔ اگر کسی مخصوص روٹ پر راہزنی کے واقعات زیادہ ھیں تو وہاں موبائل پٹرولنگ اور نگرانی کو بہتر بنایا جائے۔ اس طرح محدود پولیس وسائل کو زیادہ مو¿ثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ھے۔آپریشنز ونگ میں کارکردگی کو بھی واضح اور قابلِ پیمائش اہداف سے منسلک کرنے کی ضرورت ھے۔ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کتنے مقدمات درج ھوئے یا کتنے ملزمان گرفتار کئے گئے۔ اصل سوال یہ ھے کہ متعلقہ علاقے میں جرائم کم ھوئے یا نہیں، پولیس کا رسپانس ٹائم بہتر ھوا یا نہیں، شہریوں کی شکایات کتنی جلد حل ھوئیں اور پولیس کی موجودگی نے جرائم کی روک تھام میں کیا کردار ادا کیا۔ اسی بنیاد پر ایس ایچ او، ڈی ایس پی، ایس پی اور دیگر فیلڈ افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔رسپانس ٹائم آپریشنز ونگ کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ ھو سکتا ھے۔ شہری جب پولیس کو کال کرتا ھے تو اسے سب سے پہلے فوری مدد کی ضرورت ھوتی ھے۔ اس لئے ہر ضلع میں پولیس رسپانس ٹائم کو مسلسل مانیٹر کیا جانا چاہئے۔ صرف اوسط وقت دیکھنے کے بجائے یہ بھی دیکھا جائے کہ شہری علاقوں، دیہی علاقوں، ہائی ویز اور دور دراز علاقوں میں پولیس کتنی تیزی سے پہنچتی ھے۔ جہاں رسپانس ٹائم زیادہ ھو وہاں وجوہات معلوم کرکے عملی اصلاحات کی جائیں۔سیف سٹی ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی کیمروں، پولیس ریکارڈ، ایمرجنسی کالز اور فیلڈ رپورٹس کو ایک مربوط نظام میں استعمال کرنے سے آپریشنز ونگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ھو سکتا ھے۔ تاہم ٹیکنالوجی کی اصل افادیت اسی وقت سامنے آتی ھے جب اس سے حاصل ہونے والی معلومات بروقت فیلڈ افسران تک پہنچیں اور ان معلومات کی بنیاد پر فوری کارروائی کی جائے۔ ڈیٹا صرف کمپیوٹر میں محفوظ رکھنے کیلئے نہیں بلکہ فیصلہ سازی اور جرائم کی روک تھام کیلئے استعمال ھونا چاہئے۔آپریشنز اور انویسٹی گیشن ونگ کے درمیان مضبوط رابطہ بھی انتہائی ضروری ھے۔ جرم کی روک تھام، گرفتاری اور تفتیش کو الگ الگ حصوں کی ذمہ داری سمجھنا پولیسنگ کے مجموعی نظام کو کمزور کر سکتا ھے۔ ایک مو¿ثر نظام میں آپریشنز ونگ فیلڈ انٹیلی جنس، جرائم کے ہاٹ سپاٹس، مشتبہ سرگرمیوں اور مطلوب ملزمان سے متعلق معلومات بروقت انویسٹی گیشن افسران تک پہنچائے جبکہ تفتیشی افسران بھی مقدمات کی پیش رفت اور مطلوب ملزمان کے بارے میں آپریشنز ونگ کو معلومات فراہم کریں۔ اس رابطے سے پولیس کارروائی زیادہ مربوط ھو سکتی ھے۔پراسیکیوشن کے ساتھ رابطہ بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ھے۔ پولیس کی محنت اس وقت مکمل نتیجے میں تبدیل ھوتی ھے جب تفتیش مضبوط ھو، شواہد درست انداز میں اکٹھے کئے جائیں اور مقدمہ عدالت میں مو¿ثر انداز سے پیش ھو۔ اس لئے آپریشنز، انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کے درمیان ادارہ جاتی رابطہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں ھونا چاہئے بلکہ باقاعدہ کوآرڈی نیشن کا حصہ ھونا چاہئے۔پولیس اسٹیشن کی سطح پر اصلاحات بھی بنیادی اہمیت رکھتی ھیں۔ ایس ایچ او کی کارکردگی صرف مقدمات کے اندراج یا گرفتاریوں کی تعداد سے نہیں بلکہ علاقے کے مجموعی امن، عوامی رابطے، شکایات کے ازالے اور جرائم میں کمی سے جانچی جانی چاہئے۔ ہر تھانے کیلئے چند واضح کارکردگی اشاریے مقرر کئے جائیں اور ماہانہ بنیادوں پر ان کا جائزہ لیا جائے۔ جو تھانہ جرائم کی روک تھام، عوامی شکایات اور پولیس رسپانس میں بہتر کارکردگی دکھائے، اسے سراہا جائے جبکہ مسلسل ناقص کارکردگی کی وجوہات معلوم کرکے اصلاحی اقدامات کئے جائیں۔پولیس اہلکاروں اور افسران کی تربیت بھی اصلاحات کا بنیادی حصہ ھے۔ جدید جرائم، سائبر کرائم، جدید ٹیکنالوجی، ہجوم کو کنٹرول کرنے، حساس تنصیبات کی سکیورٹی، دہشت گردی کے خطرات اور بحران سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ضروری ھے۔ فیلڈ پولیس کو صرف روایتی طریقہ کار تک محدود رکھنے کے بجائے جدید پولیسنگ، انسانی حقوق، شہریوں سے بہتر رویے اور پیشہ ورانہ فیصلہ سازی کی تربیت بھی دی جانی چاہئے۔اسی طرح بڑے آپریشن، احتجاج، مذہبی اجتماع یا سکیورٹی ڈیوٹی کے بعد پوسٹ آپریشن ریویو کا نظام بھی مو¿ثر بنایا جا سکتا ھے۔ ہر اہم کارروائی کے بعد یہ دیکھا جائے کہ کہاں کامیابی ملی، کہاں کمی رھی، وسائل کہاں کم پڑے اور آئندہ کیلئے کیا بہتری ممکن ھے۔ اس عمل سے پولیس ادارہ اپنی غلطیوں سے سیکھ سکتا ھے اور ہر اگلی کارروائی پہلے سے زیادہ مو¿ثر بنائی جا سکتی ھے۔محمد علی نیکوکارا کی اصلاحاتی سمت اس حوالے سے قابلِ تحسین ھے کہ پولیسنگ کو صرف روایتی کارروائی کے بجائے ادارہ جاتی بہتری، پیشگی جرائم کی روک تھام، ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور فیلڈ مینجمنٹ سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ھے۔ ایسے افسران کی کاوشوں کو سراہنا چاہئے، تاہم اصلاحات کی اصل کامیابی اس وقت ثابت ھو گی جب ان کا مثبت اثر تھانے، سڑک، بازار اور عام شہری تک پہنچے گا۔پنجاب پولیس جیسے بڑے ادارے میں اصلاحات کسی ایک حکم یا ایک افسر کی کوشش سے مکمل نہیں ھوتیں۔ اس کیلئے مسلسل نگرانی، میرٹ، احتساب، تربیت، وسائل، ٹیکنالوجی اور مضبوط فیلڈ کمانڈ ضروری ھے۔ اصلاحات کا ایک اہم اصول یہ بھی ھونا چاہئے کہ اچھا کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے جبکہ ناقص کارکردگی پر ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے شفاف احتساب کا نظام قائم ھو۔پنجاب کے عوام کو ایسی پولیس چاہئے جو صرف واردات کے بعد نہ پہنچے بلکہ واردات کو روکنے کیلئے پہلے سے موجود ھو۔ ایسی پولیس جو شہری کی شکایت کو بوجھ نہ سمجھے بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھے۔ ایسی پولیس جو جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا، انٹیلی جنس اور پیشہ ورانہ تربیت کو استعمال کرتے ھوئے جرائم کے خلاف مو¿ثر حکمت عملی بنائے۔ آپریشنز ونگ کی اصل کامیابی اسی وقت ھو گی جب شہری محسوس کریں کہ پولیس ان کے قریب ھے، بروقت پہنچتی ھے، قانون سب کیلئے برابر ھے اور پولیسنگ کا مقصد صرف کارروائی نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ھے۔یہی وہ سمت ھے جس میں پنجاب پولیس کے آپریشنز ونگ کو مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ھے۔ اصلاحات کا مقصد صرف پولیس کے اندر نظام تبدیل کرنا نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ھونا چاہئے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا بیسڈ پولیسنگ، فوری رسپانس، مو¿ثر نگرانی، بہتر تفتیش اور شفاف احتساب کو ایک مربوط نظام میں تبدیل کر دیا جائے تو پنجاب پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ھے۔ محمد علی نیکوکارا کی اصلاحاتی سوچ کو اسی وسیع تر مقصد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو آپریشنز ونگ ایک زیادہ فعال، جوابدہ اور عوام دوست پولیسنگ ماڈل کی بنیاد بن سکتا ھے۔






