پٹرول، حکومت کا ہونہار اور کماو پتر
تحریر : رانا ذوالفقار
پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ پیٹرولیم لیوی ہے اور یہ کوئی عام ٹیکس نہیں، یہ نان ٹیکس ریونیو ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سارا پیسہ سیدھا وفاقی حکومت کی جیب میں جاتا ہے* ، اسی لیے حکومت اس پر زیادہ انحصار کرتی ہے، اس میں حکومت کو اور بھی بہت فائدے ہیں جو یہاں نہیں بتا سکتا۔۔ لیکن میرا کہنے کا مقصد ہے کہ ابھی ہر لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 80 روپے لیوی لی جا رہی ہے۔اگر اس وقت پٹرول 393.75 روپے اور ڈیزل 422.08 روپے فی لیٹر یا جو بھی ردوبدل ہو تو اس میں سے 80 روپے تو سیدھا سیدھا لیوی کے کھاتے میں جاتا ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم لیوی (پیٹرولیم ڈویلپمنٹ سرچارج) کا قانون 1961ئ میں نافذ کیا گیا تھا، جسے کہا جاتا ہے۔لیکن کہا جارہا ہے کہ یہ لیوی باضابطہ طور پر یکم اگست 1959ئ سے نافذ العمل ہوئی پھر باقاعدہ آرڈیننس پاس ہوا۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے رواں مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ میں 144 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.4 ارب روپے زیادہ ہے ، ہم تو مانتے ہیں کہ تنخواہ دار طبقہ بھی حکومت کا کماو¿ پتر ہے لیکن "پٹرول” بھی کم نہیں ہے کیونکہ یہ کماو¿ کے ساتھ ساتھ ہونہار بھی ہے یعنی یہ حکومت سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرتا خود کما کر صرف دیتا ہے ، سرکاری ملازمین کی طرح اس کی کمائی میں پینشن کی ٹینشن بھی نہیں۔ مالی سال 2024-25 کے پہلے 3 ماہ میں حکومت نے لیوی سے *371 ارب 60 کروڑ روپےکمائے، جو پچھلے سال سے 110 ارب زیادہ تھے۔ حکومت نے بجٹ میں لیوی سے *1,680 ارب روپے یعنی 1.68 کھرب روپے کمانے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ پاکستان کی کل آمدنی کا تقریباً 10% ہے- اس کے علاوہ کاربن لیوی کے نام پر بھی 10 ارب سے زیادہ الگ وصول کیا گیا۔اور پھر جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت لیوی کم نہیں کرتی بلکہ اسی 80 روپے کو برقرار رکھتی ہے، اور ساتھ ہی سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی بھی لگتی ہے۔ تو عوام کو قیمت زیادہ دینی پڑتی ہے لیکن حکومت کی آمدنی کم نہیں ہوتی اسی وجہ سے جماعت اسلامی نے لانگ مارچ کیا اور مطالبہ کیا کہ 80 روپے فی لیٹر لیوی ختم کی جائے۔ حکومت نے 1 سال کے لیے لیوی معطل کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن اگر ایسا ہوا بھی تو اس سے 1.45 سے 1.50 کھرب روپے کا خسارہ ہوگا جسے پورا کرنے کے لیے حکومت کو لگڑری گاڑیوں پر نیا ٹیکس لگانا پڑے گا۔ویسے تو اور بھی بہت سارے کماو¿ پتر حکومت نے ” پال” رکھے ہیں لیکن اب آپ خود سوچیں کہ پٹرول بھی کماو پتر ہے یا نہیں ؟۔ لیکن دوسری طرف مہنگائی کی ماری عوام کی نظر میں یہ واحد کماو¿ پتر ہوگا جس کی کمائی پر عوام نالاں اور پنجابی والی گالاں بھی ہوتے ہیں۔






